جمہوریت جس کا نام ہے - عمر ابراہیم

آج ہمیں جمہوریت سے بے حساب عقیدت ہے۔ سب مسلمان سیاستدان بلاامتیاز ایک بیانیے پر ایک ہیں، وہ بیانیہ ہے جمہوریت کا۔ اس قدر مماثلت ومشابہت ہے کہ مشتبہ و مشکوک ہے۔ سب سارے مسائل کا حل جمہوریت میں دیکھتے ہیں۔ اگرپاکستانی سیاست کے تناظر میں کامیاب سیاستدانوں کا کردار دیکھا جائے اورجمہوریت سے عقیدت کا مشاہدہ کیا جائے توچند سوالات سامنے آتے ہیں۔ یہ سوالات جوابات سامنے لاتے ہیں۔ یہ علم ہوتا ہے کہ جمہوریت آخر اس قدر مقدس کیوں ہے؟ سوالات کچھ اس طرح ہوسکتے ہیں کہ

بدکردار اور بدعنوان سیاستدان جمہوریت کیوں پسند کرتے ہیں؟

پاکستان کے کرپٹ سیاستدان کیوں صبح شام جمہوریت کی مالا جپتے ہیں؟

کسی بھی مسلمان ملک میں جمہوریت کی ضرورت سب سے زیادہ باورکروائی جاتی ہے؟ کیوں؟

سب سے پہلے جمہوریت کی اصطلاح سمجھتے ہیں۔ یہ یونانی اصطلاح ہے، یعنی یونانی تہذیب سے ماخوذ ہے۔ dēmokrata کا مطلب ہے 'لوگوں کی حاکمیت اعلٰی'۔ پولیٹیکل سائنٹسٹ لیری ڈائمنڈ نے جمہوریت کے چند بنیادی عناصر بیان کیے۔ ایک ایسا سیاسی نظام جس میں حکومت صاف شفاف انتخابات کے ذریعے اقتدارمیں لائی جاسکے یا ہٹائی جاسکے۔ عوام کی سیاست میں بھرپور شرکت ہو۔ تمام شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اس سادہ اور بنیادی تعریف سے چند سوالات نکلتے ہیں۔ 'لوگوں کی حاکمیت اعلیٰ' سے کیا مراد ہے؟ انتخابات کا طریقہ کار کیا ہے؟ انتخاب کا کیا معیار متعین ہو؟ اس معیار کا ماخذ کیا ہو؟ عوام کی سیاست میں شرکت کس طرح ہو؟ ووٹر اور امیدوار کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہو؟ انسانی حقوق کا ماخذ کیا ہو؟ ان حقوق کے تحفظ سے کیا مراد ہے؟

اب کیونکہ یونان سے امریکا تک جمہوریت کے مذکورہ سوالات کے کئی جوابات دیے گئے۔ جن کا سیدھا سادہ لب لباب یوں ہوسکتا ہے کہ انسان کائنات کا مرکز و محور ہو۔ لوگ فہم وخواہش کے مطابق مکمل آزادی سے زندگی گزاریں۔ کسی بالادست قوت کے تابع نہ ہوں۔ ہرشخص اپنے فہم کے مطابق کسی بھی امیدوارکے انتخاب کے لیے بااختیار ہو۔ انتخاب کا معیار مغربی اقدار پر ہو۔ مغرب کی بنیادی قدر آزادی ہے، یہ کسی الٰہیات یا آفاقی اخلاقیات کی پابند نہیں۔ ووٹر اور امیدوار کے درمیان تعلق کی نوعیت لسانی، نسلی، علاقائی اور قبائلی ہوسکتی ہے۔ جمہوریت کی تاریخ میں یہی نوعیتیں کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق سے مراد مغرب کے مقرر کردہ حقوق ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی حق آزادی ہے۔ یہ آزادی ہر آسمانی ہدایت اور حکم سے آزادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اور جمہوریت کا حسن مزید نکھر گیا - حبیب الرحمن

اب پہلے سوالات کے جوابات قدرے آسان ہوگئے ہیں۔ بد کردارمسلمان سیاستدانوں کے لیے جمہوریت میں سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ ووٹ کے لیے اعلیٰ کردار پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ لسانیت، قومیت، علاقائیت، قبائلیت، اور دیگر وابستگیوں کی بنیاد پر ووٹ مانگ لیتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کا وزیراعلیٰ سندھی نہیں بن سکتا۔ سندھ کا وزیراعلیٰ پشتون نہیں بن سکتا۔ ایسی صورت میں کسی اعلیٰ کردار مسلمان سیاستدان کے لیے کہیں بھی وزیراعلیٰ بننا کتنا ممکن ہوسکتا ہے؟

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سیاستدان جمہوریت کی مالا جپتے ہیں۔ جس طرح جمہوریت وحدت ملت کوپارہ پارہ کرتی ہے، وہ بیمثال ہے۔ جہاں جہاں کا ووٹ ہوگا، وہاں وہاں کی وابستگی اور تعصب کسی طور بڑے اتحاد میں ضم نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت کسی بھی امیدوار کے لیے اس سوال کا امکان ہی پیدا نہیں کرتی کہ 'لوگو! یہ امیدوارایک نیک نام مسلمان ہے امانت دار ہے صادق ہے، کیا آپ اسے منتخب کریں گے؟'۔ جمہوریت میں اعلیٰ مسلمان کردار کی کوئی قانونی وقعت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب اور مغرب زدہ سیاستدان مسلمان ملکوں میں جمہوریت چاہتے ہیں۔ یہ جمہوریت اپنے اصولوں اور اقدارمیں اسلامی ریاست کا کوئی امکان نہیں رکھتی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی سیاست کیا ہے؟ یہ خالصتاً قرآنی اصطلاح خلافت و نیابت پر مبنی ہے۔ یہاں حاکمیت اعلیٰ 'اللہ' کی ہے۔ خلافت و نیابت کا انتخاب مجلس شورٰی کا کام ہے۔ یہ مجلس شورٰی اعلیٰ مسلمان کردارکی بنیاد پر منتخب افراد کا نام ہے۔ اس کردار کا معیار قرآن و حدیث کی تعلیمات ہیں۔

اسلامی ریاست کا خاکہ کیا ہوسکتا ہے؟ مسلمان اکثریت کا ملک اس سوال سے بے نیاز ہونا چاہیے کہ ریاست کے قوانین اور آئین کیا ہو؟ کیونکہ مسلمان صرف اسلامی قوانین پر عملدرآمد کے مجاز ہیں۔ ہرمسلمان ریاست کے لیے یہ فطری ہے کہ وہ اسلامی ہو۔ اسلامی ریاست میں مسلمان قرآنی احکامات کے پابند ہیں۔ اسلامی قوانین کے تابع ہیں۔ وہ کسی بھی امیدوار کو کسی بھی دوسری وابستگی کی بنیاد پر منتخب نہیں کرسکتے۔ یہاں معیار انتخاب صرف اعلیٰ کردار ہے۔ یہاں تمام حقوق اسلام کے عطا کردہ ہیں۔ مسلمان کے سوا ہر پہچان ثانوی ہے۔ اسلامی ریاست و سیاست میں قوم پرستی، نسل پرستی، علاقائیت، اور قبائلیت کی کوئی وقعت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اور جمہوریت کا حسن مزید نکھر گیا - حبیب الرحمن

ظاہر ہے اسلامی ریاست کی یہ نوعیت اور خاکہ جمہوریت پسند مسلمان سیاستدانوں کی صحت پر جان لیوا اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب کوجمہوریت بہت پیاری ہے۔ بلکہ اسلامی جمہوریت بھی بہت پیاری ہے۔۔۔۔ کیونکہ بالادست ادارہ پارلیمنٹ ہے، جہاں پہنچنے والے صداقت و امانت کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسے کوئی ناپسندیدہ بات ہو۔