جمہوری نظام کے نیچے پھر بارودی سرنگیں - اختر عباس

بظاہر ایسی کسی چیز کا وجود ہی نہیں مگر اسلام آباد میں سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہی ہے۔ یہاں ٹرانسفر ہو کر آنے والوں کا پہلا ہدف اس نادیدہ سرکل سے تعارف اور قربت ہوتا ہے اور پھر شناسائیاں۔ اس کی قیمت یہ ہے کہ اپنے شعبے میں ہونے والی ہر انتظامی اور سیاسی پیش رفت اور پالیسی کی اطلاع عین فرض سمجھ کر وہاں دے دی جاتی ہے اور کچھ یوں منظرکشی کی جاتی ہے کہ لگتا ہے یہ ہو گیا تو راتوں رات تباہی کا دیو پھر جائے گا اور مزے کی بات ہے اس پالیسی کے شہ دماغ بھی یہ حضرات خود ہوتے ہیں اور حکومتی ایوانوں سے اس کی داد پہلے ہی وصول کر چکے ہوتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ تک یہ پرانے بادشاہ گروں کے مصاحب بننے کی نعمت سے ہمکنار ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان کے کریڈٹ پر سوائے تعلقات بنانے کے شاید ہی ملکی خدمت کی کوئی ایسی مثال ہو کہ جس پر تنہائی میں بھی کبھی ناز کر سکیں۔ یہ سو واقعات بھی سنائیں سبھی انھی کے گرد گھومیں گے۔ مجال ہے کسی قومی اور ملّی کارنامے اور دیرپا کام کا آپ نشان بھی نہ پا سکیں گے۔ ان تعلقات کی جہتیں ملاحظہ فرمائیں: سینیئر بیوروکریٹس، سینیئر صحافی، ریٹائرڈملٹری اسٹیبلشمنٹ، اہل ثروت اور سیاسی پارٹیوں میں توجہ اور جاہ کی طلب میں ہر حد کو عبور کرنے کے رسیا دوسرے یا تیسرے درجے کے راہنما اور سفارتکار۔ یہ ملکی نظام کی حفاظت اور بہتری کے لیے کبھی چنے گئے تھے اور یہ خود کو ہی نظام قرار دے کر باقاعدہ 'گاڈ فادر' بن بیٹھے ہیں۔

اسلام آباد کے بارے میں ایک زمانے میں جناب ضمیر جعفری نے کہا تھا تھا اسلام تو اسلام یہ تو آباد بھی کم ہے مگر وقت کے ساتھ یہ ہوا کہ یہ آباد ہوتا گیا اور اس کے مزاج، روایات کلچر پر وہ لوگ حاوی ہو گئے، جن کی زندگی میں سوائے سرکاری نوکری کے اور کوئی بڑا خواب ہی نہیں جاگا۔ یہ تو مرنے کے بعد بھی اپنے گریڈ کی فضیلت سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں ہوتے، اسی لیے قبروں تک کے لیے گریڈز کا فرق روا رکھنے کو وہ بالکل جائز تصور کرتے ہیں۔ کیا حیران کن بات نہیں ہے کہ عام سے گھروں سے تعلق رکھنے والے ان بیوروکریٹس کو اس قوم نے اپنے نظام حکومت کی بہتری اور حفاظت کے لیے بڑی احتیاط سے چنا اور ترقی کی ساری منازل طے کروائیں، بہت سے ایسے بھی ہیں جو سفارشوں، منتوں، ترلّوں اور سیاسی وفاؤں کی یقین دہانیوں کے بعد اقتدار کی بھول بھلیوں اور اختیارات کے وفاقی کوریڈورز کا حصہ بنے۔ انہوں نے سوائے ذاتی مفادات، پروموشن اور بعد از ریٹائرمنٹ کہیں پوسٹنگ لینے، توسیع نوکری کی کوششوں کے علاوہ شاید ہی کسی بڑے کام اور دیرپا پالیسی بنانے پر توجہ فرمائی ہو۔ ہاں! جس بات کو اپنے ایمان کا حصہ بنایا وہ یہ کہ وہ نادیدہ سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کی قربت پا لیں۔

جج صاحبان کو اپنے فیصلے میں لکھنے کے لیے میاں نوازشریف کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ 'گاڈ فادر' ہیں۔ وہ بیچارے 'گاڈ فادر' ہوتے تو یوں گلی گلی پوچھتے نہ پھرتے "مجھے کیوں نکالا ؟" ۔ اس پوزیشن کے دعوے دار اور بینیفشری اسلام آباد کے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کی مارکیٹ میں جا بجا ملتے ہیں۔ ان کے کمال فن کا کمال کالم نگاروں، ایڈیٹروں سے دوستانہ اور روزانہ کی بنیاد پر کھانے پر لمبی نشستیں (ان اس میں چند اینکرز بھی شامل ہو چکے ہیں)، الگ الگ اپنے تصورات کی لمبی چونچوں میں پکڑی لمبی کہانیاں، حاضر سروس بیوروکریٹس سے مؤثر رابطہ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے تعلق سے مستقبل کے کسی منظر نامے میں ان کی شمولیت یقینی ہو جائے گی۔صاحبان مال وزر جو کلب لائف کو تعلقات کی نئی وسعتوں تک لے جانے کے خوگر اور ماہر ہوتے ہیں وہ بھی اس پاور گیم کے باقاعدہ بینیفشری بن چکے ہیں۔ بہت دلچسپ بات یہ ہے باخبر صحافی ان کی فضیلتیں اور ان کے کھانوں اور محبتوں کے ذائقے بیان کر تے ہیں، رائے عامہ ہموار کرتے ہیں، روز ان سے ملاقاتوں اور دلچسپ واقعات کے نام پر اپنی پی آر کی اہمیت جتاتے ہیں اور وہ exclusive خبریں دیتے ہیں جو ان کی اپنی تلاش کردہ ہوتی ہی نہیں بلکہ فیڈڈ ہوتی ہیں اور تمام ثبوتوں کے ساتھ کسی سرکاری فائل سے چرا کر ان تک پہنچائی گئی ہوتی ہیں۔ وہ انہی 'گاڈ فادرز' کا کام کر رہے ہوتے ہیں جو وہ خود کبھی بھی نہیں کر سکتے۔ہمارے اہل قلم کم ہی غور کرتے ہیں کہ ان گاڈ فادروں کی مہارتوں اور مشوروں کی فصل ہمیشہ کسی مقبول جمہوری دور حکومت میں ہی کیوں کاشت ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔

یہ سوئے اتفاق ہے یا حسن اتفاق کہ کسی آمر (فوجی آمر کہنے سے بعض کرم فرما ناراض ہوتے ہیں) یا جناب آصف زردارری جیسے ادوار میں ان کی مشاورت کاری اور حب الوطنی کے نام پر روزانہ کی بنیاد پر ٹیکنوکریٹ حکومت اور 'مائنس ون' فارمولے حرکت میں نہیں آتے یا یوں کہیے کہ کبھی خواب سے بیدار نہیں ہوتے۔ آپ کہاں بھولے ہوں گے مشرف صاحب کے زوال کے دن ہوں یا زرداری صاحب کی حکومت کی غیر مقبولیت اور ناکام ترین دور کے شب وروز؟ کبھی کوئی دھمکی کبھی کوئی متبادل حکومت کا نعرہ یا، کبھی کسی ٹیکنوکریٹ حکومت کا منجن بنایا اور مارکیٹ پھینکا گیاہو؟ حالانکہ روز سکینڈل آتے تھے۔ کمزور حکومتیں تو ویسے ہی دلدار ہوتے ہیں ایسے اصحاب فن کی کہ جن کی جیبیں خالی بھی ہوں، پھر بھی اپنا سودا بیچ لیتے ہیں۔ تاریخ میں ملک غلام محمد سکندر مرزا اور اسحاق خان تک نہ بھی جائیں، آج کے اسلام آباد میں پاور بروکرز کے نام سبھی جانتے ہیں۔ یہ ماہرین فن سیاسی کمزوری کے شکار ادوار میں اپنے تعلقات اور بادشاہ گری کے تاثر کو خوف بنا کر اقتدار میں معقول حصہ لے کر ان کے محافظ اور ضامن بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خورشید ندیم صاحب اور حسن ظن کی تکرار - ابو انصار علی

جب سیاسی ادوار میں روز سکینڈل نہ بن رہے ہوں، حاضر سروس لوگ کسی کرپشن اور بد انتظامی کی نشاندہی اور ثبوت دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں اور بظاہر سیاسی معاملات پارٹی اور حکومت کے ہاتھ میں ہوں اور یہ حکومتی مشوروں سے باہر ہوں توکوئی نہیں بتا سکتا کہ ایسے میں یہ معین قریشی کو کہاں سے دریافت کرتے ہیں اور شوکت عزیز کو کس زنبیل سے نکالتے ہیں، بلخ شیر مزاری انہیں کیسے بھا جاتا ہے؟ یہ چاہیں توجناب روئیداد خان کو سول سوسائٹی کا ہیرو اور رہبر بنا دیں، یہ چاہیں تو جناب احمد ہلالی کو مقبول اور معروف تجزیہ نگار بنا کر اہل سیاست کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر زہر پھیلانے اور سیاسی قیادت کے خلاف زہر اگلنے اور بونے پر لگا دیں،جناب اظہار الحق ہوں یا ریٹائرڈ ایئر ماشل صاحبان،مجال ہے ان کے بیانیے میں ایک آدھ انچ کا بھی فرق ہو۔ حد یہ ہے کہ کزشتہ چار برس سے یہ روزانہ کی بنیاد پر قومی حکومت، ٹیکنوکریٹ حکومت، عبوری حکومت کے خاکے بنانے اور بیچنے اور اپنی اپنے دوستوں اور نئے معین قریشیوں کی جگہ پکی کرنے کی نامبارک سعی فرمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کل تو حد ہی فرمادی گئی ایک 'گاڈ فادر' نے 'گاڈ فادر اِن میکنگ' سے آنے والے ایّام کا ایک اور حسرت انگیز نقشہ بیان فرمایا ہے۔ یہ وہی ماڈل ہے جو اسلام آباد کلب، گالف کلب یا ان کے گھروں کے وسط میں واقع سٹڈی رومز میں بنایا جاتا ہے اور چند صحافی بھائیوں کو یوں تیقن سے بتا یا جاتا ہے کہ کل کا سورج انہی کے ایک اور نا آسودہ خواب کی تعبیر لیے طلوع ہوگا اور اقتدار کی خفیہ غلام گردشوں کے مکینوں کی منظوری اور آشیر باد سے لایا جا رہا ہے۔ یہ انہی کی زبان ہوتی ہے کہ آئندہ کس کی حکومت کا طے کر لیا گیا ہے اور کس کے سر پر ہمارا بنایا ہو غیر سیاسی پلاسٹک کا ہما بٹھایا جائے گا؟ کوئی تجزیہ نگار، کوئی کالم نگار بھی ان سے پوچھنے کی جرات کیوں نہیں کرتا کہ قبلہ آپ کو اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کا ٹھیکہ کب ملا؟ قوم نے کب دست بستہ آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ ہمارے معاملات سیاسی و انتظامی اپنے کنٹرول میں کر لیں اور ہم مسکینوں پر خصوصی شفقت فرمائیں؟

افسوس تو اس بات کا ہے کہ اہل صحافت اور سیاست خود ان کو بادشاہ گر بنے کا موقع دیتے ہیں،ان کو گفتگوؤں کو یوں تقدس کا درجہ عطا کرتے ہیں کہ جیسے دنیا ان کے دم قدم اور دانش سے ہی چل رہی ہے۔ اپنی نوکری کے ایام میں یہ بالعموم تعلقات بنانے اور پوسٹیں لینے میں گزارتے رہے ہیں، یہ قوم و ملک کی خدمت کے دعوے تب کیوں نہیں پریشان کرتے؟ اب کیوں اس قدر بے چین اور بے حال ہیں؟ اہل دانش کو ایسے ہر فورم اور ایسی ہر کوشش کے آگے ایک عقلی مضبوط بند بنانے کی کوشش کرنی ہو گی تاکہ یہ روز روز کا تماشہ ختم ہو۔ ان کے کہے فرمودات اور ناکام تجاویز کو ڈسکس کرنے سے بھی احتراز کیا جانا چاہیے۔ شکر ہے جناب سراج الحق سے لے کر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، اسفند ولی خان نے ایک ہی مضبوط موقف اپنایا ہے کہ کسی غیر جمہوری قوت کو نہ موقع دیا جائے گا اور نہ ہی اس کا آلہ کار بن کر مٹھائیاں تقسیم ہوں گی کہ جن کی تصویروں سے وہ اپنے غیر جمہوری فعل کوکمزور ترین اور بودی دلیل اوربنیاد فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں ۔

قوم اور سیاسی قیادت کو قانون اور ملکی سلامتی کے پاٹ پڑھانے والے اس خود ساختہ گاڈ فادروں کی پوری نرسری سے قوم کو یک زبان ہو کر پوچھنا چاہیے کہ آپ کس قانون اور ضابطے سے قوم کی گردن پر بار باسوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں؟ پوری قومی اسمبلی جو کروڑوں لوگوں کی طرف سے فیصلے کرنے کا اختیار لے کرآئی ہے،آپ اس کے مقابل اور اس کے برابر ہو بھی کیسے سکتے ہیں؟ سازش کوئی ضا بطہ نہیں، قانون اور لوگ پیچھے لگ جائیں تو ملک چھوڑنے پڑ جاتے ہیں، آئین کی بیحرمتی اور بے وقعتی جرم ہے جناب! نہیں یقین آتا تو کمانڈو صاحب سے پوچھ لیں۔ آپ کس ضابطے اور قانون سے پورے سیاسی عمل اور منتخب لوگوں کو ہر بار فارغ خطی دے دیتے ہیں؟ پارلیمنٹ، سینیٹ، صوبائی اسمبلیاں، بلدیاتی ادارے یہی اس قوم کے متفقہ پالیسی ساز افراد اور ادارے ہیں اور یہ مسلسل کئی ماہ سے آپ لوگوں کی ٹیلی فون کالوں، دھمکیوں اور سبز باغوں کو مسترد کر تے آرہے ہیں۔ ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا، سیاسی لوگ بھی بدل رہے ہیں، مضبوط ہو رہے ہیں، وقت بدل رہا ہے، سابق اور موجودہ حکومتی ملازم اب آقا بننے اور گاڈ فادر بنے رہنے کا شوق جانے دیں۔ میں جانتا ہوں یہ اتنا آسان نہیں ہے مگر یہ یاد رکھیے کہ ناکام اور ہارے ہوئے لوگ ہی مفاد اور تعلقات کو سازشوں کی بنیاد پر مضبوط بناتے ہیں، انہی کی بنا پر باہم جڑتے ہیں اور یہی لوگ مافیا ہوتے ہیں جو چلتے نظام کو بار بار ڈی ریل کرتے ہیں، اداروں کے اندر نقب لگاتے اور وہاں سے اپنے مخبر بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی سیاست کے رنگ - یاسر محمود آرائیں

اس بار اراکین اسمبلی نے چند ماہ میں تیسری بار ان کا حملہ روکا ہے، پوری قومی غیرت کا ثبوت دیا ہے اور اپنی پارٹی سے نہیں ٹوٹے۔ آپ اب بھی نہیں سمجھے اور مافیائی پیغام میں فرمایا ہے ’’یہ مانے نہیں اس لیے کہانی ختم‘‘

جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والی کہانی اور ڈائیلاگ پڑھ کر افسوس نہیں ہوا، شرم آئی ہے کہ ہم کب ان کو 'ناں' بول سکیں گے؟ ہم کب ان کے اندھے خوابوں کا حصہ بننے سے انکار کریں گے؟ اب یہ ایک پارٹی اور اس کی حکومت کا نہیں قوم کے اجتماعی بیانیے کا مسئلہ بننا چاہیے۔ قومی انکار ہی ان گاڈ فادروں کا راستہ روک سکے گا۔ اہل سیاست نے اس بار اپنی عزت کی لاج رکھی ہے، بار بار کے رابطوں کے جواب اور پچاس، پچاس اور ساٹھ، ساٹھ ممبران کے لوٹا بننے کی فہرستوں میں اپنے نام آنے کو توہین محسوس کیا اور کسی 'ڈرٹی گیم' کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ مگر ان اہل صحافت کا رول اور کردار بہت برا ہے، جو یہ فہرستیں لیے لیے ٹی وی سکرینوں پر جاتے بولتے اور ترغیبیں دے کر شرمندہ ہوتے رہے ہیں۔ ناکامی کے بعد تو "کیپیٹل ٹاک" والوں سے بھی کوئی جواب نہیں بن پایا کہ جی اس لیے نہیں گئے کہ فون نہیں آئے۔ حضور! فونوں کی تو بھر مار رہی ہے۔ گاڈ فادروں کے ہاں اس وقت رونا تو اسی بات کا چل رہا ہے کہ مٹھائی کھانے اور کھلانے والوں کی نہ فہرستیں کام آئیں، نہ کوششیں۔ سوائے ہمارے عمران خان صاحب کے بیان کے کہ میں فوج کے ساتھ ہوں، ہم نہیں تو کیا بھارت کھڑا ہوگا؟ قبلہ! پھر غلط ہٹ لگا بیٹھے ہیں آپ کو کبھی تو اجتماعی بیانیے کو سمجھنا اور اس کا حصہ بننا چاہیے، آپ ان کے ساتھ چار دن نہ چل سکیں گے۔ مسئلہ کھڑا ہونے کا ہے تو ساری قوم کھڑی ہے، مسئلہ اپنے حق اقتدار اور اختیار کی حفاظت کا ہے۔ وہ بندوق کے ڈر سے نہیں دیا جا سکتا۔ نہ کسی زبردست کو اور نہ کسی سازشی ٹیکنوکریٹ ٹولے کو!

ملک میں الیکشن ۲۰۱۸ء اور عوام کا جج ہونا ہی کافی ہے۔ سیاسی لوگوں سے مسئلہ ہے تو لوگ اور قانون دونوں ہیں مگر فیصلہ کسی کوئی اور کا نہیں۔جن کو زعم ہے خفیہ فیصلہ سازی کا اور نت نئے متبادل ناکام نظام بنانے اور اپنے صحافی دوستوں کے ذریعے پھیلانے کا، ایک سوال ان سے ہے، یہ میرا نہیں اس قوم کے ہر اس فرد کا ہے جو عقل اور دانش رکھتا ہے اور دوبارہ سے کسی غیر قانونی دس سال کے عذاب کو جھیلنے پر تیار نہیں۔ آپ سیاسی نظام کے خدا بننا اب بند کریں جناب! اس دنیا کے مہربان رب نے زمینی فیصلوں کا اختیار آپ کو نہیں سونپا اور نہ کوئی دلیل بھیجی ہے۔ حضور! یہ ۲۰۱۷ء ہے اور آپ پھر سے جمہوری نظام کے نیچے بارودی سرنگ بچھانے چلے ہیں۔ مجھے خدشہ نہیں یقین ہے کہ اس ایسا ہوا تو پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد اور مقدار ویسی نہیں ہوگی جیسے آپ کی مرضی سے ہوتی رہی ہے۔ یہ پاکستان اور اس کے عوام کے اختیار اور اقتدار کے حق کی کہانی ہے۔ اس بار نہیں لگتا کہ آپ کے کہنے سے یوں آسانی سے یہ ختم ہو جائے گی۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں