سندھ پر آسیب کا سایہ - حسیب عماد صدیقی

اگر آپ گورنینس کے حوالے سے صوبہ سندھ کا موازنہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے کریں تو سندھ کی صورتحال نہایت مایوس کن نظر آتی ہے ۔حالانکہ وسائل کے لحاظ سے صوبہ سندھ ایک مالامال صوبہ ہے۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد اب صوبہ کی ترقی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 2017 ء کے این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کا حصہ 612 ارب روپے سے زائد ہے۔ اسی طرح گزشتہ سات، آٹھ برس سے سالانہ ایک خطیر رقم عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے سندھ حکومت کو دی جاتی ہے لیکن اگر آپ سندھ کے شہروں اور دیہی علاقوں کا سفر کریں تو صوبہ سندھ تباہی اور بربادی کا منظر پیش کرتا ہے۔ کچروں کے ڈھیر، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، ابلتے گٹر، ہسپتال خود بیماری پھیلانے کے مراکز، اسکول جانوروں کے اصطبل، رشوت خور سرکاری اہلکار اور سیاست زدہ پولیس ،غرض یہ کہ سندھ پر آسیب کے سائے کا گمان ہوتا ہے۔

2017ء کےاین ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخواہ کا حصہ تقریباً 390 ارب روپے ہے جو کہ صوبہ سندھ سے 222 ارب روپے کم ہے۔ اگر آپ دونوں صوبوں میں ترقیاتی کاموں کا موازنہ کریں تو خیبر پختونخواہ میں اسکول، ہسپتال، انفراسٹرکچر، پولیس کا نظام، کرپشن پر کنٹرول اور عوام کی مجموعی حالت سندھ سے بہت بہتر نظر آتی ہے۔ پنجاب سے تو کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا پنجاب میں گورنینس کی صورتحال دونوں صوبوں سے بہتر ہے۔ یہ تاثر مشہور ہے کہ اگر آپ بذریعہ کار سندھ سے پنجاب کی طرف سفر کریں تو جیسے ہی سڑک ہموار ہوجائے اورآپ کو سرسبز لہلہاتے کھیت نظر آئیں توآپ سمجھ جائیں کہ پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ پنجاب سے سندھ کی طرف سفر کریں تو جیسے ہی ٹوٹی ہوئی سڑک، گرد و غبار اور رشوت خور اہلکار نظر آئیں، تو آپ سمجھ جائیں کہ آپ سندھ میں داخل ہوچکے ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہے؟ سندھ بھی پاکستان کا حصہ ہے اور وہ تمام عوامل جو ملک کے دوسرے حصوں میں کار فرما ہیں وہ یہاں بھی موجود ہیں تو آخر فرق کیا ہے؟ اصل میں سندھ میں حقیقی قیادت موجود نہیں۔ اس صوبے کی بدقسمتی یہ رہی کہ اس کی حقیقی قیادت قتل کردی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر یہاں کی اصل قیادت تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی نے سندھی عوام میں شدید عدم تحفظ اور احساس محرومی پیدا کیا۔ اس عدم تحفظ نے ایک نعرے کو جنم دیا ‘کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ، تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا’

اس نعرے کے تحت بینظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے دوبارہ جنم لیا۔ لیکن بدقسمتی سے 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت نے سندھ کے لوگوں میں عدم تحفظ کے احساس کو شدید ترین کردیا اور انہیں اپنی زمین اور مستقبل ہاتھ سے جاتے دکھائی دیے اور اس صورتحال نے انہیں پیپلز پارٹی کے قلعہ میں قید کردیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کی باگ دوڑ آصف علی زرداری کے ہاتھ آگئی۔ یہ حقیقی قیادت نہیں تھی۔ آصف علی زرداری کی اصل صلاحیت ایک حقیقی سیاستدان سے زیادہ ایک پاور بروکر کی تھی جو جوڑ توڑ اور داؤ پیچ تو جانتا ہے لیکن ایک مقبول عوامی لیڈر نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   حُسنِ تعبیر - مفتی منیب الرحمٰن

بینظیر کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کو ملک کی صدارت، وفاقی اور دو صوبوں کی حکومت، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی اسپیکرشپ اور چاروں صوبوں کی گورنرشپ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ ملی۔ اگر وہ حقیقی لیڈر ہوتے تو بینظیر کی اس سیاسی میراث کی حفاظت کرتے لیکن انہوں نے اتنی بڑی پارٹی کو صوبہ سندھ کے دیہی علاقوں تک محدود کردیا۔

سندھ کے عوام اپنے احساس عدم تحفظ کی وجہ سے بار بار پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے رہے۔ یہ ووٹ پیپلز پارٹی نے بجائے کسی کارکردگی کے، بھٹو اور بینظیر کے خون کے صدقے میں حاصل کیا۔ نتیجتاً انہوں نے سندھ کے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹریٹ کیا کیونکہ کوئی مد مقابل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی کارکردگی دکھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ جب چاہیں عوام سے جذباتی بلیک میلنگ کے زریعہ ووٹ حاصل کرسکتے تھے۔

جمہوری نظام کا اصل مقصد ہی پر امن تبدیلی اقتدار ہے۔ اگر ایک لامتناہی عرصے کے لیے کسی ایک گروہ کو اقتدار حاصل ہوجائے تو وہ من مانی ہی کرے گا۔ سندھ میں ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے اور اس کا کوئی مدمقابل نہیں ہے۔ عوام کے پاس کوئی اور چوائس نہیں۔ لہٰذا پیپلز پارٹی یہی کچھ ڈلیور کرسکتی ہے جو کر رہی ہے۔

اس کے مقابلے میں مسلم لیگ ن بھی بہت عرصے سے پنجاب میں اقتدار میں ہے لیکن اسے ہمیشہ مقابلے کا سامنا رہا۔ پہلے پیپلز پارٹی اس کے مدمقابل ہوتی تھی اور اب تحریک انصاف۔ مسلم لیگ پر ہمیشہ کارکردگی دکھانے کا دباؤ رہا، لہٰذا انہوں نے ڈلیور کیا۔ آپ شہباز شریف سے لاکھ اختلاف کریں لیکن ان کی کارکردگی سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے گزشتہ دو ادوار میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور کوئی صوبائی حکومت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

خیبر پختونخوا میں گزشتہ 25 سال میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں۔ میرے خیال میں پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی شعور صوبہ خیبر پختونخواہ کے عوام میں ہے۔ انہوں نے سب کو آزمایا پہلے پیپلز پارٹی، پھر مسلم لیگ ن، پھر متحدہ مجلس عمل، پھر عوامی نیشنل پارٹی اور اب تحریک انصاف۔ اگر تحریک انصاف نے ڈلیور نہیں کیا تو ان کی بھی چھٹی ہوسکتی ہے۔ آنے والے وقت میں خیبرپختونخواہ پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ صوبہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں ہر سیاسی پارٹی کو سخت مقابلے کا سامنا ہے اور کارکردگی دکھائے بغیر الیکشن جیتنا نا ممکن ہے۔

سندھ کے شہری علاقوں کی صورتحال بھی کم و بیش سندھ کے دیہی علاقوں سے ملتی جلتی ہے۔ یہاں بھی ایک ہی پارٹی کا راج رہا اور اس کا کوئی مقابل نہیں تھا۔ یہ پارٹی آہستہ اہستہ ایک مافیہ کی شکل اختیار کر گئی اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف کو کس نے اور کیوں نکالا؟ - یاسر محمود آرائیں

سندھ کی ایک اور بدنصیبی شہری اور دیہی علاقوں کی گہری لسانی تقسیم بھی ہے۔ دو بڑے شہروں میں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے اور اندرون سندھ سندھی بولنے والوں کی۔ دونوں لسانی اکائیوں کے درمیان گزشتہ ستّر سالوں میں گہری ہوتی خلیج کو کسی نے کم کرنے کی کوشش نہیں کی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسئلہ ایک گمبھیر شکل اختیار کرگیا اور اب آبادی کے تناسب، وسائل کی تقسیم اور دیگر معاملات پر ایک گہرا اختلاف موجود ہے جس کا نتیجہ بہت بھیانک ہوسکتا ہے۔

سندھ کی اس زبوں حالی کی ذمہ داری سندھ کی عوام سے زیادہ پاکستان کی قومی سیاسی پارٹیوں پر عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے سندھ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ انہیں چاہیے تھا کہ سندھ پر بھرپور توجہ دیتے، یہاں اپنے دفاتر قائم کرتے اور الیکشن میں سندھ کے عوام کے لیے سیکنڈ آپشن بنتے۔ مسلم لیگ ن نے اگر کبھی کوشش کی بھی ہے تو پیپلز پارٹی مخالف روایتی وڈیروں کو اپنے ساتھ ملا کر نہایت بے دلی سے خانہ پری کے لیے الیکشن لڑا۔ کیا کبھی نواز شریف صاحب نے جنرل الیکشن میں سندھ کے کسی حلقے میں اپنے امیدوار کے حق میں کبھی ایسی کیمپین کی جیسی وہ پنجاب میں کرتے ہیں؟

تحریک انصاف بھی سندھ پر صحیح توجہ نہ دے سکی۔ اسے چاہیے تھا کہ سندھ کے ہر ضلع میں تنظیم سازی کرتی، سندھی عوام کے مسائل کو اپنے منشور کا حصہ بناتی، اور سندھ کے حساس مسائل پر ایک واضح موقف اپناتی، جلسوں کے ذریعہ سندھی عوام کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور کرپشن کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرتی اور الیکشن میں ہر حلقے میں اپنے امیدوار کھڑے کرتی۔ گو تحریک انصاف نے یہ کام اب شروع کیا ہے لیکن اسے یہ کام بہت پہلے شروع کردینا چاہیے تھا۔ سندھ میں تازہ ہوا اور صحت مند مقابلے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں سندھی عوام کے پاس ایک اور آپشن ہونا چاہیے تاکہ ہر پارٹی پر کارکردگی دکھانے کا دباو ہو۔

فریال تالپور کی ایک جلسے میں عوام سے دھمکی آمیز خطاب کی کلپ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ عوام کو 'شاہ دولے کے چوہے' سمجھتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کے عوام کے سر پر لوہے کا خول چڑھا ہوا ہے اور وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ اگر ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں نے سندھ پر توجہ دی تو وہ وقت دور نہیں جب یہاں کے عوام بھی جمہوریت، ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوں گے اور سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں پر مسلط آسیب کے سائے سے نجات مل جائے گی۔