جمہوریت کی ملٹی برانڈنگ - کاشف منظور

جمہوریت کی ملٹی برانڈنگ کسی مارکیٹ میں کمپنیاں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے ایک ہی طرح کی پروڈکٹ کو مختلف ناموں سے پیش کرتی ہیں۔ اس حکمت عملی کو ملٹی برانڈنگ کہا جاتا ہے۔ اس عمل سے کمپنیاں ان گاہکوں کو بھی اپنا مال بیچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں جو بصورت دیگر ان کا مال نہیں خریدتے یا پھر خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اور یوں اس کمپنی سے دور بھاگنے والے خریدار جب کسی متبادل کے پاس جاتے ہیں تو وہاں بھی مخالف کے بھیس میں درحقیقت اسی کمپنی کا مال خرید رہے ہوتے ہیں۔

جمہوریت ڈیزائن کرنے والے دماغوں نے اسی حکمت عملی کا بہت اچھا استعمال کیا ہے اور جمہوریت سے تنگ عوام الناس کے لیے آمریت کا متبادل تیار کر رکھا ہے۔ جب بھی کوئی جمہوریت کی تباہ کاریوں سے تنگ آ کر بیزاری کا اعلان کرتا ہے تو اسے آمریت کا ڈراوا دیا جاتا ہے اور یوں نہایت خوبصورتی سے ’گاہکوں‘ کے پاس کوئی رستہ نہیں چھوڑا جاتا۔

حقیقت یہ ہے کہ آمریت اور جمہوریت ایک ہی نظام کا حصہ اور ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ آمریت سرمایہ دارانہ نظام میں ایک سیفٹی والو (Safety Valve) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کبھی جمہوریت اپنے تباہ کن اثرات میں حدود و قیود سے گزرنے لگتی ہے تو ’نظام‘ کو تباہی سے بچانے کے لیے ایمرجنسی کے طور پر آمریت کا ہتھیار استعمال کیا جاتاہے اور یوں اصل نظام یعنی کہ سرمایہ دارانہ نظام محفوظ رہتا ہے۔

جمہوریت ایک نظام حکومت سے زیادہ ایک عقیدہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہم بلاناغہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کے بہت سے بڑے ناموں کو جمہوریت کی تباہیوں سے پردہ اٹھاتے دیکھتے ہیں۔ ان میں بہت سے محترم نام جیسے عامر ہاشم خاکوانی، آصف محمود، عاصم اللہ بخش، روف کلاسرہ وغیرہ شامل ہیں لیکن دہائیوں کی تباہی کے باوجود یہ قابل احترام لکھاری نظام میں کسی جوہری تبدیلی کا نام تک نہیں لیتے اور ہماری بدمعاشیہ ان بڑے ناموں کی ناقابل سمجھ مجبوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں جمہوریت کے حسن سے مسلسل محظوظ کیے جارہی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت لوگوں کی فلاح کی ایک ذریعہ ہے یا پھر جمہوریت بذات خود مقصد حیات کی حیثیت اختیار کر چکی ہے؟ اگر تو یہ صرف ایک ذریعہ ہے تو ہمارا ستّر سالہ تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ یہ ذریعہ ناکام ہو چکا ہے اورہمیں اپنے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی اور ذریعہ اپنانے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   حُسنِ تعبیر - مفتی منیب الرحمٰن

بصورت دیگر تو جمہوریت ایک ایمان اور عقیدے کی صورت اختیارکر چکی ہے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے لیکن عقیدے پر آنچ نہ آنے پائے۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سیدھا علم بغاوت بلند کر دیا جائے اور نظام کی تبدیلی تک پہاڑوں کا بسیرا کر لیا جائے لیکن نظام میں کسی جوہری تبدیلی پر ایک کم ازکم ایک علمی بحث تو شروع کی جاسکتی ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ یہ ہوگا کہ جمہوری تباہ کاروں پر ڈیلیور کرنے کے لیے پریشر بڑھے گا کہ اب ہمارے لیے غیرمشروط حمایت کم ہو رہی ہے۔

یہاں ایک قدرتی سوال اٹھے گا کہ کس قسم کی تبدیلی کی بات کی جائے۔ تو یہاں آؤٹ آف باکس جا کر سوچنا ہوگا اور ملٹی برانڈنگ سے بچنا ہو گا۔ کسی اور زمانے کی بات نہیں کرتے بلکہ اسی موجودہ وقت میں ہی اس جمہوریت یا آمریت کی لغو بحث سے باہر کچھ نظام موجود ہیں اور جمہوریت کی نسبت بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

یہاں میں چینی نظام کو بطور کیس اسٹڈی پیش کرنا چاہوں گا کہ جو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے کامیاب جا رہا ہے اور اس کا نظام حکومت کی کارکردگی فرانسس فوکویاما جیسے امریکی دانشورکے مطابق امریکی نظام حکومت سے بھی بہتر ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا ہے کسی نظام کی نقل کی جائے۔ یہ تباہی کا نسخہ ہوگا جیسا کہ ستّر سال سے انگریز کی ویسٹ منسٹر جمہوریت ہمارے لیے ثابت ہو رہی ہے۔ میرا مطالبہ صرف اتنا ہےکہ ہمارے اپنے حالات کے مطابق نظام میں کسی جوہری تبدیلی کی کم ازکم بات تو شروع کی جائے تاکہ جمہوریت کے انتقام میں کچھ تو رکاوٹ آئے۔