کرکٹ میں میچ فکسنگ کی وبا نے کیسے سر اُٹھایا؟ (6)

ترجمہ و تلخیص: عبدالستارہاشمی


میرے دور میں کرکٹ کو جس چیز نے سب سے زیادہ بڑھاوا دیا، وہ تھا ٹیلی ویژن۔ ٹیلی ویژن نے کرکٹ کے شائقین کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں کردی اور اس کھیل میں پیسے کا عمل دخل بڑھادیا۔ یہ اقدامات خوش آئند تھے، لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی نکلا کہ کپتان اور کھلاڑیوں پر کھیل کا دباؤ بڑھ گیا۔ امپائرز بھی پریشر کا شکار ہوئے۔ ان کے ہر فیصلے کو خورد بینی جائزے کے بعد کلیئر کیا جاتا اور غلط فیصلے سے ان کی پارسائی اور ایمانداری پر سوال اُٹھتے۔

دنیا کے ہر کھلاڑی کی طرح امپائرز کے حوالے سے میرے بھی تحفظات ہوتے تھے اور کئی فیصلوں پر تو میں بہت ہی تکلیف سے گزرتا، لیکن میرے پورے کیریئر میں اگر کسی امپائر نے مجھے متاثر کیا ہے تو وہ انگلینڈ کے ڈکی برڈ تھے۔ اس کھیل میں ان سے بڑا باکردار کوئی دوسرا کردار نظر نہیں آیا۔

کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ دن بھر کی بور کردینے والی گیم میں وکٹوں کے پاس کھڑے ڈکی برڈ بے ساختہ کوئی جملہ بول دیتے تو یوں لگتا، جیسے تپتے صحرا میں ہوا کا ٹھنڈا جھونکا آیا ہو۔ میں موڈ میں نہ بھی ہوتا تو بھی ہنسنے پر مجبور ہوجاتا۔ میں نے 1976ء میں اوول میں انگلینڈ کے خلاف 291 رنز بنائے، پھر اولڈ ٹریفورڈ میں 189 رنز کی بھرپور اننگز کھیلی، لارڈز میں 145 اور 138 رنز کی بڑی اننگز میرے کیریئر کا اثاثہ ہیں۔ ان تمام تاریخی مواقع پر ڈکی برڈ موجود تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات ہی میرے لیے ایک بڑی تعریف تھی اور مجھے آج بھی فخر ہے کہ میں نے اپنے کیریئر کے چند اچھے باب ان کی موجودگی میں مکمل کیے۔ ڈکی برڈ اکثر اننگز کے آخر میں کہتے ’’ماسٹر میں نے تمہاری اننگز دیکھی، کوئی تمہیں چھونہیں سکتا، بلاشبہ تم سب سے ممتاز ہو، کرکٹ کی دنیا تمہیں یاد رکھے گی۔‘‘

ڈکی برڈ کتنا بڑا امپائر تھا، یہ تو ان کے فیصلے بولتے ہیں لیکن وہ ایک بہترین ناقد بھی تھے۔ وہ مجھے اکثر یہ کہتے: رچرڈز تمہارا سٹریٹ ڈرائیو اچھا نہیں ہے۔ ایک مرتبہ اوول میں ایک میچ میں وہ مجھے کہنے لگے: ماسٹر اب تم نے میری طرف ایک بھی گیند نہیں کھیلنی لیکن میں جب بیٹنگ کے لیے آیا تو ڈکی برڈ ایک بلی کی طرح مجھے گھورنا شروع کردیا۔ مجھے لگا جیسے میری بلے بازی کے ایکسرے شروع ہوچکے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ میری پسندیدہ شارٹ اسٹرٹ ڈرائیو ہی تھی اور میں بھلا یہ شارٹ کھیلنے سے کیسے رک سکتا تھا۔ ایک مرتبہ انڈروڈ باؤلر تھے۔ انہوں نے گیند کروائی اور میں نے سیدھا شارٹ کھیل دیا۔ شارٹ اس قدر زور دار تھا کہ انڈروڈ کو ٹکراتا ہوا ڈکی برڈ کی طرف گھوم گیا۔ میں یہ سارا منظر کریز پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے انڈروڈ کی تو ذرا بھی پرواہ نہ ہوئی، میں فوراً ڈکی برڈ کی طرف بھاگا۔ خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے اور میری سانس میں سانس آئی۔ ادھر ڈاکٹر انڈروڈ کے بازو پر پٹی کرچکا تھا۔ اس موقع پر بھی ڈکی برڈ نے گلہ کرتے ہوئے کہا: ماسٹر تم میری بات مانتے نہیں ہو، میں نے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ ادھر شارٹ نہ کھیلا کرو لیکن تم نے پھر وہی کیا۔ میں اگر آج اس گیند کا شکار میں ہوجاتا تو میرا خاتمہ یقینی تھا، بے چارہ ڈکی برڈ۔‘‘

ڈکی برڈ ایک اچھے امپائر کے ساتھ بہترین انسان بھی تھے۔ آپ انہیں بیٹنگ امپائر کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اچھے بلے بازوں کی تعریف کرنے میں ذرا بھی کنجوسی نہیں کرتے تھے۔

ڈکی برڈ کے بعد اگر کوئی دوسرا تعریف کا مسحق ہے تو وہ ڈیوڈ شیفرڈ ہیں۔ امپائری میں ان کی مہارت پر کوئی سوال نہیں۔ وہ اچھے کرکٹر بھی تھے۔ میں سمرسیٹ کی جانب سے ان کے خلاف کھیلا تھا۔ وہ کلاسٹر شائر کاؤنٹی کا حصہ تھے۔ کرکٹ میں تو ہم پرستی تو سنی تھی لیکن ڈیوڈ شیفرڈ کی تو ہم پرستی کا تو میں خود عینی شاہد ہوں۔ اگر کوئی کھلاڑی نیلسن پر ہوتا مطلب وہ 111 رنز پر کھیل رہا ہوتا تو ڈیوڈ اس سے ایک فٹ دور کھڑے ہو کر بات کرتا اس کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے اس کی صلاحیتوں میں اور نکھار آتا ہے اور وہ دوہرے سینکڑے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔

بات امپائروں کی ہورہی ہے تو میرے خیال میں ایماندار امپائروں میں انگلینڈ کے امپائروں کا نام سرفہرست ہے۔ یہ لوگ بروقت صحیح فیصلے کرتے ہیں۔ ایسا دنیا بھر میں نہیں ہوتا۔ اس معاملے میں آسٹریلیا کے امپائر تو توبہ کی حد تک بدنام ہیں۔ اسی طرح کے مسائل پاکستان، بھارت اور یہاں تک کہ میرے ملک کریبین میں ہوتے ہیں۔ نیو ٹرل امپائروں کے آنے سے یہ مسئلہ کسی حد تک درست ہوا۔ عمران خان وہ پہلا کرکٹر تھا، جس نے نیوٹرل امپائرز کا مطالبہ کیا تھا اور پھر جب ہم پاکستان گئے تھے تو دو بھارتی امپائروں نے ہمارے میچز کروائے تھے۔ چیزیں آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہیں۔ حالات بدلتے ہیں اور بہتری کی راہیں کھلتی ہیں۔

"شین وارن نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی سلیم ملک نے آسٹریلیا اور پاکستان کے مابین کھیلے جانے والے فائنل میچ میں رشوت کی پیش کش کی اور کہا کہ اس دن بُری باولنگ کروانے کے عوض کچھ رقم دی جائے گی۔ اس آفر نے تو کرکٹ کی دنیا میں بھونچال بھرپا کردیا۔"

خیر بات ہورہی تھی آسٹریلوی امپائرز کی۔ تو ایک مرتبہ مجھے کہا گیا کہ دس میں سے آسٹریلوی امپائروں کو کتنے نمبر دو گے۔ جواب میں، میں نے کہا زیادہ سے زیادہ 2 یا 3۔ مجھے تو کوئینز لینڈ کے امپائر آر۔جے ریونز سے منہ ماری کرنے پر جرمانے کی سزا بھگتنا پڑی تھی۔ میں نے ڈین جونز کو آف بریک کروائی، گیند سلو تھی اور وہ سمجھنے سے قاصر رہا۔ گیند اس کے پیڈ سے چھوگئی۔ وہ مڈل سٹمپ کے سامنے تھا اور سو فیصد آوٹ تھا۔ میں نے امپائر کی طرف دیکھا، وہ بالکل ساکت کھڑا تھا۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ آپ گیند کرواکے میرے سامنے آگئے ہیں، اس لیے میں دیکھ نہیں سکا کہ وہ کس پوزیشن میں تھا، لہٰذا میں آوٹ نہیں دے سکتا۔ مجھے بڑا غصہ آیا اور میں اسے لتھڑ کے رکھ دیا: ’’بتانے کا بہت شکریہ، میرا نہیں خیال کہ آپ اندھے ہیں اور دیکھ نہیں سکتے، میرا خیال ہے یہ آنکھیں آپ کو دیکھنے کے لیے عطا کی گئی ہیں، پھر بھی آپ نہ دیکھیں تو یہ صورتحال افسوسناک ہی ہے۔‘‘

ایک اور واقعہ بہت ہی مشہور ہوا تھا، ایک میچ میں امپائر بارے میئر نے مجھے غلط ایل بی ڈبلیو آوٹ دے کر غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی۔ انہوں نے یہ غلط فیصلہ ایئن بوتھم کی گیند پر لارڈز کے میدان میں دیا تھا۔ میں اس معافی کا کیا کرتا جس نے میری ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔

میرے دور میں کرکٹ میں ایک نئی اختراع کا اضافہ ہوا۔ یہ ریورس سوئنگ تھی۔ بہت سے لوگ اس پر بات بھی کرتے پائے گئے۔ 1975ء میں ہماری ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ وہاں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ عمران خان اور سرفراز نواز پُرانی گیند سے جادو کا کمال دکھارہے تھے۔ مجھے لگا جیسے مشتاق محمد گیند کے پُرانا ہونے کا انتظار کرتے اور پھر ایک اینڈ پر سرفراز نواز اور دوسرے پر عمران خان کو گیند تھمادیتے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی بلے بازوں کی وکٹیں خزاں کے پتوں کی طرح گرتی چلی جاتیں۔ ایشیا کی ڈیڈ اور سپاٹ وکٹوں پر تیز باؤلرز کا یہ جادو حیرت انگیز تھا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ کے کلائیو راکس میں یہ خوبی دیکھی کہ وہ پرانی گیند کو گھما دیتا تھا۔ ہم تو مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل، اینڈی رابرٹس، جول گارنر اور کرٹلی ایمبروز جیسے تیز باؤلرز کے ساتھ میدان میں اُترتے تھے اور یہ فاسٹ باؤلرز بھی سیدھی سیدھی تیز گیندوں سے دھاک بٹھاتے، لیکن عمران خان اور سرفراز نواز بھاگتے آتے، ایک گیند اندر کو آتی تو دوسری باہر کو، کوئی گیند ہوا میں ہی بل کھاتی آتی، بلے باز سے اتنا بھی نہیں بن پاتا کہ وہ گیند کی سمت کا تعین کرتا۔ بہرحال یہ ایک آرٹ تھا۔یہ باؤلر ہاتھو ں کی انگلیوں سے آپ گیند کی سمت کا تعین کرتے تھے۔

کیریئر کے آخر پر کرکٹ کی ایک نئی بیماری نے سراُٹھایا، وہ تھی میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ، سچ تو یہ ہے کہ اس بے ایمانی نے کرکٹ کے حسن کو گہن لگا دیا۔ انہی دنوں ایسے کیسز پر بحثیں ہوا کرتی تھیں اور جب شین وارن نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی سلیم ملک نے آسٹریلیا اور پاکستان کے مابین کھیلے جانے والے فائنل میچ میں رشوت کی پیش کش کی اور کہا کہ اس دن بُری باولنگ کروانے کے عوض کچھ رقم دی جائے گی۔ اس آفر نے تو کرکٹ کی دنیا میں بھونچال بھرپا کردیا۔ اگرچہ اس اسکینڈل میں سلیم ملک، وسیم اکرم اور اعجاز احمد کو بری کردیا گیا، لیکن اس کی کڑواہٹ آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ یہ بھی سنا کہ 1994ء میں شین وارن سٹیووا اور سلیم ملک نے بھارتی بک میکر کو کچھ اہم معلومات فروخت بھی کی تھیں۔ شین وارن اور سٹیوا کو تو معمولی جرمانے کرکے بچالیا گیا لیکن آئی سی سی اس موقع پر کچھ اہم کردیتی تو یہ برائی ابتدا میں ہی ختم ہو جاتی۔ پھر یہ ہوا کہ ہم جب بھی بھارت یا پاکستان گئے۔ اس طرح کی کہانیاں سننے کو ملتیں۔

1983-84ء میں بھارتی دورے کے موقع پر مجھے ہوٹل میں فون کال آئی اور بک میکر نے پرکشش معاوضے کے ساتھ یہ آفر کی کہ امپائر خریدا جاچکا ہے، اگر آپ اپنے بلے کو تھپکی دے کر سلا سکتے ہیں تو آپ کے اکاؤنٹ میں آپ کی سوچ سے بڑھ کر رقم منتقل کی جاسکتی ہے۔ میں نے کال کاٹ دی۔ رات بھر نیند نہ آئی۔ صبح میچ تھا۔ میں سب بھول کر میدان میں اُترا ا، لیکن کپل دیو نے ڈاؤن دی لیگ سائیڈ پر زور دار اپیل کر کے میرا ماتھا ٹھنکا دیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ کپل دیو سے اس طرح کی اپیل کی توقع نہ تھی۔ یہ حیرت اور شدید ہوگئی جب میں نے دیکھا کہ اس قدر بیہودہ اپیل پر مجھے آوٹ دیا جاچکا ہے۔ ڈریسنگ روم میں آکر میں نے اپنے بلے پر سارا غصہ نکالا اور کچھ چیزیں توڑ دیں۔ کپل دیو اور امپائر کی یہ حرکت تو ثابت ہوچکی تھی کیونکہ بک میکر نے رات مجھے یہی تو بتایا تھا۔ ڈریسنگ روم میں بیٹھے ہوئے میرا دھیان عمران خان کی طرف پلٹا۔ میرا ایمان تھا کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوسکتا۔ اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملک سے بہت پیار کرتا تھا۔ وطن سے اس کا لگاؤ ناقابلِ تردید ہے۔ یہ محبت ویسی ہی تھی جیسی میری ویسٹ انڈیز کے لیے اور ایان بوتھم کی انگلینڈ کے لیے۔ عمران کا اپنے وطن پر فخر اسے کسی منفی سرگرمی میں ملوث ہونے ہی نہیں دے سکتی تھی۔ میرے خیال میں اس بے ایمانی کی تحقیقات بروقت ہوجاتیں، تو مستقبل کی کرکٹ شفاف ہی رہتی۔

(جاری ہے)