گاڈ فادر (7)

پچھلی قسط یہاں پڑھیں

جونی کو باغ میں مہمانوں کے سامنے گاتے دیکھ کر مائیکل کی منگیتر ’’کے‘‘ حیران رہ گئی تھی۔
’’تم نے مجھے بتایا ہی نہیں تھا کہ اتنا بڑا اسٹار بھی تمہاری فیملی کا اتنا اچھا جاننے والا ہے۔۔۔‘‘ وہ مائیکل سے بولی۔
’’اب میں ضرور تم سے شادی کروں گی۔‘‘
’’کیا تم اس سے ملنا چاہتی ہو؟‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’اب نہیں۔۔۔‘‘ کے بولی۔
’’کوئی زمانہ تھا کہ میں اس کی دیوانی تھی۔ تین سال میں اس کے عشق میں مبتلا رہی۔ جب یہ کلب میں گایا کرتا تھا تو میں صرف اس کا گانا سننے نیویارک آتی تھی اور اسے داد دینے کے لیے گلا پھاڑ کر چیختی تھی۔‘‘
پھر کے نے جونی کو اندر جاتے دیکھا تو بولی:
’’اب یہ مت کہنا کہ اتنا بڑا اسٹار بھی تمہارے والد کے پاس کوئی درخواست لے کر آیا ہوگا۔‘‘
وہ میرے والد کا گاڈسن ہے۔۔۔ اور اگر اس کے سر پر میرے والد کا ہاتھ نہ ہوتا تو یہ اتنا بڑا اسٹار ہی نہ بنتا۔ انہوں نے اسے نہ جانے کس کس موقع پر کس کس مصیبت سے بچایا ہے۔‘‘


رات کے پچھلے پہر ٹام ہیگن اپنی بیوی کو خدا حافظ کہہ کر لاس اینجلس جانے کے لیے ایرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ خصوصی ذرائع سے اس کے لیے ہنگامی طورپر سیٹ کا انتظام ہوا تھا۔ رات کے تین بجے ڈینڈو کا ہسپتال میں انتقال ہوگیا تھا۔ ہسپتال سے واپس آکر ڈان نے باقاعدہ طور پر ہیگن کو بتادیا تھا کہ اب وہ اس کا مستقل قانونی مشیر ہے۔ یوں اس نے اس روایت کو توڑدیا تھا کہ اس کے قانونی مشیر کو خالصتاً اطالوی ہونا چاہیے۔ ہیگن دوغلی نسل کا تھا۔ وہ جرمن آئرش تھا۔

ڈان نے اسے رخصت کرنے سے قبل جیک والز سے ملاقات کے بارے میں ضروری ہدایات دی تھیں۔ اور بہت سی باتیں اس پر بھی چھوڑ دی تھیں۔ اس معاملے کو صحیح انداز میں نمٹانا ڈان کے وکیل کے طور پر اس کی قابلیت اور اہلیت کا امتحان تھا۔

جن دو لڑکوں نے بونا سیرا کی بیٹی پر ظلم کیا تھا، ان کے سلسلے میں پال گیٹو کو مینزا کے توسط سے ہدایات دی گئی تھیں۔ گیٹو کو اس مقصد کے لیے دو آدمیوں کا بندوبست کرنا تھا، جنہیں اصل بات سے بےخبر رکھا جانا تھا۔ حتیٰ کہ انہیں یہ بھی خبر نہ ہوتی کہ ان کی خدمات درحقیقت کون حاصل کر رہا تھا۔ اس قسم کے کے کاموں میں انہی احتیاطوں کی وجہ سے کبھی بات ڈان کی ذات تک نہیں پہنچتی تھی۔ اگر کبھی ایسے آدمی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے۔۔۔ یا کسی اور وجہ کے باعث بیچ کی کوئی ’’کڑی‘‘ غداری کر جاتی تھی تب بھی ڈان یا اس کے خاص آدمیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا کیونکہ اس ’’کڑی‘‘ کو زنجیر کی باقی کڑیوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہوتا تھا۔

ٹام ہیگن پہلی بار ذرا مشکل قسم کے کام پر لاس اینجلس روانہ ہوتے وقت معمولی سا نروس تھا، لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس معاملے کو صحیح طرح ہینڈل کرنے پر ’’فیملی‘‘ میں اس کی عزت اور توقیر میں بے حد اضافہ ہوگا۔

جیک والز کے بارے میں تمام ضروری معلومات جمع کرلی گئی تھیں۔ وہ ہالی ووڈ کے تین اہم ترین پرڈیوسرز اور اسٹوڈیو مالکان میں سے ایک تھا۔ بیسیوں اسٹارز اس کے لیے طویل معاہدوں کے تحت کام کررہے تھے۔ اس میں شک نہیں تھا کہ صدر امریکا سے اس کے مراسم تھے۔ وہ وائٹ ہاؤس میں کئی بار ڈنر کرچکا تھا اور ایک بار صدر صاحب اس کے ہالی ووڈ والے گھر میں ضیافت پر آچکے تھے۔ سی آئی اے کے سربراہ سے بھی اس کے مراسم تھے۔

تاہم یہ سب باتیں ٹام ہیگن یا ڈان کے لیے زیادہ متاثر کن نہیں تھیں۔ کیونکہ یہ درحقیقت رسمی قسم کے تعلقات تھے۔ والز کی اپنی کوئی ٹھوس سیاسی حیثیت نہیں تھی۔ ویسے بھی وہ ایک تندمزاج آدمی تھا اور ڈان کا کہنا تھا کہ تندمزاج آدمیوں کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہوتے ہیں۔ والز کو اپنی طاقت اور اثرورسوخ کا بہت زعم تھا اور وہ موقع بے موقع اس کا اظہار بھی کرتا رہتا تھا۔

طیارہ جب لاس اینجلس کے ایرپورٹ پر اُترا تو صبح کا اُجالا نمودار ہورہا تھا۔ ہیگن اس ہوٹل میں پہنچا جہاں وہ فون پر اپنے لیے کمرہ ریزرو کراچکا تھا۔ شیو بناکر، غسل کرکے او رلباس تبدیل کرکے اس نے ناشتہ کیا اور اطمینان سے اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ دراصل وہ سستارہا تھا۔ اپنے اعصاب کو سکون دے رہا تھا اور اپنے آپ کو والز سے ملاقات کے لیے تیار کررہا تھا۔ والز سے دس بجے اس کی ملاقات طے تھی۔

ملاقات کے لیے والز سے وقت حاصل کرنا زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوا تھا۔ اسٹوڈیو ورکرز کی سب سے بڑی اور طاقتور یونین کا صدر گوف، ڈان کا عقیدت مند تھا۔ ڈان نے اسے فون کردیا تھا اور ہدایت کردی تھی کہ وہ والز سے ہیگن کی ملاقات کا وقت طے کرادے اور یہ بات بھی والز کے کان میں ڈال دے کہ اگر اس ملاقات کے نتائج ہیگن کے لیے خوش کن نہ ہوئے تو والز کے اسٹوڈیو میں ورکرز کی ہڑتال بھی ہوسکتی ہے۔

اس کال کے ایک گھنٹے بعد گوف نے ہیگن کو فون کرکے بتایا تھا کہ صبح دس بجے والز سے اس کی ملاقات طے ہوگئی ہے، تاہم اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی طرف سے ممکنہ ہڑتال کی مبہم دھمکی سن کر والز زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ ملاقات کا دس بجے کا وقت بھی کچھ اچھی علامت نہیں تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ والز نے اسے اتنی اہمیت نہیں دی تھی کہ کھانے پر مدعو کرتا۔ شاید ڈان کی شہرت بھی اس تک نہیں پہنچی تھی، کیونکہ ڈان شہرت حاصل کرنے کا قائل ہی نہیں تھا۔ وہ تو خود حتی الامکان غیرمعروف ہی رکھ کر کام کرنے کا قائل تھا۔ نیویارک سے باہر کے لوگ تو اس کے بارے میں بہت ہی کم جانتے تھے یا پھر سرے سے جانتے ہی نہیں تھے، تاہم ہر جگہ ضرورت کے وقت ڈان کا کوئی نہ کوئی پرانا رابطہ نکل آتا تھا۔

ہیگن کے اندازے درست ہی نکلے۔ والز نے اسے ملاقات کے وقت سے آدھا گھنٹہ زائد انتظار کرایا، تاہم ہیگن نے برا نہیں منایا۔ والز کا استقبالیہ کمرہ جہاں بیٹھ کر وہ انتظار کررہا تھا، نہایت شاندار، آرام دہ اور آراستہ تھا۔ اس وسیع کمرے میں دوسری طرف کاؤچ پر ایک بچی اور ایک عورت بیٹھی تھی۔

بچی کی عمر گیارہ بارہ سال کے قریب تھی، تاہم وہ بڑی عورتوں کی طرح پُرتکلف لباس میں تھی۔ ہیگن نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت بچی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بال نہایت سنہرے، ریشمی اور آنکھیں شفاف نیلی تھیں۔ بھرے بھرے سرخ ہونٹ یاقوت سے تراشیدہ لگ رہے تھے۔

عورت محافظ کی طرح بچی کے ساتھ تھی۔ وہ یقیناًاس کی ماں تھی، کیونکہ اس کے چہرے میں بچی کی کچھ مشابہت تھی، تاہم وہ لومڑی کی طرح چالاک، موقع پرست اور لالچی معلوم ہوتی تھی۔ بچی فرشتہ صورت تھی، جبکہ ماں کوئی عیار بلا معلوم ہوتی تھی۔ اس نے چند لمحے بڑی نخوت اور تکبر سے ہیگن کو گھورا۔ شاید اس کا خیال تھا کہ ہیگن نظر چرالے گا، مگر جب ہیگن نے ایسا نہیں کیا تو وہ خود دوسری طرف دیکھنے لگی۔ خوامخوا ہی ہیگن کا دل چاہ رہا تھا کہ اٹھ کر اس کی ناک پر ایک گھونسا رسید کردے۔

آخر کار ایک عورت آئی اور ہیگن کو اپنی راہنمائی میں کئی دفاتر کے سامنے سے گزارکر والز کے آفس میں لے گئے جو ایک پُرتعیش اپارٹمنٹ کی طرح تھا۔ ہیگن ان تمام دفاتر اور ان میں کام کرنے والوں کو دیکھ کر کچھ متاثر ہوا، لیکن دل ہی دل میں وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ شاید ان دفاتر میں کام کرنے والے بیشتر لوگ درحقیقت فلموں میں کام کرنے آئے تھے اور ’’چانس‘‘ کے منتظر تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (10)

والز ایک لحیم شحیم اور مضبوط آدمی تھا جس کی قدرے اُبھری ہوئی توند کو خوبصورتی سے سلے ہوئے سوٹ نے چھپالیا تھا۔ ہیگن اس کی پوری زندگی کی کہانی سے واقف ہوچکا تھا۔ دس سال کی عمر میں والز، ایسٹ سائڈ کے علاقے میں بیئر کے خالی بیرل ایک ٹھیلے پر جمع کرکے کباڑی کے ہاتھ بیچنے جاتا تھا۔ بیس سال کی عمر میں وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگا جو گارمنٹ فیکٹری میں ورکر تھا۔ تیس سال کی عمر تک وہ کچھ رقم جمع کرچکا تھا۔ اس نے نیویارک چھوڑدیا اور ہالی ووڈ آکر اپنی رقم فلموں کے کاروبار میں لگادی۔

اڑتالیس سال کی عمر تک وہ بہت بڑا فلم پرڈیوسر بن گیا، لیکن اس کی شخصیت کا اکھڑپن اور کرختگی برقرار رہی۔ وہ ایک تُند خو، اُجڈ اور گنوار سا آدمی تھا۔ پیٹھ پیچھے لوگ اس کا ذکر کچھ زیادہ عزت سے نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنا غصہ زیادہ تر چھوٹے اور کمزور لوگوں پر نکالتا تھا۔ پچاس سال کی عمر میں اس نے کھانے پہننے او راچھی محفلوں میں اُٹھنے بیٹھنے کے آداب سیکھنے کے لیے باقاعدہ کچھ لوگوں کی خدمات حاصل کیں۔ جس سے اس کی شخصیت اور انداز واطوار کچھ سنور تو گئے، لیکن ’’اصلیت‘‘ بہرحال مکمل طور پر نہیں چھپ سکی۔ اب بھی کسی نہ کسی موقع پر اس کی اصل شخصیت کی جھلک نظر آتی رہتی تھی۔

جب اس کی بیوی کا انتقال ہوا تو اس نے ایک ایسی اداکارہ سے شادی کرلی جو دنیا بھر میں مشہور تھی، لیکن اداکاری چھوڑنا چاہتی تھی۔ اس سے شادی کرکے اداکارہ نے اداکاری چھوڑدی۔ اب والز ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا اور فلمسازی وغیرہ کے علاوہ اس کے مشاغل وہی تھے جو اکثر بڑے دولت مندوں کے ہوتے ہیں۔ اس کی بیٹی نے ایک انگریز لارڈ سے شادی کی تھی اور بیٹے نے ایک اطالوی شہزادی سے۔

کچھ عرصے سے اس کی دلچسپی اپنے اصطبل میں بہت بڑھ گئی تھی، جس میں اس نے بہت اعلیٰ نسل کے ریس کے گھوڑے جمع کیے تھے۔ اخبار نویس گویا اپنا فرض سمجھ کر اس کی سرگرمیوں اور مشاغل کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے تھے۔ پچھلے دنوں ایک بار پھر اس وقت اس کا تذکرہ اخبارات میں جلی سرخیوں کے ساتھ ہوا تھا جب اس نے انگلینڈ کا ایک نہایت مشہور ریس کا گھوڑا ’’خرطوم‘‘ چھ لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ ان دنوں ایک گھوڑے کی یہ قیمت ناقابلِ یقین تھی۔

اس قیمت پر یہ گھوڑا خریدنے کے بعد والز نے یہ اعلان کرکے لوگوں کو مزید حیرت زدہ کردیا تھا کہ وہ اس گھوڑے کو ریس میں دوڑانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ وہ اسے ریس سے ریٹائر کررہا تھا اور اپنے اصطبل میں صرف افزائش نسل کے لیے رکھنا چاہتا تھا۔

اس نے قدرے خوش خلقی سے ہیگن کا استقبال کیا، تاہم اس کا چہرہ اب بھی اس کی شخصیت کی کرختگی کا پتا بتادیتا ہے۔ شاید اس نے اپنے بڑھاپے کو چھپانے کے لیے چہرے پر کچھ کرایا ہوا بھی تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے چہرے کی کھال کو لٹکنے سے بچانے کے لیے بہت اونچے ہنرمندوں نے کچھ کوششیں کی تھیں۔ ان باتوں سے قطع نظر وہ بہت توانا آدمی لگتا تھا۔ ڈان کارلیون کی طرح اس کی شخصیت اور حرکات وسکنات سے بھی حاکمیت جھلکتی تھی۔ لگتا تھا کہ وہ اپنی سلطنت پر حکمرانی کرنا خوب جانتا ہے۔

ہیگن نے تمہید میں وقت ضائع نہیں کیا اور براہِ راست مطلب کی بات پر آگیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک طاقتور آدمی کا نمایندہ ہے اور وہ طاقتور آدمی جونی کا دوست، مہربان اور مربی تھا۔ اس نے جونی پر ایک چھوٹی سی عنایت کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اگر اس کی درخواست پر عمل ہوگیا تو وہ زندگی بھر شکرگزار اور ممنون رہے گا اور اگر کبھی والز کو اس سے کوئی کام پڑا تو اسے مایوسی نہیں ہوگی۔ پھر ہیگن نے درخواست کی نوعیت بھی بیان کردی۔۔۔ یعنی جون کو اس فلم میں کاسٹ کرلیا جائے جس کی شوٹنگ اگلے ہفتے شروع ہورہی تھی۔

’’اور تمہارا وہ طاقتور دوست میرے کس کام آسکتا ہے؟‘‘ والز نے پوری بات سننے کے بعد چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
ہیگن نے اس کے لہجے کے تیکھے پن کو نظرانداز کرتے ہوئے ملائمت سے کہا:
’’آپ کے اسٹوڈیو میں ورکرز کی ایک ہڑتال متوقع ہے۔ میرے باس۔۔۔ جو میرے دوست اور محسن بھی ہیں۔۔۔ اس ہڑتال کو رکواسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کا ایک اہم اسٹار جو پہلے چرس پیتا تھا، اب ’’ترقی‘‘ کرکے ہیروئن پینے لگا ہے، اسے فلموں میں کاسٹ کرکے آپ کروڑوں ڈالر کماتے تھے۔ اب بھی اس کے نام پر آپ کی خاصی دولت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔۔۔ لیکن وہ روز بروز ناکارہ ہورہا ہے، کام کے قابل نہیں رہا۔ میرے باس ایسا انتظام کردیں گے کہ آپ کے اس ہیرو کو کہیں سے ہیروئن نہیں ملے گی اور وہ یہ عادت چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ بھی اگر آپ کو مستقبل میں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا تو آپ صرف ایک فون کردیجیے گا، مسئلہ حل ہوجائے گا۔‘‘

والز کچ اس طرح اس کی باتیں سن رہا تھا جیسے اس کے سامنے کوئی چھوٹا بچہ بیٹھا بڑی بڑی گپیں ہانک رہا ہو۔ جب وہ بولا تو اس کی آواز میں کھردرا پن تھا جو یقیناًاس کے ماضی کا آئینہ دار تھا۔

’’تم مجھے دھمکانے کی کوشش کررہے ہو؟‘‘ اس نے دریافت کیا۔
’’ہرگز نہیں!‘‘ ہیگن نے ہموار لہجے میں کہا ۔
’’میں تو صرف ایک دوست کا پیغام لے کر آیا ہوں جس کی درخواست قبول کرنے میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔‘‘
تب شاید والز نے کوشش کرکے اپنے چہرے پر غصے اور برہمی کے تاثرات پیدا کیے او رمیز پر ہیگن کی طرف جھکتے ہوئے پھنکارنے کے سے انداز میں بولا:
’’ٹھیک ہے اب میں تم سے صاف صاف باتیں کرتا ہوں۔ سنو تم اچھی طرح سن لو اور جو بھی تمہارا باس ہے، اسے بھی جاکر بتادو۔۔۔ جونی کو تو اس فلم میں ہرگز کام نہیں ملے گا خواہ مافیا کے کتنے ہی کیڑے مکوڑے اپنے بلوں سے نکل کر میرے پاس آجائیں۔۔۔‘‘
پھر وہ کرسی سے ٹیک لگاکر ذرا پھیل کر بیٹھتے ہوئے استہزائیہ لہجے میں بولا:
’’شاید تم نے کبھی جے۔ایڈگر ہوور کا نام سنا ہو۔۔۔ یہ صاحب اتفاق سے امریکا کے صدر ہوتے ہیں۔ وہ میرے قریبی دوست ہیں۔ اگر میں ان سے ذکر کروں کہ مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تو تم لوگوں کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کیا چیز آکر تم سے ٹکرائی اور تمہیں فنا کرگئی۔‘‘

ہیگن نے نہایت صبروتحمل سے والز کی بات سنی۔ والز کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اسے اُمید تھی کہ اگر وہ ایسی کوئی بات کرے گا بھی۔۔۔ تو ذرا سلیقے سے۔۔۔ اور زیادہ مؤثر انداز میں کرے گا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنا سطحی اور اجڈ سا آدمی اتنے اونچے مقام پر پہنچ سکتا تھا۔ یہ خیال آنے پر ہیگن تو کچھ اور بھی سوچنے لگا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ فلمی دنیا میں پیسہ کمانا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ ڈان تو اس سے کہتا رہتا تھا کہ سرمایہ کاری کے لیے نئے نئے میدان تلاش کیے جائیں جہاں منافع کی توقع ہو۔ وہ سوچ رہا تھا کہ واپس جاکر ڈان سے ذکر ضرور کرے کہ فلمی دنیا میں بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ جب وہاں والز جیسا جاہل اور اجڈ آدمی اتنا کامیاب ہوسکتا تھا تو وہ لوگ کیوں نہیں ہوسکتے تھے؟

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (11)

وہ والز کے اندازِ گفتگو پر ذرا بھی غصے میں نہیں آیا تھا، کیونکہ ڈان نے اسے یہی سکھایا تھا۔
’’کبھی غصے میں نہ آؤ۔۔۔ کبھی کسی کو دھمکی نہ دو۔ اسے دلیل سے سمجھانے کی کوشش کرو۔‘‘

اس کے لیے ضروری تھا کہ توہین آمیز اندازِ گفتگو کا اثر دل پر نہ لیا جائے۔ اس نے ایک بار ڈان کو ایک بہت بڑے بدمعاش اور گروہ باز کے سامنے میز پر بیٹھ کر مسلسل آٹھ گھنٹے تک سمجھانے کی کوشش کرتے دیکھا تھا۔ ڈان اس بدمعاش کو اپنے کچھ طور طریقے ٹھیک کرنے کے لیے کہہ رہا تھا، مگر اس نے ڈان کی بات ماننے کے بجائے کئی بار اس کی توہین کرڈالی تھی۔ اس کے باوجود ڈان کی پیشانی پر بل نہیں آیا تھا اور وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
آٹھ گھنٹے بعد آخر کار وہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور اس نے بے بسی آمیز انداز میں ہاتھ پھیلاتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا:
’’بھئی اس آدمی کو دلیل سے قائل کرنا ممکن نہیں۔‘‘

پھر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا تھا۔ تب اس بدمعاش کا چہرہ دہشت سے سفید پڑگیا تھا۔ آخری جملہ ادا کرتے وقت ڈان کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی جسے محسوس کرکے بدمعاش کی ساری اکڑفوں ہوا ہوگئی تھی۔ اس نے ڈان کو کمرے میں واپس بلانے کے لیے قاصد اور نمایندے دوڑائے تھے، لیکن اس کی منت خوشامد بھی ڈان کو کمرے میں واپس نہیں لاسکی تھی۔ اس کے بعد ان دونوں کے درمیان صلح کا معاہدہ تو ہوگیا تھا، لیکن اس کے دو ماہ بعد اس بدمعاش کو اس وقت کسی نے گولی مار دی تھی جب وہ ایک باربر شاپ میں بال کٹوا رہا تھا۔

چنانچہ ہیگن نے نئے سرے سے ملائمت سے والز کو سمجھانا شروع کیا:
’’تم نے شاید میرا کارڈ توجہ سے نہیں دیکھا۔ میں ایک وکیل ہوں، میں اتنا احمق نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کو دھمکیاں دیتا پھروں۔ کیا میں نے ایک لفظ بھی ایسا کہا ہے جس میں کوئی دھمکی پوشیدہ ہو؟ میں مزید کہنا چاہوں گا کہ اگر جونی کو فلم میں کاسٹ کرنے کے لیے تمہاری کوئی شرط ہے تو وہ بھی بتا دو۔ ہم اسے پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔ ویسے اتنے چھوٹے سے کام کے عوض میں پہلے ہی خاصے بڑے فائدے کی پیشکش کرچکا ہوں، جبکہ وہ کام خود تمہارے اپنے لیے بھی فائدے کا ہے۔ تم خود اعتراف کرچکے ہو کہ جونی اس کردار کے لیے موزوں ترین آدمی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم سے یہ درخواست ہی نہ کی جاتی۔ اگر تمہیں خطرہ ہے کہ جونی کو لینے سے فلم نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے تو میرے باس فلم کے لیے پورا بجٹ اپنے پاس سے دے دیں گے۔ وہ ہر قسم کا نقصان برداشت کرلیں گے۔ بہرحال میں یہ واضح کردوں کہ ہم تمہیں مجبور ہرگز نہیں کریں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ تمہارے منہ سے ایک بار انکار نکل جائے تو پھر وہ انکار ہی رہتا ہے۔ ہمیں صدر ہوور سے تمہاری دوستی کے بارے میں بھی علم ہے اور ہماری نظر میں تمہاری بڑی عزت ہے۔ ہم جو بھی درخواست کررہے ہیں، جو بھی بات چیت کررہے ہیں۔۔۔ نہایت عزت واحترام سے کررہے ہیں۔‘‘

سرمایہ کاری کے ذکر پر والز کے چہرے پر قدرے نرمی کے آثار نمودار ہوئے اور وہ بولا:
’’تمہاری اطلاع کے لیے بتادوں کہ اس فلم کا بجٹ پانچ ملین ڈالر کا ہے۔‘‘
’’کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ ہیگن سرسری سے لہجے میں بولا۔
’’میرے باس کے بہت سے دوست ہیں جو ا ن کے مشورے پر اس سے زیادہ سرمایہ بھی کسی پروجیکٹ میں لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘‘
والز پہلی بار اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے لیے آمادہ نظر آیا۔ وہ ہیگن کے کارڈ پر نظر ڈالتے ہوئے بولا:
’’میں نیویارک کے زیادہ تر بڑے وکیلوں کو جانتا ہوں۔۔۔ لیکن میں نے کبھی تمہارا نام نہیں سنا۔۔۔ آخر تم ہو کون؟‘‘
’’میں زیادہ بڑی بڑی کمپنیوں کے لیے کام نہیں کرتا۔ میرا بس ایک ہی کلائنٹ ہے۔ وہی میراباس بھی ہے۔‘‘ ہیگن نے خشک لہجے میں کہا او راُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے مصافحے کے لیے والز کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ والز نے مصافحہ کرلیا۔

دروازے کی طرف دو قدم بڑھنے کے بعد پلٹا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو۔

’’مجھے معلوم ہے تمہیں آئے دن بہت سے ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اپنے آپ کو بہت اہم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ اہم ہوتے نہیں۔۔۔ ہمارا معاملہ اس کے بالکل اُلٹ ہے۔ تم ہمارے بارے میں معلومات کرلو۔ اس کے بعد اگر تم اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہو تو میرے ہوٹل میں مجھ سے رابطہ کرلینا۔۔۔‘‘
ایک لمحے کے توقف کے بعد وہ پھر بولا:
’’میرے باس تمہارے لیے کچھ ایسے کام بھی کرسکتے ہیں جو شاید صدر امریکا کو بھی مشکل لگیں۔‘‘
والز آنکھیں سکیڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شاید اب وہ بات کی گہرائی کو کچھ کچھ سمجھ رہا تھا۔ ہیگن نے نہایت شائستگی سے مزید کہا:
’’برسبیل تذکرہ۔۔۔ میں ذاتی طور پر تمہاری فلمسازی کی صلاحیتوں کا بڑا معترف ہوں۔ تمہاری بنائی ہوئی سبھی فلمیں مجھے اچھی لگتی ہیں۔ اسی لگن اور توجہ سے کام جاری رکھو۔ ہمارے ملک کوا چھی چیزوں کی ضرورت ہے۔‘‘
پھر وہ دروازہ کھول کر باہر آگیا۔

اس شام ہیگن کو ہوٹل میں والز کی سیکرٹری کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ ایک گھنٹے بعد ایک کار اسے لینے آئے گی۔ کار میں اسے مسٹر والز کے اس مکان پر جانا ہوگا جو ایک دیہی علاقے میں واقع تھا۔ ہیگن کو وہاں والز کے ساتھ ڈنر کرنا تھا۔ کار میں یہ سفر تین گھنٹے کا تھا۔ سیکرٹری نے یہ بتاتے ہوئے والز کو تسلی بھی دے دی کہ کار میں بھی کھانے پینے اور موسیقی وغیرہ سننے کا انتظام تھا۔ اس لیے سفر بوریت میں نہیں گزرے گا۔

اس کے بعد سیکرٹری بولی: ’’مسٹر والز نے مشورہ دیا تھا کہ آپ اپنا بیگ ساتھ لیتے آئیں کیونکہ رات کو آپ کو فارم ہاؤس میں ہی قیام کرنا ہوگا۔ صبح مسٹر والز آپ کونیویارک واپسی کے لیے خود ائیرپورٹ پہنچا دیں گے۔‘‘

ہیگن کو معلوم ہوچکا تھا کہ والز خود اپنے ذاتی جہاز میں فارم ہاؤس گیا تھا۔ اگر وہ ہیگن کو وہاں ڈنر پر مدعو کرنا ہی چاہتا تھا تو اپنے ساتھ جہاز میں بھی لے جاسکتا تھا۔ نہ جانے اس نے ایسا کیوں نہیں کیا تھا اور اسے کار کے ذریعے بلوانے کا بندوبست کیا تھا جو زیادہ زحمت کاکام تھا۔ اسے اس بات پر بھی حیرت تھی کہ والز کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ کل صبح کی پرواز سے نیویارک جانے کا ارادہ رکھتا ہے؟

امکان یہی نظر آرہا تھا کہ والز نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پرائیویٹ سراغ رسانوں کی خدمات حاصل کی ہوں گی۔ اس کا مطلب تھا کہ اب وہ ڈان کارلیون کے بارے میں جان چکا ہوگا اور اب ذرا سنجیدگی سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ بہرحال ہیگن نے سیکرٹری کا شکریہ ادا کیا اور کہہ دیا کہ ایک گھنٹے بعد وہ چلنے کے لیے تیار ہوگا۔ اسے اب اُمید کی کرن نظر آ رہی تھی۔ شاید والز اتنا گنوار اور موٹے دماغ کا نہیں تھا جتنا ہیگن نے آج صبح محسوس کیا تھا۔

(جاری ہے)