چلتا رہے یہ کارواں۔۔۔۔۔۔! علی معین نوازش

دل دل پاکستان جان جان پاکستان کا ملی نغمہ سنتے ہی یا اس کا ذکر آتے ہی ذہن میں جنید جمشید کا نام آتاہے یا شعیب منصور جنہوںنے اس ملی نغمے کو پروڈیوس کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا ،ان کی طرف دھیان جاتا ہے لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جس شخص کے ذہن اور دل کے کارخانے میں ان لازوال اشعارنے جنم لیا اور پھر قلم کے ذریعے اس کے موتیوں کی مالا پرو کے اسے سفید کاغذ کی زینت بنایا اس کا نام کیا ہے ؟

ہاں ہاں شعر و سخن سے محبت کرنے والے ، اپنے دانشوروں کا ادب کرنے والے، اپنے دور کے بڑے لوگوں کو یاد رکھنے والے اور دنیا میں ملک کا نام اونچا کرنے والوں سے عقیدت رکھنے والے ضرور ایسے لوگوں کا نام بھی جانتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں ، دل دل پاکستان جان جان پاکستان جیسے خوبصورت مصرعے لکھنے والے کا نام نثار ناسک ہے ، ایک ملنگ منش شخص جس نے اپنی ساری عمر قلم کے ذریعے ملک پاکستان اور عوام کے درد کو لکھا ہے ، ان حقیقتوں کا تذکرہ کیا ہے جنہوںنے غریب کی غربت کو دور کرنے کا خواب دکھایا تو ضرور لیکن اس سے اس کی نیند بھی چھین لی۔ نثار ناسک آج بھی راولپنڈی کے ایک چھوٹے سے علاقے کی ایک تنگ سی گلی کا مکین ہے ، تانگے ، سوزوکی یا رکشے کا یہ مسافر نہ جانے زندگی کے سفر کو طے کرنے کیلئے کتنا پیدل بھی چلا ہوگا، بغل میں ایک سیاہ رنگ کا معمولی سا بیگ جس میں کاغذ اور قلم کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔وہ اب تک گزرنے والی ساری عمر سچ لکھتا رہا، اس نے اپنے لئے کبھی کچھ نہیں مانگا، حکمرانوں کی کبھی مدح سرائی نہیں کی بلکہ دوسروں کے دکھ اور تکلیف دیکھ کر انہیں اپنے اشعار کے پارچہ جات پہنا تا رہا ، بعض نام نہاد رہنمائوں کی چکنی چپڑی باتوں اور اس سے عوام کا دھوکے میں آجانے کو وہ صورت شعر لکھتے ہیں:فاختہ تو پاگل تھی، موسموں کی سازش میں، پھر فریب کھا بیٹھی ، توپ کے دہانے میں گھونسلہ بنا بیٹھی، اور جب آمریت کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ایک نوجوان کو شہید کردیا جاتا ہے تو نثارناسک60کی دہائی میں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کچھ اس انداز میں نوحہ لکھتے ہیں:

ماں مجھے صورت موسیٰ بہادے نہر میں، قتل طفلاں کی منا دی ہوچکی شہر میں، اور پھر ایک جگہ گھٹے ہوئے ماحول اور مسائل کی قید کو اپنے ہی خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ، مجھ کو آزادی ملی تھی تو کچھ ایسے ناسک، جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجرہ رکھ دے، دراصل نثار ناسک جیسے بڑے اور ملنگ منش شاعر کیلئے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں آج اس لئے طبع آزمائی کررہاہوں کہ گزشتہ روز ان کیلئے نیشنل پریس کلب میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں نثار ناسک کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جو یقیناً ان کی صلاحیتوں اور خدمات کا بدل تو نہیں ہوسکتا لیکن اس بات کا اعتراف ضرور ہوسکتا ہے کہ نثار ناسک ایک بہت بڑا شاعر ہے گوکہ میں اس تقریب میں شرکت تو نہ کرسکا لیکن اپنے چند دوستوں سے اس تقریب کا احوال جان کر چند سطور لکھنے کی سعی کررہا ہوں۔ نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم جن کی کوششوں سے نثار ناسک کے اعزاز میں تقریب اور انہیں ایوارڈ دینے کیلئے یہ محفل سجائی گئی اور وہ نثار ناسک کے دیرینہ دوستوں میں سے ہیں کے خطاب کے علاوہ جہا ں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی اختر وقار عظیم ، سماجی و سیاسی شخصیت ڈاکٹر جمال ناصر نے بھی اظہار خیال کیا وہاں سینیٹ کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے نہ صرف بطور مہمان خصوصی شرکت کی بلکہ زوردار خطاب کے ساتھ ساتھ نثار ناسک کے ہاتھوں میں ایوارڈ بھی تھمایا ،جن ہاتھوں نے قلم کے ساتھ بڑے جاندا ر اشعار لکھے ہیں

۔میں قلم دوست رضا ربانی کے خطاب کے مندرجات تو تحریر نہیں کرونگا البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ جو سچی اور اصو لی باتیں انہوںنے کی ہیں وہ رضا ر با نی جیسے با اصو ل سیا ست دا ن کے منہ سے ہی اچھی لگتی ہیں حالانکہ ایسی باتیں کرنے کو تو بہت سارے دیگرسیاست دان بھی کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

چونکہ یہ سطور نثار ناسک کیلئے لکھنے کی کوشش کررہاہوں اس لئے میں دائیں بائیں نہیں جانا چاہتا، حاضر ین، جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد تھی کی فرمائش پر نثار ناسک نے عمر رفتہ کی وجہ سے کانپتی زبان سے بہت سارے اشعار بھی سنائے اور ان کے ان اشعار نے کئی آنکھوں کو نم کردیا۔نثا ر نا سک کہتے ہیں کہ،اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے، میرے ہونٹوں پہ میرے نام کا بوسہ رکھ دے، حلق سے اب تو اترتانہیں ا شکوں کا نمک

اب کسی اور کی گردن پہ یہ دنیا رکھ دے، تو کیا اب لےکے پھرے گی میر ی تقدیر کا بوجھ، میری پلکوں پہ شب ہجر کا تارا رکھ دے،مجھ سے لے لے میرے قسطوں پہ خریدے ہوئے دن،میرے لمحے میں میرا سارا زمانہ رکھ دے، ہم جو چلتے ہیں تو خود بنتا چلا جاتا ہے،لکھ مٹی میں چھپا کر کوئی رستہ ر کھ دے،ہم کو آزادی ملی بھی تو کچھ ایسے ناسک،جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجر ہ رکھ دے، لیکن نثار ناسک بڑے دل کے مالک ہیں وہ زندگی اور جبر کی حقیقتوں کو بیان کرتے ہوئے جہاں کہتا ہے
دل دل پاکستان جان جان پاکستان ، وہاں یہ بھی بڑے جوش اور محبت سے کہتا ہے ، ایسی زمین اور آسماں ان کے سوا جانا کہاں، بڑھتی رہے یہ روشنی چلتا رہے یہ کارواں، انشا اللہ یہ کاروا ں چلتا رہے گا۔۔۔۔۔!