زندگی میں انقلاب کےلیے 7 قدم - سید اسرار احمد بخاری

ابھی اور اسی وقت!!
اپنی زندگی میں ابھی اور اسی وقت انقلاب لانے کے لیے درج ذیل 7 قدم اٹھائیے اور تاعمر فائدہ حاصل کیجیے!

پہلا اسٹیپ:
دس بائے دس کا اصول!
اگر آپ کسی منفی واقعے/سانحے کی وجہ سے دکھی یا پریشان ہیں تو اپنے آپ سے درج ذیل تین سوالات کیجیے:
1۔ کیا آج سے دس دن بعد اس معاملے کی آپ کی ذندگی میں کوئی اہمیت ہوگی؟
2۔ کیا آج سے دس ماہ بعد اس معاملے کی آپ کی ذندگی میں کوئی اہمیت ہوگی؟
3۔ کیا اس معاملے کی آج سے دس سال بعد آپ کی ذندگی میں کوئی اہمیت ہوگی؟
تین میں سے دو سوالات کے جوابات اگر '' نہیں '' میں ہیں تو اس کو ابھی اور اسی وقت ذہن سے جھٹک دیجیے، یہ آپ کے قیمتی وقت اور فوکس کو برباد کررہا ہے!

دوسرا اسٹیپ:
فقط ایک فیصد!
ابھی اور اسی وقت اپنی لائف کے کسی ایسے حصے کو منتخب کیجیے جہاں آپ کو بہتری یعنی امپروومنٹ کی ضرورت ہے. ہوسکے تو چار سے پانچ ایریاز منتخب کیجیے اور ابھی اور اسی وقت 1 فیصد فقط ایک فیصد امپروومنٹ فی دن کے حساب سے امپروومنٹ لانا شروع کیجیے، اگر روز ایک فیصد بہتری آنا شروع ہوگئی تو سوچیے ایک سال بعد آپ کہاں ہوں گے؟ اور اگر مستقل مزاجی سے روز ایک فیصد کی بنیاد پر ترقی کرتے رہے تو سوچیے پانچ سال بعد آپ میں انقلابی تبدیلی آچکی ہوگی کہ نہیں؟؟
ہے نا؟
تو بس اٹھائیے کاغذ قلم اور لکھیے کہ کہاں کہاں آپ کو امپروومنٹ کی ضرورت ہے، مثلا"
لینگویج اسکلز
ٹائم مینیجمنٹ اسکلز
ایموشنل مینیجمنٹ اسکلز
صحت و تندرستی وغیرہ
یا اس کے علاوہ بھی اپنے شعبےکےمطابق مزید ایریاز بھی ہوسکتے ہیں جو آپ ازخود کسی کے بتائے بغیر بھی سمجھ سکتےہیں!
سوچئیے روز کی بنیاد پر اگر صرف ایک فیصد امپروومنٹ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچادے گی! صرف ایک سے دو سالوں میں آپ موجودہ حالت سے دس گنا زیادہ مضبوط اور زیادہ پراعتماد ہوں گے!

تیسرا اسٹیپ:
منفی چیزوں سے چھٹکارا
ابھی اور اسی وقت الیکٹرانک میڈیا پر دکھائی جانےوالی سنسنی خیز خبروں اور ہاٹ ایشوز پر بحث و مباحثے کےچینلز کو بندکیجیے اور ہوسکے تو انتہائی ضروری خبروں کے سوا ٹی وی آن کرنے سے گریز کیجیے۔
ابھی اور اسی وقت سوشل میڈیا پر موجود تمام منفی قسم کے لوگوں/ پیجز اور گروپس کو ان فالو/ انفرینڈ یا بلاک کیجیے۔
ان دو اسٹیپس کے بعد اچانک آپ محسوس کریں گے کہ زندگی بہت پرسکون ہے!

یہ بھی پڑھیں:   انقلاب یا بغاوت - عمار مظہر

چوتھا اسٹیپ:
معاف کردیجیے
ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو مہینوں قبل کسی کی جانب سے کی گئی دل آزاری کو سینےسے لگائے رکھتے ہیں، جس سے اور کچھ نہیں صرف ہمارا فوکس موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹ جاتا ہے، تو ابھی اور اسی وقت معاف کردیجیے. یاد رکھیے اکثر لوگ بُرے نہیں ہوتے، کبھی کبھی کسی خاص سچویشن میں ان سے کوئی برائی سرزد ہوجاتی ہے، یہ بُرائی ان کے کردار کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ عارضی ردّعمل ہوتا ہے لہٰذا اس واقعے سے ضروری سبق لیجیے اور جو ہوا بھول کر آگے بڑھ جائیے!

پانچواں اسٹیپ:
روز شُکر اداکیجیے
دن کا آغاز خُدا کے حُضور ادائیگی شُکر سےکیجیے، آپ کی صحت، آپ کا گھربار، آپ کی ملازمت یا کاروبار، آپ کی اسکلز اور ٹیلنٹ، آپ کی وہ صفات جن کے سبب آپ کو لوگوں میں پذیرائی ملتی ہے، یہ سب خُدا کی نعمتیں ہیں جنہیں آپ گننا چاہیں تو شمار نہ کرسکیں، لہٰذا ایک ایک نعمت کو یاد کیجیے اور زبانِ حال سے اور کبھی زبانِ قال سے خُدا کے شکر کو ذندگی کا لازمی حصہ بنالیجیے، خُدا کی سنت ہے وہ شکر کرنےوالوں کو مزید دیتا ہے اور ناشکروں کا رزق تنگ کردیاجاتا ہے. آپ کا شکرگزاری کا یہ جذبہ زندگی میں بھی مثبت تبدیلیاں لائے گا، آپ خود اپنے آپ کو خوش/مطمئن اور مثبت محسوس کریں گے، یہ آپ کے جذبات کو مضبوط اور آپ کو پُرامید بنائے گا. کیا خیال ہے کامیابی کےلیے مضبوط جذبات اور اُمید بہترین زادِ راہ نہیں؟ تو ابھی اور اسی وقت سے شکر کو لازم پکڑ لیجیے!

چھٹا اسٹیپ:
جسمانی صحت کا خیال رکھیے
آپ کا جسم آپ کےلیے سب کچھ ہے، یہ صحت مند نہیں تو دنیا کا کوئی کام کوئی ذمہ داری ادا کرنا ممکن نہیں، لہٰذا جسمانی صحت کےلیے متوازن غذا اور ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنائیے، روزانہ چند منٹس سے شروع کیجیے اور کم از کم آدھا گھنٹہ ورزش کو معمول بناکر ہمیشہ کےلیے فٹ ہوجائیے، آپ کی فٹنس آپ کے موڈ پر بھی اچھا اثر ڈالتی ہے،
When you look good, you feel good!
آپ ایک قیمتی کار تبدیل کرسکتے ہیں، لیکن ایک بار جسم کی صحت خراب ہوگئی، اسے تبدیل نہیں کیاجاسکتا، اس لیے ابھی اور اسی وقت فیصلہ کیجئے اور صحت و تندرستی کے لیے اپنے جسم کا خیال رکھیے!

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کو خوشگوار بنائیں - مریم صدیقی

ساتوں اسٹیپ
مطالعہ کیجیے
مہینے میں کم از کم ایک کتاب ختم کیجیے، مطالعہ آپ کے ذہنی اُفق کو وسیع اور سوچ و فکر کو جِلا بخشتا ہے، یہ آپ کے ذہنی رویے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے، کیا آپ جانتے ہیں کہ بل گیٹس کی Reading Habit چھ گھنٹے پر ڈے ہے!، وارن بفیٹ ایک دن میں 600 سے ہزار صفحات کا مطالعہ کرتا ہے، مارک زکربرگ ہفتے میں دو کتب ختم کرنے کا عادی ہے. یہ تمام لوگ دنیا میں کامیاب لوگوں کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں، پھر انہیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟
دوستو وہی وجہ ہے جو اوپر بیان کی، مطالعہ آپ کے ذہنی افق کو وسیع اور آپ کی سوچ و فکر کو جِلا بخشتا ہے، ہرکامیاب انسان کی زندگی اٹھا کر دیکھ لیجیے، مطالعے کی عادت سب سے نمایاں نظر آئے گی!

اب دو بونس عادات:
ایک وقت میں ایک ٹاسک !Be Binary
یعنی ملٹی ٹاسکنگ سے گریز کیجیے، ایک وقت میں ایک ٹاسک اٹھائیے اور اسے مکمل کرنے تک دوسری ٹآسک مت لیجیے، فوکس آپ کی صلاحیتوں کو چارچاند لگادیتا ہے، جو کام کیجیے پوری لگن اور خوش دلی سے کیجیے، پھر دیکھیے یکلخت دنیا بدلی بدلی محسوس ہوگی!

دوسری عادت:
دن کا آغاز پاؤلو کولو کے اس خوبصورت قول سے کیجیے کہ جب آپ کسی مثبت کام کو کر ڈالنے کی ٹھان لیتے ہیں تو ساری کائنات اس کام کو انجام تک پہنچانے میں آپ کے ساتھ سازش میں شریک ہوجاتی ہے. میرے نزدیک اس سے زیادہ بہترین اور قیمتی قول کوئی نہیں ہوسکتا، بلاشبہ یہ ایک یونیورسل ٹروتھ ایک آفاقی سچائی ہے کہ جب آپ کسی کام کا سچا اور مصمم ارادہ کر لیتے ہیں تو حالات و واقعات اسی سمت میں مڑنا شروع ہوجاتے ہیں، بات صرف سچے ارادے اور عزم کی ہے!
تو کیا خیال ہے، شروع کریں آج سے؟
کیا کہا؟ ابھی سے؟
یہ چیز 🙂 (y)