ورنہ پورا پاکستان کھوتا خور نظر آئے گا - سعید بن عبدالغفار

انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے شکست کے بعد لعن طعن کرتے ہیں کہ ووٹر کھوتے یعنی گدھے کا گوشت کھانے والے لوگ ہیں، جاہل ہیں، بریانی کی پلیٹ پر ووٹ بیچنے والے ہیں۔

جب ووٹر کے بارے میں اجتماعی سوچ یہ ہوگی تو ایک عام آدمی تبدیلی کے نعرے کے بارے میں کیا خوش گمانی رکھے گا؟ وہ ایک عام آدمی ہے، چھوٹی سی ضروریات ہی اس کا سب کچھ ہیں، جن کی آپ کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔

خود ہی سوچ کر دیکھ لیں کہ جس ملک کی آدھی آبادی ناخواندہ ہے، اس کے مسائل وہی پچاس سال پہلے والے ہیں۔ اس کے بچے پانے پلاس پکڑے گیراج میں یا میلا رومال کندھے پر رکھے کسی ہوٹل پر ٹیبل صاف کرنے میں لگے ہیں تو کیا وہ پالیسی سٹڈیز دیکھ کر ووٹ دے گا؟

آپ انہیں کم تر کہیں، حقیر، گندا، میلا، کم فہم، کج رو، جاہل اور کھوتا خور بھی، آپ کو حق ہے تو انہیں بھی اپنے ووٹ کو سستا یا مہنگا بیچنے کا حق ہے۔ اس لیے تبدیلی کا نعرہ لگائیں لیکن قدم زمین پر رکھیں، آسمانوں میں اڑنا چھوڑ دیں۔

جو تبدیلی یا انقلاب کے بخار میں مبتلا ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ "کھوتا خوروں" کے لیے تبدیلی کا مفہوم بہت چھوٹا ہے کہ بیٹے کو نائب قاصد کی نوکری مل جائے، تھانے سے بے گناہ بھائی کی رہائی، تنازع کی صورت میں کوئي سیاسی مدد، ہر سہ ماہی میں چند ہزار روپے کی 'انکم سپورٹ' یعنی مالی مدد اس سے بھی کم تر مفادات ہیں جن کا حصول اسے اپنے ووٹ میں نظر آتا ہے۔ اس لیے عام آدمی کی زندگی دیکھ کر ہی تبدیلی کا نعرہ لگائیں، ورنہ پورا پاکستان آپ کو "کھوتا خور" ہی نظر آئے گا۔