خبر، سیاست اور ہمارے عمومی رویّے - محمد نعمان کاکاخیل

سیاست کی تعریف کے تناظر میں سیاست ایک ایسا عمل ہے جس سے لوگوں کی جماعتیں تصفیہ کرتی ہیں۔ یا پھر دوسرے الفاظ میں سیاست ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مابین مسائل پر بحث یا کار روائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلے رائے عامہ کی روشنی میں لیے جاتے ہیں۔

ترقی کے لیے عمومی شعور، عمومی ذہنی سطح، تربیت اور عصر کے ساتھ ہم آہنگی جیسے عوامل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب ذرا خبر لیتے ہیں کہ کیسے کوئی مسئلہ یا خبر آگہی کی جگہ سیاست بن گیا؟ خبروں اور معلومات کو کیسے سیاست کا سانس روکنے کے لیے استعمال کیا گیا؟ سیاست کا چہرہ اس وقت مسخ ہوا یا پھر کر دیا گیا، جب روز مرہ کے مسائل اور ذاتی ذمہ داریوں کے اندر کوتاہی اور کام چوری کو سیاسی پالیسیوں کے ساتھ جوڑا گیا۔ سیاست کی کمیوں اور کمزورپالیسیوں سے انکار ممکن نہیں لیکن حقیقت کے چشمے لگانے سے یہ انکشاف ضرور ہوگا کہ بعض مسائل ذاتی فرائض اور ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کے باعث وجود میں آتے ہیں اور جس کا حل ذاتی دائرہ اختیار میں ہی ہوتا ہے۔ ایسے مسائل کے اندر حکومت وقت کو مجرم قرار دینا یا پالیسیوں کا ماتم کرنا نا کسی مثبت نتائج کی نویدلا سکتا ہے اور نا ہی تابناک مستقبل کا ضامن ہو سکتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہی ہے کہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر چلنے والے اگر منہ کے بل گر جاتے ہیں تو بھی اس کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ، سیاسی قائدین کی نااہلی یا پھر کمزور سیاسی پالیسیوں کے ساتھ روابط ڈھونڈے جاتے ہیں اور یا پھر بعض اوقات روابط بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اکثریت عوام اس حقیقت سے عملاًانکاری ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے اندر کئی چیزیں ہماری توجہ مانگ رہی ہوتی ہیں مگر ہم ان کو توجہ نہیں دیتے یا پھر قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ ارد گرد ماحول کے اندر کچھ چیزیں اور حصہ داری ہماری ذات کے ساتھ بھی وابستہ ہے جس کو قبول کرنے اور سر انجام دینے سے ہم انکاری ہیں۔ لیکن ذاتی فرائض میں کوتاہی کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کو مشغلہ بنا لیتے ہیں بجائے ذمہ داریوں کی احسن طریقے سے بجا آوری کے۔

یہاں پر میڈیا کے کردار کا تذکرہ کیے بغیر مضمون کا چہرہ نامکمل ہوگا۔ روزانہ کے حساب سے ہمارے اردگرد کئی سارے خوشگوار واقعات پیش آتے ہیں لیکن یہ واقعات ہماری زندگی کے خوشگوار لمحات بننے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہاں مگر سیاسی ٹاک شو کے اندر میزبان اور مہمان کے مابین تلخ کلامی یا دو مہمانوں کے بیچ گرم بحث کے بعد سخت الفاظ کے تبادلے جیسے پروگرامات ہماری دلچسپی کا موضوع ضرور بنتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کسی بھی پروگرام کو سیاسی تڑکا لگا کر کامیاب بنانا ہوتا ہے۔ کہیں پر پورے نظام زندگی کے مسائل کوایک سیاسی شخصیت کی ناکامی اور نا اہلی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو کہیں پر مثبت نتائج و اثرات کو ایک پسندیدہ شخصیت کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ ہر خبر اور پروگرام کے اندر سیاسی عنصر ضرور شامل حال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غیر ضروری سنسنی اور اشتعال انگیز خبریں معاشرے کے استحکام کے اوپر برے اثرات مرتب کرتی ہیں جس کا نتیجہ مختلف طبقاتی ٹکراؤ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کی من حیث القوم محنت اور فرائض کی احسن طریقے سے بجا آوری اور انجام دہی جیسی خصلتیں قوموں کے عروج کے اندر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جتنا ان خصلتوں اور صفات کا مادہ اور اس کا احساس جاگزیں ہوتا ہے، اسی تناسب سے ترقی و عروج کے زینے چڑھے جاتے ہیں۔ یہ قدرت کا ایک قانون ہے جو بلا شبہ کسی مذہب، رنگ، نسل، ذات یا قوم کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی نہیں رکھتا۔ نظام ان ہی کے ہاتھ میں آتا ہے جو مذکورہ صفات کو اپنا خاصا بناتے ہیں اور جن کے اندر نظام چلانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

آئیں تہیہ کریں کہ اپنے ارد گرد تمام ان اچھے خبروں اور معلومات کو بحث کاموضوع بنائیں جو زندگی کے خوشگوار اور حسین لمحوں کو جلا بخشے۔ اور سیاست کو کچھ وقت کے لیے زندگی کے باقی معمولات، فرائض اور واجبات سے آزاد کر کے کھلی فضاء میں سانس لینے اور اونچی اڑان کے مواقع فراہم کرنے کا سامان مہیا کریں۔

Comments

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکا خیل بنیادی طور پر شعبہ طبیعیات سے وابستہ ہیں۔ سنجیدہ قلم نگاری کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی ساؤتھ کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر ہیں اور یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.