ایڈیٹر کے نام خط - نور الہدیٰ شاہین

سنیئر صحافی یا صحافت کے وہ طالب علم جو میڈیا کے ارتقائی سفر سے کچھ نہ کچھ واقف ہوں وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ایڈیٹر کے نام خط کی ایک زمانے میں بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی اور لوگ بڑی توجہ سے پڑھتے تھے۔ ( آج کل کے برائلر صحافی مستثنیٰ ہیں)

اس زمانے میں چونکہ میڈیا اتنا منہ پھٹ اور سوسائٹی اتنی لبرل نہیں تھی۔ اخبارات "حساس موضوعات" اور "فحاشی" پر مبنی خبریں چھاپنے سے کتراتے تھے۔ بعض اوقات بہت ہی اہم معاملات اسی "شرمیلے پن" یا "حساسیت" کی وجہ سے دب کرہ رہ جاتے تھے۔

پھر اس قسم کے موضوعات چھیڑنے کے لیے اخبارات نے ایک راستہ ڈھونڈ نکالا۔ ایڈیٹر خود ہی اسی موضوع پر لکھ کر اس کو "ایڈیٹر کے نام خط" کے سیکشن میں کسی فرضی نام کے ساتھ شائع کرنے لگے تاکہ عوام اخبار کے عملہ پر مشتعل نہ ہو بلکہ یہ سمجھے کہ اخبار کا کیا قصور؟ ہمارے جیسے کسی شہری نے ہی خط لکھا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اسی موضوع پر پھر بحث شروع ہوجاتی تھی اور اس کی حساسیت آہستہ آہستہ ختم ہوکر رہ جاتی تھی۔

ختم نبوّت اور قادیانی مسئلہ ایسے ہی حساس موضوعات تھے جن پر آج سے دو ہفتے قبل تک مولوی کے علاوہ کسی اور کو بات کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ آج ہر اینکر پرسن سرشام ختم نبوت اور قادیانی مسئلہ لیکر بیٹھ جاتا ہے۔ جن کو سورہ اخلاص اور قومی ترانہ پڑھنا نہیں آتا وہ بھی اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر اسی موضوع پر لب کشائی کر رہے ہیں۔ ہر پریس ریلیزی سیاست دان اسی موضوع پر اپنا بیان لکھ کر اخبارات کے چکر لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ جو قادیانی حضرات اپنی شناخت چھپائے پھرتے تھے آج وہ پرائم ٹائم کے ٹاک شوز میں آکر بیٹھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ - حامد کمال الدین

یہ پتہ جس نے بھی کھیلا ہے کمال کھیلا ہے۔ اسکرپٹ رائٹر نے کمال ہوشیاری سے معاملہ گلی کوچے تک پھیلا دیا۔ ہر خاص وعام کی زبان پر ایک ہی بات ہے۔ معاملے کی حساسیت یکسر ختم کردی۔ ختم نبوت قانون چھیڑنے والوں کو سزا ہوگی یا نہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ اسکرپٹ رائٹر اب تک کئی "ایوارڈ" اپنے نام کرچکا ہوگا۔