ایسا تو ہونا ہی تھا! - محمد عرفان ندیم

وہ کچھ دیرخاموش رہا اور بولا:’’اس کی وجہ میرا بچپن ہے،میں بچپن میں اپنے گاؤں میں رہتا تھا، میراگاؤں بہت خوب صورت تھا، ہر طرف سبزہ اور شادابی تھی، میں گاؤں میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اورزندگی ہنسی خوشی گزر رہی تھی۔ میں صبح سویرے اٹھتا، دوستوں کے ساتھ مل کر اسکول جاتا اوراسکول سے واپس آ کر گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتا۔لیکن ایک روز ایک اچانک حادثے نے میری ساری خوشیاں چھین لیں، میری مسکراہٹ کہیں کھو گئی، اسکول جانا بھی چھوٹ گیااور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں گھومنا پھرنا بھی ختم ہو گیا۔یہ حادثہ میری والد کی وفات کا تھا، میرا باپ اس وقت فوت ہوا جب میری عمر صرف 12 سال تھی۔

’’میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ اب ان کی ذمہ داری بھی میرے کندھوں پر آپڑی تھی۔ میں نے تعلیم کو خیرباد کہا اور ایک کوئلے کی کان میں کام کرنے لگا۔ میری عمر زیادہ نہیں تھی اس لیے مجھے اجرت بھی بہت کم ملتی تھی۔ مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈانٹ دیا جاتاتھا اور میں سوائے برداشت کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔یہاں سے جو اجرت ملتی، اس سے گھر چلنا مشکل تھا،میں نے اپنے گاؤں سے اسٹاک ہوم جانے کا منصوبہ بنایا، میں پائی پائی جمع کرتا رہا تاکہ اسٹاک ہوم جا کر کوئی میکنیکل کام سیکھ سکوں۔ نو سال کی مسلسل اور لگاتار محنت کے بعد میری پاس اتنی رقم جمع ہو چکی تھی کہ میں اسٹاک ہوم جاسکوں۔ میرے چھوٹے بھائی اب بڑے ہو چکے تھے چنا چہ میں نے گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ان کے حوالے کیا اور خود اسٹاک ہوم چلا آیا۔

’’یہاں آکر کئی دن ملازمت ڈھونڈنے میں لگ گئے۔ مختلف کمپنیوں کے دَر کھٹکھٹائے، بیسیوں کمپنیوں کی خاک چھانی، آخر ایک کمپنی میں نوکری مل گئی۔ میرے پاس ہنر تو تھا نہیں، میری مثال ایک کورے کاغذ کی سی تھی اور بغیر کسی ہنر کے یہاں جاب مل جانا میرے لیے غنیمت تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں کام سیکھتا رہا اور کچھ عرصہ بعد میری تنخواہ بھی بڑھ گئی۔ یہاں بھی مجھے کوئی برا بھلا کہتا تو میں خاموش رہتا۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ جس سے مجھے سیکھنے کے لیے کچھ مل سکتا ہے، اس کے مزاج اور رویے کی پراوہ کیے بغیرمیں اس سے استفادہ کرلوں۔ میری اس عادت سے بہت سارے کولیگ میرے دوست بن گئے۔

’’میں جس کمپنی میں جاب کرتا تھاوہ ٹیلی گراف کے آلات بناتی تھی۔ یہاں رہتے ہوئے میرے پاس اتنا ہنر آ چکا تھا کہ میں اپنا بزنس چلا سکوں چناچہ میں نے اسٹاک ہوم میں ہی ایک چھوٹی سی الیکٹرو مکینیکل ورکشاب کی بنیاد رکھی۔ میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھاکہ اس کے لیے جگہ خرید سکوں۔ میرے پاس صرف چند اوزار اور ایک 12 سالہ لڑکامزدور تھا جو ٹیلی فون کے آلات وغیرہ کی مرمت کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ میرا کاروبار بڑھنے لگا۔ جو بھی گاہک میرے پاس آتا، میں اس کا کام پوری دیانت داری سے کرتا،اس طرح کسٹمرز مجھ سے بہت خوش تھے،کاروبار بڑھتاگیا۔ اب ہم دو آدمی ناکافی تھے چناچہ میں نے چند ملازم بھی رکھ لیے۔ میں ان کی ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ کوئی ملازم مجھے چھوڑ کر نہ جاتا، میں اپنی کامیابی کا رازاپنے ملازمین کو سمجھتا ہوں، میں نے کبھی اپنے ملازمین کو حقیر نہیں سمجھا اور میں آج بھی ان کی قدر کرتا ہوں، انہیں کمپنی کی جان سمجھتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   دبئی میں جاب کی تلاش کیسے کی جائے؟ - میاں جمشید

’’اچھے ملازمین کے بغیر دنیا کی کوئی کمپنی ترقی نہیں کر سکتی، بلکہ کمپنی کا وجود ہی ملازمین کے دم قدم سے ہوتا ہے۔میں جب ملازم تھا تو میرے باس اور منیجرز کا رویہ سنگدلانہ ہوتا تھا،۔مجھے اس کا بارہا تجربہ ہوا۔ کسی ملازم سے غلطی ہو جاتی تو اسے فوراً نکال دیاجاتا، یہ سب دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا تھا اور میرا دل بہت کڑھتا تھا،تب سے میں نے ارادہ کیا کہ اگر خدا نے مجھے کو ئی کمپنی بنانے کا موقع دیا تو میں اپنے ملازمین کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز برداشت نہیں کروں گا، یہی وجہ ہے کہ آج میں اپنے ملازمین کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آتا ہوں۔میں نے ایک چھوٹی سی ورکشاپ سے کام شروع کیا تھالیکن اپنے ملازمین کے ساتھ اچھے تعلقات اور بہترین رویے کی وجہ سے ٹھیک 6 سال بعد یہ ورکشاپ Ericsson کمپنی کی شکل اختیار کر گئی تھی اور آج اس کی پروڈکٹس دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ہے اور اس کی سالانہ آمدن کئی ارب ڈالر ہے۔‘‘

میں آگے جانے سے پہلے آپ کو کل کے اخبارات کی ایک خبر بتانا چاہتا ہوں، کل کے اخبارات کے اندرونی صفحات میں ایک چھوٹی سے خبر چھپی تھی جس کا ماحصل یہ ہے کہ رائیونڈ کے علاقے میں مقامی ٹیکسٹائل کی کمپنی کے ملازمین نے تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے اپنے جنرل مینیجر کو تشدد کر کے مار ڈالا۔

یہ خبر صرف خبر نہیں بلکہ یہ پرائیویٹ مالکان کے لیے قدرت کی طرف سے وارننگ ہے۔ پرائیویٹ مالکان اپنے ملازمین کے ساتھ جو رویہ اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا جو رائیونڈ میں ہوا۔ جب آپ اپنے ورکرز کو تین تین مہینے تنخواہ نہیں دیں گے تو خود سوچیں وہ ذہنی مریض نہیں بنیں گے تو اور کیا کریں گے۔ ایک مزدور جس کا چولہا اور سارا گھر اس کی دس پندرہ ہزار تنخواہ پر چلتا ہے اور آپ تین مہینے تک اسے لولی پاپ دیتے رہیں ایسا کب تک ہو گا؟ آخر ایک دن لاوا پھٹے گا اور سب کچھ جل کر تباہ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   دبئی میں جاب کی تلاش کیسے کی جائے؟ - میاں جمشید

پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی " جاب سکیورٹی" ہے، ادارے کے مالکان کسی بھی وجہ سے بغیر پیشگی نوٹس کے کسی بھی ملازم کو فارغ کر دیتے ہیں۔ آپ پرائیویٹ ادارے میں ساری زندگی کھپا دیں آپ کی تنخواہ جہاں سے شروع ہوئی تھی ساری زندگی وہیں رہے گی اور جس دن آپ بیمار ہو کر ہسپتا ل پہنچ گئے یا آپ کی وفات ہو گئی آپ کی کمپنی نیا بندہ ہائر کرلے گی۔ ملک میں مشکل سے ہی کوئی ایسا پرائیوٹ ادارہ ہو گا جو اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہ دیتا ہو۔

آپ صرف میڈیااور اخبارات کو دیکھ لیں، یہ دونوں ادارے باقی ساری دنیا کی خبریں چھاپتے ہیں لیکن ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جاتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا، ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ لاہور کے ایک نجی چینل میں کام کرنے والا رپورٹر چھ ماہ تک دفتر کے چکر لگاتا رہا، بیمار اور ذہنی مریض ہو کر ہسپتال میں داخل ہو گیا، ایک دن ہسپتال سے ہی اٹھا اور دو بندوں کا سہارا لے کر دفتر گیا، تنخواہ تو نہ ملی لیکن وہ اسی دفتر میں زندگی کی بازی ہار گیا اور اس چینل کے جو مالکان ہیں ماشاء اللہ خود کو پکے دیندار کہلاتے ہیں، ہاتھ میں تسبیح بھی ہوتی ہے اور ماتھے پر محراب بھی بنے ہوئے ہیں لیکن اپنے ملازمین کو کبھی وقت پر تنخواہ نہیں دی۔ کچھ ادارے تو ایسا کرتے ہیں کہ ایک یا دو ماہ کی تنخواہیں دبا کر رکھتے ہیں اور اس طرح ملازمین کو بلیک میل کیا جاتا ہے کہ کوئی کمپنی چھوڑ کر نہ جائے۔ رائیونڈ میں جو ہوا یہ پرائیویٹ مالکان کے لیے قدرت کی طرف سے وارننگ ہے اور اگر اس کے بعد بھی ان لوگوں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا، اپنے ورکرز کو بروقت مزدوری نہ دی اور انہیں تین تین ماہ تک ذلیل و خوار کیا تو ایک دن ان کاانجام بھی رائیونڈ کے نواز ڈوگر جیسا ہو گا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں