مسلمان اور عصر حاضر کے تقاضے - مفتی توصیف احمد

اس بات میں دوسری رائے نہیں کہ مسلمان جب تک عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھے دنیا میں قیادت اور سیادت انہی کے ہاتھ میں تھی، ایک اور زاویے سے اگر دیکھا جائے تو انبیا کرام کے معجزات بھی وقت کی ضرورت کے پیش نظر تھے، اس زمانے میں جس چیز کی ضرورت تھی اللہ تبارک و تعالیٰ انہی کے مطابق نبی کو معجزہ عطا فرماتے۔

سلیمانی دور حکومت میں جادو کا زور تھا تو ہاروت اور ماروت کی شکل میں ان کے لیے تشفی سامان بہم پہنچایا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی جادوگری عروج پر تھی تو ان کے اذہان کے مطابق موسی علیہٰ السلام نے ان کے سحر اور تخیّل کو باطل قرار دیا اور معجزے کی قوت اور بالادستی کو تسلیم کروایا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں چونکہ طب کا طوطی بولتا تھا اسی زبان میں ان کو تبھی جواب دیا جاسکتا تھا جب معجزہ طب سے متعلق ہو۔ چنانچہ کوڑھ اور برص کے مریضوں کی شفایابی اور مردوں کو زندہ کرنا ان کی زبان بندی کے لیے ضروری تھا۔

آپ ﷺکے دور میں فصاحت اور بلاغت اپنے عروج پر تھی،عرب کے فصحیح اور بلیغ شعراء اپنی مثال آپ تھے۔ سبع المعلقات جیسا نابغہ روزگار شاعری مجموعہ بیت اللہ کے ساتھ معلق تھا جب تک اس کے مقابل کلام نہ آجاتا اس کو بیت اللہ کے ساتھ معلق رہنا تھا لیکن اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو کلام الٰہی سے نوازا، ایسا کلام جس میں فصاحت اور بلاغت آسمان کی بلندیوں کوچھو رہا تھا، عرب کی ساری فصاحت جس کے سامنے ہیچ تھی، جس کو سنتے ہی ادیب و بلیغ شعراانگشت بدنداں ہوتے۔ آخر کار فصاحت اور بلاغت کے زمانے میں آپ ﷺ کو شاہکار کلام سے سرفراز فرمایا گیا۔ یوں ایک تو کفار کی زبان بندی کی گئی تو دوسری طرف اس وقت کے تقاضے کے مطابق کلام بھی نازل فرمایا جو تا قیامت لوگوں کی ہدایت کا سامان ہے۔

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں نے ہمیشہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسائل کو بھانپا اور ان کے لیے عملی اقدمات بھی اٹھائے۔ صدر اول کے بعد کتب احادیث کی تدوین بھی وقت کی اہم ترین ضرورت تھی جس کو محدثین عظام نے عرق ریزی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حالات کے بدلتے تیور مسلمانوں کو دعوت فکر دے رہے تھے جن ادوار میں مسلمانوں نے وقت کی آواز پر لبیک کہا تو زمام اقتدار ان کا مقدر ٹھیری۔ بوعلی سینا، محمد بن زکریا الرازی، ابن الہیثم، جابر بن حیان، عمرخیام، ابن رشد اور موسیٰ الخوارزمی سبھی مسلمانوں کی صف کے درخشندہ ستارے تھے جنہوں نے اپنے کارناموں سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بقول شاعر؂

تھے تو وہ آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو

ہاتھوں پر ہاتھ رکھے منتظر فردا ہو

آج کے دور کے تقاضوں میں سے سب سے اہم تقاضاامت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا ہے، جس کو باری تعالی نے قرآن میں’’ حبل اللہ ‘‘یعنی اللہ کی رسی قراد دیا اور مضبوطی سے تھامنے کاحکم دیا، تفرقہ بازی سے منع فرمایا اوریہ بھی بتلایا کہ تمہاراآپس کا اختلاف اور نزاع خطرناک ہے اس سے تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ لیکن آج کا مسلمان اس سبق کو بھول چکا، امت مسئلہ بکھری پڑی ہے،اقوام عالم اس پر ٹوٹ پڑی ہیں، ایک ایک کرکے مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے اور مسلمان حسرت ویاس کی تصویر بنے مظلوم و مقہور کھڑے ہیں۔ شام، عراق، افغانستان اور اب برما کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ کس طرح مسلمان بھائی کی مدد کی جائے یہ سبق ہم بھول چکے ہیں مصلحت نامی چیز سب کو اپنی جگہ مطمئن کیے بیٹھی ہے۔ ایک زمانے میں محمد بن قاسم بہن کی آواز پر لبیک کہتا سندھ کے راجوں کے خلاف نبرد آزما تھا آج کے محمد بن قاسم خود اپنے ہاتھوں بہنیں اغیار کے حوالے کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر کسی کی آنکھ میں تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے قرار ہوتا ہے ‘‘، آج کیوں امت مسلمہ جسد واحد نہیں، کیوں مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں ہے؟ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ’’او آئی سی‘‘اور چالیس اسلامی ممالک کا اتحاد خواب خرگوش کے مزہ لوٹ رہا ہے، آخر کب تلک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے امت مسلمہ کے رستے زخموں کا تماشہ کیاجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

اس دور کے اہم تقا ضوں میں سے دوسرا اہم تقاضا معاشی اصلاحات کا ہے،معاشی حالات تمام اسلامی ممالک کے دگرگوں ہیں، یہی معیشت جس کے بارے میں رسو ل ﷺ نے فرمایا ’’قریب ہے کہ فقر انسان کو کفر تک پہنچا دے‘‘۔ اگر معاشی اصلاحات پر توجہ نہ دی گئی تو اس حالت کا انتظار کرنا چاہیے۔ معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ مسلمان ممالک کے سربراہان اپنی رقوم یہودیوں کے قبضے میں جمع کرو ارہے ہیں۔ پوری دنیا کا معاشی سسٹم انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ ’’ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف‘‘نے سب کو شکنجے میں کسا ہوا ہے۔ کیوں ایشیا ء اور وسط ایشیاء، یورپ اور افریقہ کے اسلامی ممالک اس سے گلو خلاصی کی نہیں سوچتے؟ یہودی بینکاری کے متبادل کو کیوں نہیں تلاشا جاتا؟ آخر کب تک سود کے ذریعے اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ مول لی جائے گی؟ عمر بن عبد العزیز کے دور میں زکٰوۃ لینے والا نہیں ملتا تھا، اس دور کی معاشی اصلاحات کیا تھیں؟ حضرت عمر ؓبائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کیسے کرتے تھے؟ سب سے بڑھ کر آپ ﷺ کے دورمیں مدینہ کی اسلامی ریاست کی مثال ہمارے سامنے ہے ایک مضبوط اور مستحکم ریاست، کیا اس میں بھی ہمارے لیے کوئی حل نجات نہیں؟یقیناً ان تمام چیزوں کا جواب موجود ہے، کوئی سوچے تو سہی، کوئی سامنے کو توآئے، کوئی تو حل پیش کرے۔ دور قریب کے مفکر علامہ محمد اقبال، مولانا عبید اللہ سندھی اوردیگر اسلامی ممالک کے نامور مفکرین کی آرا ء سے استفادہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ اسلامی بینکاری اگر قابل عمل اور قابل تنفیذ ہے تو اس کے لیے ٹھوس حکومتی سطح کے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟ اگر یہ ممکن نہیں تو اس کا دوسرا متبادل کیا ہوگا؟ اس پر بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ ایسا مالیاتی نظام جس میں امیر امیرسے امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائے اسلامی نظریہ اور فکر سے ہم آہنگ نہیں اسلام معاشی توازن اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا حامل ہے، اس سلسلے میں مسلمانوں کو اپنے زکٰوۃ کے سسٹم کو مضبوط کرنا اور اس کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے عمل سے بچا جا سکے۔

دور جدید کے تقاضوں میں سے ایک اور اہم تقاضا جدید علوم پر دسترس اور ان کا حصول یقینی بنا نا ہے۔ جب تک مسلمان جدید علوم کے حامل تھے زمام اقتدار انہی کے ہاتھ میں تھی ستاروں اورسیاروں کی رصد گاہیں ان سے چنداں دور نہ تھیں، جغرافیہ اور ریاضی ان کے گھر کی چیزیں تھیں۔ خود مسلمانوں کے پیغمبر جدید علوم کی تحصیل اور ان کے تعلم کے لیے صحابہ ؓ کی تشکیل فرماتے ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے ‘‘اگر حدیث کے الفاظ نہیں بھی تو بھی مضمون حدیث کی تائید ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں بھی اس بابت اشارہ موجود ہے اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو قیادت اور سیادت عطا کی تھی ان سے کچھ احکامات کی پیروی کا مطالبہ کیا نماز پڑھنا، زکٰوۃ ادا کرنا، صبر کرنا، میرے وعدوں کو پورا کرنا میں تمہارے وعدے پورا کروں گا، حق کو باطل کے ساتھ نہ ملانااور دیگر لیکن انہوں نے نا صرف عمل نہیں کیا بلکہ بد دیانتی اور برائی کے کاموں مشغول ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے قیادت کا منصب لے کر ان کے چچا زاد بھائی اسماعیل کی اولاد کو دے دیا۔ اب جب قیادت بنو اسماعیل میں آئی تو آنحضرت ﷺکو بھی حکم دیا گیا سیادت ان کی امّت کا مقدر رہے گی، لیکن انہیں ان علوم کا حامل ہونا پڑے گا، ان فی خلق السموات والارض واختلاف اللیل والنہار۔۔۔۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے زمینی اور آسمان سے متعلق علوم ہوا، چاند، ستارے اور سمندروں سے متعلق غور کرنے کا حکم دیا۔ ایک زمانہ تھا جب امت مسلمہ ان علوم کی حامل تھی تو ستاروں کی رصد گاہیں، زمین کی پیمائشیں، طب کی باریک بینیاں ِ،علم جراحت، علم ریاضی اور ہندسہ،چاند کی ساخت، کمیت اور کیفیت، علم الافلاک، کشتی رانی، بحری بیڑے، قسطنطنیہ میں علوم و معرفت کے گراں قدر پہاڑ، غرناطہ اور قرطبہ کے تاریخی آثار اور کاغذ کی صنعت سمیت بہت سی چیزوں پر مسلمان کمنڈ ڈالا کرتے ہے اسی کو اقبال ؔنے کہا تھا

لیکن آج کی خستہ حالی تو دیکھیے، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جدید علوم سے بیگانگی کا یہ عالم ہے کہ ہر سال چاند کے مسئلے پر یہ قوم الجھی نظر آتی ہے، کسی کو نظر آتا ہے تو کوئی کوتا ہ نظر رہ جاتا ہے،ہمیں دور ررفتہ کی جانب جانا پڑے گا، اسلاف کی تاریخ کو از سر نو کھنگھالنا ہوگا، جدید علوم کا حصول تو بہت ضروری ہے اس کے بغیر ترقی یافتہ اقوام کی صف میں اپنا مقام پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔ عصری تقاضوں کا نچوڑ اور خلاصہ اگر کسی بات کو لکھا جائے تو وہ اسلامی تعلیمات قرآن وحدیث ہیں۔ جن پر توجہ بہت ضروری ہے آج کا مسلم ان چیزوں سے بیگانہ ہوچکا ہے۔ انگریزی میں تو ید طولیٰ حاصل ہے اور اسلامی تعلیمات سے واقفیت کی حد یہ ہے کہ جنازہ تک نہیں آتا، اجتماعی برائیاں اور خرابیاں مسلمانوں کے تعاقب میں ہیں، حکمرانوں کی اکثریت بھی ان علوم سے کنارہ کش ہے، پارلیمنٹ میں بیٹھے ممبران جہالت کے نشاں کدے ہیں جنہیں سورہ اخلاص تک نہیں آتی۔ ختم نبوت کا مفہوم تک ذہن نشین نہیں ایسے لوگ قیادت کریں گے تو جہالت نے بسیرے کرنے ہی ہیں، غلامی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان دور جدید کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار اور تعلیمات پر پختگی سے کاربند ہوں، اسلاف کے ساتھ تعلق مضبوط بنائیں اور اپنے اپنے ملک کو ترقی اور خوشحالی کا استعارہ بنائیں، اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق قائم کریں پھر وہ دن دور نہیں جب ان کو کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل ہو

نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی