انتظام - محمد جمیل اختر

’’دیکھو میں بڑی تکلیف میں ہوں‘‘
’’حوصلہ رکھ رجّو حوصلہ!‘‘

یہ فقیروں کی بستی تھی، دور دور تک جھونپڑیاں ہی جھونپڑیاں، انہی میں ایک جھونپڑی کمالے کی تھی، جس میں کمالے کے علاوہ چاراور زندگیاں بھی سانس لیتی تھیں، اُس کی بیوی رجو اور اس کے تین بچے۔

زندگی جینے اور زندگی گزارنے میں بڑا فرق ہوتا ہے، سو وہ گزار رہے تھے۔ ان کا واحد ذریعہ معاش بھیک تھی۔ کمالے اور رجو کو ایک ہی ہنر آتا تھا اور وہ تھا بھیک مانگنا۔ کوئی اور ہنر سیکھنے کا نہ انہیں کبھی وقت ملا اور نہ اُنہیں ایسا کوئی خیال آیا۔ بھیک مانگنا بری بات ہے، انہیں یہ بات معلوم ہی نہیں تھی۔ انہیں صرف یہ معلوم تھا کہ بھوکا رہنامشکل ہے۔وہ اور رجو سارا دن بھیک مانگتے اور ان کے تینوں بچے صبح سے شام تک ان کا انتظار کرتے۔

کمالے نے کئی بار رجو کو کہا کہ اب انہیں بھی ہنر سیکھنا چاہیے پر رجو ہر بار آڑے آجاتی۔

’’نہ نہ کمالے، سیانا ہو حالے تے اے بہوں چھوٹے نیں‘‘

حالانکہ ارد گرد کی جھونپڑیوں سے ان کی عمر کے بچے اب پچاس ساٹھ روپے کی دیہاڑی لگا رہے تھے۔ باقی بچوں کی نگاہ میں یہ بچے انتہائی کاہل اور بیکار تھے جو سارا دن جھونپڑی کے اندر یا جھونپڑیوں کے درمیان کھیلتے رہتے۔

وقت ایسے ہی مانگ مانگ کے گزر رہا تھا کہ ایک روز رجو کے پیٹ میں شدید درد اٹھا، جتنے ٹوٹکے انہیں آتے تھے سب آزما ڈالے، اور جب سارے ٹوٹکوں سے آرام نہ آیا تو کمالے کو خیال آیا کہ دنیا میں ہسپتال نام کی بھی ایک جگہ ہوتی ہے، جہاں انسانوں کا علاج ہوتا ہے۔ لیکن ہسپتال کے بارے اس کی معلومات انتہائی کم تھیں، اسے صرف اتناپتہ تھاکہ یہاں علاج ہوتا ہے، کیوں اور کیسے کے بارے اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ سو، اس نے اردگرد کی جھونپڑیوں کے بھکاریوں سے اس بارے پوچھا کہ ہسپتال کیسے جاتے ہیں اور کیا وہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ بھکاریوں کا بھی علاج ہوتاہے؟

سب لوگوں کے مطابق ہسپتال جانے کے لیے تو کافی رقم درکار ہوتی ہے۔

’’کتنی رقم؟ ‘‘ کمالے نے پوچھا

کتنی کا تو ان بھکاریوں کو بھی نہیں پتہ تھا بس بہت رقم چاہیے ہوتی ہوگی۔

میرا خیال ہے پانچ سو میں علاج ہوجاتا ہوگا اس نے اپنے ذہن پر بہت زور ڈال کر یہ نتیجہ نکالا تھا۔ اُس کاخیال تھا کہ پانچ سو کچھ کم نہیں ہوتے پانچ دن بھیک مانگو تو پانچ سو بنتے ہیں سو پانچ دن کی کمائی کچھ کم تو نہیں ہوتی۔

سو اسے رقم جمع کرنی تھی۔

اگلے پانچ دنوں میں وہ رات گئے تک بھیک مانگتا، ان دنوں اس کی آواز میں درد اور بڑھ گیا تھا پہلے فقط روٹی کادرد تھا اب اس میں اس کے بچوں کی ماں کا درد بھی شامل تھا، پانچویں دن جب وہ جھونپڑی میں داخل ہوا تو اس کے پاس پانچ سو روپے تھے۔

’’دیکھو میں بڑی تکلیف میں ہوں۔ ‘‘ رجو نے کہا

یہ بھی پڑھیں:   خط غربت سے نیچے دبے لوگ - اصغر عباس

’’بس رجو حوصلہ رکھ، میں نے رقم کا انتظام کرلیا ہے، کل ہسپتال چلیں گے پھر تو چنگی بھلی ہوجائے گی۔‘‘ اُس نے رجو کو حوصلہ دیا اس کا خیال تھا کہ پانچ سو روپے میں تو علاج ضرور ہوجائے گا۔

اگلے روز وہ رجو کو سرکاری ہسپتال لے گیا رجو کو شدید درد تھا لیکن ہسپتال کے قواعد وضوابط بڑے سخت جو غریبوں پر سختی سے نافذ کیےگئے تھے۔ وہ رجو کو لے کر صبح سویرے ہسپتال پہنچا تھا، بڑی مشکل سے پرچی بنی وہ ایک بنچ پر بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے ساتھ بنچ پر بنچ پر پہلے موجود صاف ستھرا آدمی اُٹھ کر انہیں نفرت سے دیکھتے ہوئے بڑبڑانے لگا ’’ اب ہسپتال میں بھی ان لوگوں نے ڈیرے جمالیے ہیں معلوم نہیں اِس ملک کا کیا بنے گا؟‘‘اور دور جاکر کھڑا ہوگیا۔

سب سے آخر میں بھکارن کا نمبر آیا۔

ڈاکٹر نے ایک ٹیسٹ تجویز کیا تھا، کمالے کے لیے یہ سب پہلا تجربہ تھا وہ پوچھتا پچھاتا آخر وہ ٹیسٹ کرانے میں کامیاب ہوگیا، چار سو کا ٹیسٹ تھا۔ اس نے ذہن میں حساب لگایا اب اس کے پاس سو روپے باقی تھے پھر اسے یہ سوچ کر خوشی ہوئی کہ آخر اب ٹیسٹ بھی تو ہوگیا ہے اور اب رجو ٹھیک بھی ہوجائے گی، وہ رپورٹ لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا ڈاکٹر نے ایک نظر رپورٹ پر ڈالی اور ایک نظر سے بھکاری کابغور معاشی معائنہ کیا۔

’’تمہاری بیوی کے گردوں میں مسئلہ ہے آپریشن کرنا ہوگا، بیس ہزار کا انتظام کر لوگے؟‘‘

’’بیس ہزار؟؟؟‘‘

اس نے کبھی بیس ہزار اکٹھے نہیں دیکھے تھے وہ تو سو دو سو کی دیہاڑی لگانے والا آدمی تھا اور وہ تو سمجھ رہا تھا کہ یہ ٹیسٹ ہی تمام درد کا علاج ہے اور رجو ٹیسٹ کرانے کے بعد ٹھیک ہوجائے گی لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔

’’صاب، اپریسن جروری ہے کیا؟‘‘اُس نے منمناتے ہوئے پوچھا

’’ہاں بہت ضروری ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا

’’کوئی دوا نہیں مل سکتی اس بیماری میں؟‘‘

’’ایک دوا میں نے لکھ دی ہے اس سے کچھ دیر آرام تو ہوگا لیکن اس کا حل آپریشن ہی ہے۔‘‘

دوا کا نسخہ سنبھالے وہ میڈیکل سٹور پر پہنچا۔

اس نے چونکہ بچپن سے بھیک ہی مانگی تھی اس کا چہرہ کچھ ایسا ہو گیا تھا کہ کوئی بھی دیکھتا تو وہ اسے بھکاری ہی سمجھتا۔ یہ دنیا بڑی ظالم ہے یہ ظاہر سے ہی انسان کو پرکھتی ہے۔

’’معاف کرنا۔‘‘ میڈیکل سٹو ر والے نے اسے دیکھتے ہی کہا

’’نہیں، نہیں صاب میں نے دوائی لینی ہے‘‘

پیسے ہیں؟ سٹور والے نے پوچھا

ہاں جی۔۔

اچھا کون سی دوا؟

اس نے نسخہ آگے کر دیا

یہ لو یہ ہے وہ دوا؟

صاب کتنے پیسے؟

روپے ۹۸۰ ‘‘

’’کتنے صاب؟؟؟‘‘ آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اس کی جیب میں سو روپے تھے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ دوائی بھی اتنی مہنگی ہوتی ہے اس کی سمجھ جتنی تھی اس کے مطابق گاڑیاں مہنگی تھیں، بنگلے مہنگے تھے اور روٹی تو سب سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مجبوری و بے بسی اور سیلف ریسپیکٹ کا درس - شاہد مشتاق

’’نو سو اسّی۔ ‘‘سٹور والے نے پھر کہا

’’صاب یہ رکھ لیں میں پھر آؤں گا لینے‘‘

’’مجھے پہلے ہی پتہ تھا، پیسے پاس ہوتے نہیں آجاتے ہیں وقت ضائع کرنے۔ ‘‘

اس نے سٹور والے کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی، وہ بچپن سے ایسی باتیں سنتا آیا تھا۔

’’کمالے دوا لے آئے ہو؟‘‘ رجو نے درد سے کراہتے ہوئے کہا

’’لے آؤں گا، لے آؤں گا۔‘‘

دیکھ کمالے میں بڑی تکلیف میں ہوں۔

’’جانتا ہوں بھلیے لوکے، بس تھوڑے سے پیسوں کا انتجام کرنے دو۔‘‘

فی الحال تو نو سو اسی روپے کا اور اس کے بعد کے بیس ہزار کے بارے ابھی وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

’’کل سے یہ تینوں بھی میرے ساتھ کام پر آئیں گے۔‘‘ کمالے نے رجو کو اپنا فیصلہ سنایا

رجو نے کچھ کہنا چاہا کہ درد کی ایک لہر اٹھی۔

’’اچھا ٹھیک ہے‘‘

اگلے روز سب کام پر نکل پڑے، بھکاری کے بچے تھے فوراً کام سیکھ گئے، یقیناًبھوک بڑی استا د ہے
جو کام بھرے پیٹ سے نہیں ہوتے وہ خالی پیٹ سے ہوجاتے ہیں سو شام کو کسی کے پاس تیس روپے تھے کسی کے پاس چالیس، لیکن ۹۸۰ ابھی بہت دور تھے اور ۲۰۰۰۰ تو سوچ سے بھی باہر۔

’’دیکھ میں بڑی تکلیف میں ہوں۔ کسی سے قرج لے لے اور دوا لے آ‘‘

’’جانتا ہوں بھلیے لوکے، پر ہمیں کس نے قرج دینا ہے؟ ہم بھکاری ہیں بھکاری، ہم پر کون اعتبار کرے گا؟بس توتھوڑا حوصلہ رکھ ایک دو روج میں دوائی کاانتجام ہوجائے گا۔‘‘

پھر ایک شام جب کمالے نے چوک پر کھڑے کھڑے اپنی رقم اور بچوں کی رقم گنی، پھر اس نے اندر کی جیب سے پچھلے دنوں کی جمع کی گئی رقم کے ساتھ جوڑ کر گنا تو کتنا خوش تھا ۹۸۰ روپے ہوگئے تھے۔ وہ بچوں سمیت میڈیکل سٹور پر گیا اور وہ ساری رقم جس میں زیادہ سکے تھے، کاونٹر پر دھر دی، پھر ڈاکٹر کا نسخہ نکالا۔

’’صاب یہ دوا دے دیں‘‘

’’یہ لو، ۹۸۰ روپے کی ہے ‘‘ سٹور والے نے کہا

’’جی جی صاب مجھے معلوم ہے، پچھلے کئی روز سے یہی نوسو اسی ہی تو یاد ہے۔‘‘

یہ روپے پورے ہیں؟ سٹور والے نے رقم سمیٹتے ہوئے کہا

’’جی صاب میں کئی بار گن چکا ہوں، پورے ہیں۔ ‘‘

دوا لے کے وہ کتنا خوش تھا گویا کہ ایک دنیا فتح کر لی ہو۔ جیسے یہی وہ دوا ہے جو رجو کے سارے دردوں کا علاج ہے کہ جس کے پیتے ہی وہ چنگی بھلی ہوجائے گی اور ایسی ٹھیک ہوگی کہ پھر سے بھیک مانگنے لگے گی۔

’’رجو

رجو

نی رجو!‘‘

وہ جھونپڑی میں چیختا چلاتا ہوا داخل ہوا

’’رجو یہ لو، تمہاری دوا لے آیا ہوں‘‘

’’رجو، سنتی ہو دوا لے آیا ہوں۔ اب تمہیں درد سے آرام آجائے گا۔۔‘‘

لیکن رجو کو پہلے ہی آرام آچکا تھا۔