سنبھل کر، سنبھال کر! - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

غلطیوں پر غلطیاں ہو رہی ہیں۔ بھرم کی چادر کھسک رہی ہے، کشمکش کے تاریک سائے سب خوش فہمیوں کو گہنا رہے ہیں۔ حکومتی وزراء کہتے ہیں حکومت کے خلاف سازش ہوئی اور اس سازش کے تانے بانے ملک سے باہر بنے گئے۔ اگر ایسا ہے تو پھر بجائے احتیاط کے متلون مزاجی میں اضافہ کیوں ؟ وہ بھی پے درپے۔ پہلے انتخابی اصلاحات کے بل کا معاملہ ہؤا۔ ٹھیک ہے یہ معلوم تھا کہ شق 62 ایف کا اطلاق پارٹی صدر پر ختم کیا جائے تاکہ میاں نواز شریف پارٹی سربراہ کا عہدہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔ لیکن احمدی معاملہ سے چھیڑ خانی کی اس وقت کیا ضرورت تھی؟ قومی اسمبلی میں کیپٹن صفدر صاحب کی تقریر کا کیا موقع تھا ؟ کیا یہ سب بھی اس بین الاقوامی سازش کا حصہ تھا ؟ تو پھر اس پر عمل درآمد تو مسلم لیگ والے خود کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتے میاں نواز شریف صاحب کی نیب عدالت میں پیشی پر رینجرز کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر داخلہ احسن اقبال کا غیر معمولی جارحانہ رویہ اور جمعہ کے روز اسی عدالت میں ہونے والی ہلڑ بازی پر ایک پر اسرار خاموشی۔ کیا رینجرز پر یہی غصہ تھا کہ ایسے ہی کسی ہنگامے کا راستہ اس دن کیوں روک دیا گیا؟ جمعہ کو اگر احسن اقبال صاحب کا بیان آیا ہی آیا تو یہ کہ ڈی جی آئی ایس پی آر معیشت کے حوالے سے بیانات نہ دیں۔ سیاست کی بنیادی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ جمعہ کے دن احتساب عدالت میں جو کچھ ہؤا اس نے مسلم لیگ ن کا اخلاقی مقدمہ کمزور کیا۔ اس معاملے کو سنبھالنے کے بجائے ایک نیا محاذ کھولنے کا مشورہ کس نے دیا ؟ ویسے تو احسن اقبال صاحب بھی ان دنوں واشنگٹن میں ہیں۔ تو کیا وہ بھی ؟

اس ملک میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، اس کی مماثلت ماضی میں بھی تلاش کی جا سکتی ہے۔ جب بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو منظر سے ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے، انہوں نے بھی اسے بیرونی سازش کہا اور بالواسطہ طور امریکہ کو اس سازش کا محرک بتایا۔ انہوں نے کہا یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بنانا چاہتے ہیں، مزید کہا، "چونکہ میں استحکام کی علامت ہوں اور میرے ہٹنے سے ملک کو انتشار کا شکار کیا جا سکے گا اس لیے میں اس سازش کا خاص ہدف ہوں "۔

یہ بھی پڑھیں:   مائنس نواز فارمولا وقت کی ضرورت - یاسر محمود آرائیں

اس وقت مسلم لیگ ن کا بیانیہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آج مسئلہ "سی پیک" ہے اور بقول ان کے نواز شریف کو اس لیے منظر سے ہٹایا گیا تاکہ ملک عدم استحکام سے دوچار ہو اور سی پیک کے حوالہ سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ جو ہؤا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اگر ہم اس تاریخ سے کچھ سیکھنے پر آمادہ ہوں تو یہ بات نمایاں ہے کہ اس قسم کی سازشوں میں حالات کی رفتار اچانک تیز ہو جاتی ہے اور پے درے غلطیوں یا حادثات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بظاہر سب کچھ سامنے ہو رہا ہوتا ہے لیکن اس پر کسی کا کنٹرول باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ 4 جولائی کو سمجھوتہ پر دستخط ہونے کے باوجود 5 جولائی کو مارشل لاء نافذ کر دیا جاتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے حالات میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا اور ٹائمنگ کا احساس نہایت اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر بھٹو صاحب مشرق وسطی کےدورہ پر جانے سے قبل معاہدہ کو آخری شکل دے لیتے اور اس کا اعلان ہو جات اتو شاید۔ ! بہرحال وہ گزرا کل ہے جس پر کسی کا اختیار نہیں۔ تاہم آنے والے کل کی پیش بندی ہو سکتی ہے اگر ہم تاریخ سے سبق لینے پر آمادہ ہوں۔

اس وقت معاملہ کو دھیرج سے چلانے کی ضرورت ہے۔ غیر ضروری تنازعات میں الجھنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی نئے تنازعات کو جنم دینا قرینِ حکمت ہے۔ یہ کیا تماشہ ہے کہ ایک دن وزیر صاحب بیان جاری کر رہےہیں اور اگلے روز ڈی جی آئی آیس پی آر پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ کیا ہمیں کچھ بھی ادراک نہیں کہ ہم کس صورتحال سے دوچار ہیں۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو وہ اس زعم میں نہ رہے کہ اس کے پاس اسمبلی میں عددی برتری ہے۔ حکومت کی ہوا ذرا سی کمزور پڑی تو بہت سے پرندے نئے ٹھکانے ڈھونڈنے لگیں گے۔ اور جہاں تک آئیندہ انتخابات کی بات ہے تو یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اگر ن لیگ مشرف صاحب کے ساتھیوں کو ٹکٹ دے کر حکومت بنا سکتی ہے تو کوئی اور کیوں ایسا نہیں کر سکتا ؟ اگر سربراہ حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی حکومت مسلم لیگ ن کے پاس ہے تو اس سے ملک کو استحکام ملنا چاہیے، نہ کہ غیر یقینی صورتحال۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا میاں نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ عبیداللہ عابد

دوسری جانب یہ بھی اہم ہے اگر یہ سازش ہی ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس مبینہ سازش کو یہیں تک نہیں رہنا۔ پھر اس کے دیگر اسٹریٹجک پہلو بھی ضرور بروئے کار آئیں گے جس میں سب سے اہم پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام ہے۔ سب جانتے ہیں اس نیوکلئیر پروگرام تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی فوج کو بے اثر کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ کا پہلا وار "دہشت گردی" کی صورت میں تھا جو قریباً ناکام ہوچکا۔ اب اگلا مرحلہ یہ ہو گا کہ پاکستانی فوج کو ملکی سیاست میں پھنسایا جائے اور پھر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے اس پر یلغار کر دی جائے تاکہ عوام اور فوج میں دوریاں بڑھائی جائیں۔ یہ نہایت خطرناک معاملہ ہو گا۔ فوج کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ اس کے سامنے سول حکومت کی ڈھال برقرار رہے اور یہ سول حکومت، باقاعدہ منتخب جمہوری حکومت ہو تاکہ اسے "قبولیت" کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔ اگر یہ ڈھال آگے نہ رہی تو پھر فوج پر بیرونی اور انادرونی دباؤ میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔ یہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں۔ اس کی ایک ہلکی سی جھلک صدر ٹرمپ اور ان کے وزراء کے حالیہ بیانات میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔

موجودہ وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کے سب ادارے آپس میں جنگ کرنے کے بجائے جنگی بنیادوں پر ایک دوسرے سےقریبی رابطہ رکھیں تاکہ خاموشی کی زبان سمجھنے اور سمجھانے کی الجھن درپیش نہ ہو۔ تعلقات کار اور پالیسی کے حوالہ سے پلان الف، ب، ج تیار ہوں اور کسی صورت رابطے منقطع نہ ہوں۔ حلات کی رفتار اتنا سست کر دیں کہ ان پر نظر بھی رکھی جا سکے ان پر کنٹرول بھی برقرار رہے، نیز کسی بھی ممکنہ کو گڑبڑ کی سمت کا تعین بھی ہو سکے۔ اس وقت آمنے سامنے آکر بیان یا جواب بیان کی ضرورت نہیں۔ جو کرنا ہے اپنے دفاتر میں آمنے سامنے بیٹھ کر طے کریں اور ملک کو آگے لے کر چلیں۔ بعد میں کتابیں لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔