وہ میرے بچوں کی ماسی نکلی ماں نہیں - اسری غوری

وہ آنسوؤں سے رو پڑے تھے۔ بیس سالہ ازدواجی زندگی میں انھیں کسی نے اپنی بیوی کی کوئی شکایت یا برائی زبان پر لاتے نہ سنا تھا۔ وہ بہت منکسر المزاج شخصیت کے حامل تھے، مگر آج نجانے کس کیفیت میں بول رہے تھے۔
''ہم بیویاں لاتے وقت بس ان کی خوبصورتی اور ڈگریاں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ پڑھی لکھی ہیں خوبصورت ہیں ، بس یہی کافی ہے ، ہم نے کبھی ان کا دین جانچنے کی کوشش ہی نہیں کی ہوتی۔ ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ یہ ہماری نسلوں کی محافظ بننے کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔''
وقت کے گزر جانے کا کیسا دکھ تھا ان کے الفاظ میں لہجے سے جھلکتا پچھتاوں کا کرب ۔

میں سوچ رہی تھی کہ یہ تو آج کی پوری نسل کا المیہ ہے کہ اسے مائیں نہیں ماسیاں ملیں ہیں۔ یہ کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں، گھر گھر کی یہی کہانی ہے۔ کتنی خواتین اپنے بچوں کے بارے میں انتہائی دکھ سے بیان کرتی ہیں کہ نئی نسل کے یہ بچے اللہ کی ذات پر، اس کے کلام پر اور شعائر اسلام پر سوال اٹھانے لگے ہیں، ماؤں کے پاس نہ دین کا وہ فہم ہے کہ وہ اپنی اس نسل کو ان کے سوالات کا جواب دے سکیں، اور نہ ہی سیکھنے اور اولاد کے ساتھ گزارنے کےلیے وقت. رہی بات باپ کی تو اول تو باپ تک معاملہ پہنچتا ہی اس وقت ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے، دوم یہ کہ باپ کے پاس بھی اتنی فرصت ہے نہ وہ اس کو اتنا اہم جانتا ہے کہ بچوں کے ذہن میں برپا اس ہیجان کی وجہ جان سکے، اور اس کو رفع کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کرے۔

مگر میرے خیال میں زیادہ قصوروار آج کی ماں ہے ، اور یہ یقینا اک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی نسل کو مائیں کب ملیں؟
ان کو تو وقت پر پسند کا کھانا، وقت پر کپڑے اور دیگر ضروریات پوری کردینے والی ماسیاں ہی تو ملی ہیں، جو اپنے بچوں کو دین کا اتنا بھی شعور نہ دے پائیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو ہی پہچان سکیں۔ ہماری نسل میں اگر رب کی محبت اور اس کی پہچان اب تک موجود ہے تو وہ ہماری ماؤں، نانیوں، دادیوں کی مرہون منت ہے، جن کے پاس بڑی ڈگریاں تو نہیں تھیں مگر وہ سادہ لوح مائیں اپنے رب اور اس کے محبوب کی محبت لوریوں کے بولوں میں گھول کر اپنے دودھ کے ساتھ اپنی اولاد کی رگوں میں منتقل کیا کرتیں، اور ننھا شیر خوار ہر روز نیند کی وادیوں میں ان بولوں کے ساتھ جاتا۔

"حسبی ربی جل اللہ
ما فی قلبی غیراللہ
نور محمد صلی اللہ
لا الہ الا اللہ"

"بی بی آمنہ کے پھول اللہ ہی اللہ"

" آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
پڑھتے ہیں صلی اللہ و سلم آج در و دیوار
نبی جی اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو"

" دن چڑھیا بھاگیں بھریا
ساڈا نبی ۖمکے وچ وڑیا
اس وڑ دے کلمہ پڑھیا
پڑھو!
لاالہ الا اللہ محمد ۖ پا ک رسول اللہ"

اللہ اللہ کیا کرو ، خالی دم نہ بھریا کرو "

ماں ہی نہیں، نانیاں دادیاں بھی بچے کو پہلا کلمہ لاالہ الا اللہ ہی سکھاتیں. ننھا سا بچہ جب بیٹھنےکی کوشش میں ہل ہل کر گر جاتا تو وہ اس کے ساتھ "اللہ ہو" کا ورد کیا کرتیں، اور چند ہی دنوں میں بچے کا بیٹھے بیٹھے ہلنا "اللہ ہو" کے ساتھ ایسا جڑ جاتا کہ یہاں آپ اس کے سامنے اللہ ہو کہیں اور یہاں بچہ ہلنا شروع۔ یہ تھا رب کی ذات سے جوڑا گیا وہ کنکشن جو اس کے لاشعور میں سما جاتا، بچہ ابھی سمجھ اور شعور کی منزلوں تک پہنچا بھی نہیں ہوتا تھا کہ جان چکا ہوتا کہ اسے پیدا کرنے والی رب کی ذات ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محبوب نبی ہیں جن کی محبت پر جان بھی قربان ہے۔

آپ کہیں گے کہ اتنے ننھے بچے کو یہ فلسفہ کہاں سے سمجھ آئے گا اور کیا اتنا ننھا دماغ محفوظ رکھ پائے گا؟ تو کیا کبھی آپ نے سوچا کہ رب نے پیدا ہوتے ہی جو اس ننھی سی جان، جسے ابھی دنیا میں آئے چند لمحے ہی گزرے، اس کے ایک کان میں اذان اور دوسری میں اقامت کہنے کا حکم دیا تو اس میں کیا راز پنہاں؟
مگر اب تو اس راز سے بھی پردہ اٹھ گیا، آج ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے چوبیسویں ہفتے میں ہی بچہ اپنی ماں کی آواز سننے لگتا ہے۔ روس میں ماہر ِاطفال مائیکل لیزاریو کہتے ہیں کہ ''ماں کی آواز بچہ کے لیے ایک پُل کی طرح ہوتی ہے جو بچہ مادرِ شکم میں پل رہا ہے، وہ باہر کی آواز سن سکتا ہے لیکن اتنی نہیں جتنا کہ ماں کی آواز سنتا ہے کیونکہ اسے بچہ باہر اور اندر دونوں طرح سے سن سکتا ہے۔''
تاریخ کئی علماء کرام کے نام بتاتی ہے کہ جب وہ بولنے کی عمر کو پہنچے تو کئی کئی پاروں کے حافظ تھے، پتا چلا کہ ان کی ماں حافظ قرآن تھیں جو پورے نوماہ بھی اور شیر خواری میں بھی دودھ پلانے کے دوران قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں، جو بچہ دنیا میں آنے سے پہلے بھی اور دنیا میں آنے کے بعد بھی سیکنڑوں بار ماں کے لبوں سے سن چکا تھا، اس کے دماغ نے اسے محفوظ کر لیا اور جب وہ بولنے کے قابل ہوا تو جو اتنے ماہ سال سے دماغ میں محفوظ تھا وہی سب دہرانے لگا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج پیدا ہونے والا بچہ میوزک پر تھرکتا ہوا کیوں آتا ہے؟
کیونکہ اس نے آنے سے پہلے بھی نو ماہ ریموٹ ہاتھ میں پکڑے یا اپنے کانوں میں ہیڈ فون لگائے میوزک سنتی ماں کے ذریعے یہی میوزک سنا ہوتا ہے۔ جبکہ یہ وقت آنے والے بچے کے لیے اہم ترین وقت ہوتا ہے. روایات میں آتا ہے کہ حمل کے تیسرے ماہ میں اللہ کی جانب سے فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس وقت اس بچے کی تین چیزیں لکھ رہا ہوتا ہے۔
1 : عمر
2 : رزق
3 : تقدیر
یہ وہ تین چیزیں ہیں جن کے گرد انسان کی پوری زندگی گھومتی ہے ایسے اہم وقت کو ماں کن مشاغل کی نذر کر دیتی ہے. یہ رب سے آنے والے بچے کےلیے اس کی صالح لمبی عمر، اچھی تقدیر، اور حلال رزق لکھوانے کا وقت ہے۔ مگر ماں غفلت میں اس وقت کو ضائع کر دیتی ہے. بچے کے دنیا میں آنے کے بعد بھی اس کی نگاہوں کے سامنے موبائل پر چلتا میوزک رہتا ہے، چند ماہ کا ہوتا ہے تو مائیں ٹی وی کے سامنے کارٹون چینل لگا کر فارغ ہوجاتی ہیں۔ بچہ کہیں ہندوؤں کے بھجن سن کر تو کہیں سینٹا کلاز کی محبت میں اپنی عمر کے قیمتی ترین دور سے گزر رہا ہوتا ہے، ایسے میں وہ میوزک پر نہ تھرکے اور شعور کی کسی عمر کو پہنچ کر اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق محسوس نہ کرے، تو اور کیا ہو؟
اس کی زندگی میں کہیں رب تھا ہی نہیں، اب وہ اپنی راہ گم کردے اور
خود کو بندروں کی نسل کی اک اعلی شکل گردانے،
یا رب کی ذات پر سوال اٹھائے کہ
" دکھائیں مجھے کہاں ہے آپ کا اللہ، دیکھوں گا تو مانوں گا؟
یا یہ کہے کہ یہ قرآن تو بس جیسے اسٹوریز۔
یا یہ کہے کہ بس یہی زندگی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں، سب من گھڑت ہے۔

اب چاہے آپ کو خود پر آسمان گرتا ہوا محسوس ہو یا اپنا آپ زمین میں دھنستا ہوا، قصور آپ کا ہے، اور آپ نے اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں اس جہنم کے حوالے کیا ہے۔ آپ نے اسے اس کے رب کے ساتھ کبھی جوڑا ہی نہیں. آپ نے اس کے جسم کی ہر ضرورت پوری کی مگر افسوس آپ نے اس کی روح کو اپنے خالق کے ساتھ نہ جوڑا اور وہ روح اب کسی آسیب کی طرح بھٹک رہی ہے۔

خدارا! اپنے بچوں کی گھٹی میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور ان کی پہچان ڈالیے، ایسی محبت جو اس کی رگوں میں خون کے ساتھ پروان چڑھے، اور جسے کوئی ڈارون تھیوری خود کو بندروں کی اعلی نسل قرار دینے پر مجبور نہ کرسکے۔
یاد رکھیے کہ وقت بس یہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ یہ وقت کھو دیں اور پھر پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.