قادیانیوں کے "انسانی" حقوق - ابوبکر قدوسی

گرد اڑانے سے گو حقائق وقتی طور پر چھپ جاتے ہیں اور کچھ کمزور اذہان متاثر بھی ہو جاتے ہیں، لیکن ایسا ممکن نہیں کہ حقیقتیں ہمیشہ کے لیے طاق نسیاں ہو جائیں. اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی مذہبی گروہ قادیانیوں کے "انسانی حقوق " کا مخالف نہیں، ورنہ اتنے جرنیل اور "کرنیل" کہاں سے جنم لیتے. جو اصل جھگڑا اور اختلاف ہے، اس پر پراپیگنڈے کی گرد اڑا کے بات ہی بدل دی جاتی ہے. جھگڑا اس بات کا ہے کہ قادیانی خود کو مسلمان کہنے پر بضد ہیں، جی ہاں احمدی مسلمان، جبکہ تمام تر امت مسلمہ ان کو غیر مسلم کہتی اور سمجھتی ہے. اگر اس بات پر بحث بھی کر لی جائے تو ان کا مؤقف ردی اور بے کار ثابت ہوگا.

ایک بات تو یہ ہے کہ تاریخ میں ایک بار ان کو اس فورم پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے کا موقع ملا کہ جس کی کوئی محض تمنا کر سکتا ہے. جی ہاں! ان کے خلاف فیصلہ آنے سے پہلے ان کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں مسلسل کئی روز بات کرنے کا موقع دیا گیا، اور وہاں یہ اپنا مؤقف ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہے. اس تمام کارروائی کا "کلائمکس" وہ سوال تھا کہ جب مرزا ناصر سے پوچھا گیا کہ دوسرے مسلمان آپ کی نظر میں کیا ہیں، تو کچھ توقف کے بعد موصوف نے کہا کہ "سب کافر ہیں". یہ ایسے ہی ہے کہ جب معروف قادیانی سر ظفر اللہ خان سے قائداعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو موصوف نے ترنت جواب دیا کہ:
"آپ یوں جانیے کہ ایک غیر مسلم نے مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھا، یا ایسے کہ ایک مسلمان نے غیر مسلم کا جنازہ نہیں پڑھا."

اندازہ کیجیے کہ ایک مقامی اور محدود سی اقلیت تو تمام عالم اسلام کے سوا ارب باسیوں کو کافر سمجھے اور اس کے مقابل اپنے لیے مسلمان کا "اعزاز" سمیٹنے کو اپنا پیدائشی حق گردانے، اور جب امت مسلمہ اس کو یہ حق نہ دے تو چیخ و پکار اور بنیادی انسانی حقوق کا سیاپا شروع کر دے.

ہمارے ضرورت سے کچھ بڑھے ہوئے لبرل اور آزاد خیال احباب ان کو غیرمسلم قرار دینے کو بھی انتہا پسندی سمجھتے ہیں. میرا ان سے سوال ہے کہ کیا ایسا شخص جو عیسی کے خدا کے بیٹا ہونے کا انکار کرے، جو تثلیث کے عقیدے کا انکار کرے، جو "خداوند یسوع مسیح" کا انکار کرے، اسے کوئی عیسائی حق دے گا کہ خود کو بطور عیسائی فرقہ منوا سکے؟ یہودیوں میں تو یہ حال ہے کہ غیر اسرائیلی نسل کا یہودی مذہب بھی قبول کر لے تو اسے یہودی نہیں کہا جا سکتا. تو کیا سبب ہے کہ مسلمانوں کو ہی تنگ نظر اور متعصب گردانا جاتا ہے، جب وہ ایسے گروہ کو مسلمان نہیں مانتے، کہ جو ہمارے نبی کو نبی آخر ماننے پر تیار نہیں، اور مقابلے پر اپنا ایک نبی بنا چھوڑا ہے اور اس پر یہ ضد بھی ہے کہ "زخم جگر دیکھیں گے" یعنی ہمیں مسلمان تسلیم کیا جائے. مسلمان اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتے اور یہ تنگ نظری نہیں، یہ بالکل وہی فطری رویہ ہے جو یہود اور نصاری نے اپنے مذہب کے لیے اختیار کیا.

اب ہم ان کے انسانی حقوق کی طرف آتے ہیں. میں شروع میں عرض کر چکا کہ کوئی مذہبی گروہ ان کے انسانی حقوق کا مخالف نہیں ہے، یہ محض جھوٹ اور پراپیگنڈہ ہے. ہم مانتے ہیں کہ مسلمان ان کے معاملے میں خاصے جذباتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہی مسلمان اسماعیلیوں، زکریوں اور بوہرہ برادری کے بارے میں ایسے جذباتی کیوں نہیں ہیں. اس کا بہت آسان جواب ہے کہ ان برادریوں اور حاملین مذاہب نے کبھی خود کے مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کیا نہ ان کو اس سے کوئی دلچسپی ہے. قادیانی چاہتے ہیں کہ وہ مسجدیں قائم کریں، ان کو مسلمان کہا جائے، نماز روزہ کلمہ وہ سب کر سکیں لیکن اللہ کے نبی کی نبوت کے ختم کا انکار کریں اور ان کی نبوت کو کمتر کہہ سکیں اور مرزا غلام احمد کو برتر کہنے کا ان کو حق ہو. تو یہ تو ممکن نہیں، اور اس سے انکار کا ہم مسلمانوں کو مکمل حق ہے.

اسی طرح یہ بھی ان کا مکمل جھوٹا پراپیگنڈہ ہے کہ ان کی جان و مال کو یہاں خطرہ ہے. حقائق اس کی نفی کرتے ہیں. پچھلے چالیس برس میں مذہبی بنیاد پر ان کے خلاف ایک بھی کھلا فساد نہیں ہوا. اکا دکا واقعات کو بڑھا چڑھا کے پیش کرنے سے حقائق بدل نہیں سکتے، کیونکہ ایسے واقعات ہر کمیونٹی کے ساتھ پیش آ چکے ہیں. اور سب سے زیادہ تو خود مسلمانوں کے اندر کے فرقوں میں جھگڑے ہوتے ہیں، جن میں اتنی جانیں گئی ہیں کہ قادیانیوں کا تصور بھی وہاں تک نہیں جا سکتا. ان کے مرکز پر ایک حملہ ہوا تھا جس کو یہ آج تک " کیش" کروا رہے ہیں، گو ہم سمجھتے ہیں کہ کہ وہ غلط تھا اور اسلام کی تعلیم کے خلاف، لیکن سوال یہ ہے کہ کپا کوئی دوسرا گروہ اس دہشت گردی سے بچ سکا؟ کیا مسلم اور کیا غیر مسلم؟ کیا کسی اور کی عبادت گاہ بچ سکی جہاں ایسے حملے نہ ہوئے ہوں؟ کیا بیسیوں مساجد میں بھی ایسے خودکش حملے نہیں ہوئے؟ تو پھر یہ کب سے انوکھے لاڈلے ہوگئے کہ ان پر حملے کو "خصوصی" حیثیت دی جائے. کیا اہل حدیث کے مرکزی رہنما علامہ احسان الہی ظہیر ساتھیوں سمیت بم دھماکے میں قتل نہیں ہوئے؟
کیا بریلوی راہنما ڈاکٹر سرفراز نعیمی بم دھماکے میں نہیں مارے گئے، اسی طرح مشہور دیوبندی راہنما سینٹر خالد محمود سومرو اور ان کے بہت سے رہنماء قتل نہیں ہوئے؟
یہ تو چند افراد کا تذکرہ تھا، جن ستر ہزار " شہیدوں" کی گنتی ہر کوئی، لبرل ہو یا مذہبی ہو، کرتا ہے، ان میں کتنے قادیانی تھے؟ کیا یہ تمام کے تمام ستر ہزار معروف مسلمان فرقوں سے متعلق نہ تھے؟

قادیانی آج آئین پاکستان کا احترام کریں، اپنی اقلیتی حیثیت کو کھلے دل سے قبول کریں، اپنی ذہنی تعصبات سے خود کو نجات دیں، اپنے دل و دماغ سے نفرت کو نکال باہر کریں، ان کے خلاف مہم جوئی ایک دن میں ختم ہو جائے گی. یہ تمام تر ان کے جارحانہ عمل کا ردعمل ہے جو ایسی اقلیت کو زیب نہیں دیتا کہ جس کی تعداد ملک میں کسی بھی اقلیت سے کم ترین ہے. اس نامناسب انداز فکر اور جارحانہ پن سے ایسے قادیانی بھی متاثر ہو رہے ہیں اور نفرت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جو اپنی اقلیتی حیثیت کو دل سے مان چکے ہیں.