این آر او یا ایک اور ایمرجنسی - ثمینہ رشید

ملک کا سیاسی منظرنامہ ایک عجیب جمود کا شکار نظر آتا ہے۔ گو کہ حمکران جماعت کی جانب سے مختلف حربوں سے اسے حرکت میں لانے کی کوشش جاری ہے لیکن ساری تدبیریں اب تک تو الٹی ہی ثابت ہو رہی ہیں۔ جمود ہے کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ شاید ایک برائے نام وزیراعظم کے تحت چلنے والا ملک اس طرح ہی محسوس ہوتا ہے جیسے ایک لبِ دم مریض جو کہ مصنوعی تنفس پہ زندہ ہو۔ سابق وزیراعظم کی نا اہلی کے بعد سے ہی ملک میں ایک عجیب سا انتشار قائم رکھنے کی شعوری کوشش کی جار ہی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک وزیراعظم عدالت سے نا اہل ہونے کے باوجود اپنی سیاسی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں، اور اقتدار کی اس ہوس کی وجہ سے ملک کی ترقی و سالمیت کو بھی داؤ پہ لگانے سے باز نہیں آ رہے۔

حکمران جماعت ہی کے ایک نمائندے کے پاس اقتدار منتقل ہوجانے کے باوجود ملک ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیوں ہے؟ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم ملک سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں۔ ایسا وزیراعظم جس کی حیثیت ایک سینئیر وزیر سے زیادہ کچھ نہیں۔ پاکستان میں ہر ذی شعور کو اندازہ ہے کہ طاقت کا استعمال کون اور کہاں سے کر رہا ہے، اور سامنے نظر آنے والے وزیراعظم کی حیثیت محض کاغذی ہے۔ یہی صورتحال ملک میں بحرانی کیفیت اور غیر یقینی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

ایک طرف عدالتی کارروائی میں نااہل ہونے والے وزیراعظم اور ان کے اہلِ خانہ کے احتساب کا عمل جاری ہے تو دوسری جانب ریاست کے مکمل وسائل کو اسی نااہل ہونے والے وزیراعظم اور ان کے خاندان کے لیے بےدریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزراء کی فوج ظفر موج عدالت کی پیشی پہ اظہار یکجہتی کے لیے اپنے پروٹوکول کے ساتھ عدالت آنے کا کیا اخلاقی جواز رکھتی ہے؟ اگر اپنے جماعت کے سربراہ سے اظہار یکجہتی کرنا ضروری ہے تو بےشک اپنی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، کیونکہ جس ریاست کے یہ نمائندے اور وزیر ہیں، وہی ریاست سابق وزیراعظم کے کیس میں استغاثہ بھی ہے، اس لیے ریاست کے پروٹوکول کے ساتھ ریاست ہی کے مجرم سے اظہارِیکجہتی کہ معنی ریاست سے بغاوت کے بھی لیے جا سکتے ہیں۔

اس پورے گنجلک کھیل میں معیشت کا حال خراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہے۔ وزیر داخلہ ہوں یا وزیر خارجہ، دونوں ہی ملک کی معیشت کو ہونے والے موجودہ نقصانات کا زور و شور سے ذکر کرتے ہیں اور اسے نوازشریف کو نااہل قرار دینے کا براہ راست نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اب یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ ملکی معاملات کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں یا سابق وزیراعظم سے وفاداری ثابت کرنے پر۔ ملک کی معیشیت کی ڈوبتی ناؤ کے لیے یہ دو کشتی کے سوار انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ اس پر ستم یہ ہے اس پالیسی کو یہ لوگ جمہوریت سے محبت قرار دیتے ہیں۔ اخلاقیات کے سارے سبق اور ملک سے کیے گئے وفاداری کے حلف کو بھلا کر یہ ملک کو ایک ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کرنا چاہتے ہیں جہاں اگر یہ خود حکومت نہ کرسکیں تو کسی اور کو بھی نہ کرنے دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کہیں ریاست ِمدینہ کے قیام پر تو یوٹرن نہیں لے لیا گیا؟ انصار عباسی

ملک کی معاشی حالت کے انڈیکیٹرز دیکھ کر پہلی مرتبہ آرٹیکل دو سو پینتیس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 235 کے تحت ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 235 کے تحت:
"اگر صدر پاکستان کو اطمینان ہوجائے کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ جس سے پاکستان یا پاکستان کے کسی حصے کی اقتصادی زندگی یا مالی استحکام اور ساکھ کو خطرہ لاحق ہے تو وہ صوبے کےگورنروں سے یا جیسی بھی صورت ہو یا متعلقہ گورنروں کے مشورے کے بعد، اس سلسلے میں فرمان کے ذریعے اعلان کرسکے گا اور جب ایسا اعلان نافذالعمل ہو تو وفاق کا انتظامی اختیار کسی صوبے کو ایسی ہدایات دینے پر وسعت پذیر ہوگا جنہیں صدرِ پاکستان یا اس کے کسی حصے کی اقتصادی زندگی، مالی استحکام یا ساکھ کے مفاد کی خاطر ضروری سمجھے۔"

اس آرٹیکل کے تحت وفاق اور صوبوں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تخفیف بھی کی جاسکتی ہے۔

اس پس منظر میں آصف زرداری کی پریس کانفرنس اور معاشی ایمرجنسی کا مطالبہ انتہائی معنی خیز ہے۔ سابق فنانس منسٹر سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی پریس کانفرنس کے بعد آصف زرداری کے اسی تناظر میں معاشی ایمرجنسی کے تقاضے کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہماری عوام کو درجِ ذیل تمام حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کا مختصر احوال کچھ یوں ہے:
ملکی و غیرملکی قرضہ جات کا حجم تراسی ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے،
موجودہ تجارتی خسارہ ستائیس ارب ڈالر،
مالیاتی خسارہ چھ فیصد کے قریب ہے جس میں سرکلر ڈیبٹ کے چھ سو ارب شامل نہیں،
ذر مبادلہ کی ذخائر تیرہ ارب ڈالر سے نیچے جاچکے ہیں،
ملک کے بڑے اداروں کو چلانے کے ضمن میں ہونے والا خسارہ ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں صرف پی آئی اے کا خسارہ چار بلین ڈالر کا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 12 بلین ڈالرز سے زیادہ ہوچکا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:
واپڈا کے قرضے 55 فیصد اضافے کے ساتھ 81 ارب تک پہنچ چکے ہیں۔
پی آئی اے پر قرضہ 61 ارب سے بڑھ کر 122 ارب ہوچکا ہے۔
پچھلے چار سالوں میں سرکاری اداروں کے قرضوں میں چھ سو گیارا ارب کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ انتہائی حد کو چھوتے اعدادوشمار گواہ ہیں کہ ملک معاشی طور پر اس وقت کہاں پر ہے۔ جلد ہی اپنے پرانے قرضوں کی قسط ادا کرنے کے لیے نئے قرضے لینے کی ضرورت پڑنے والی ہے، لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے غیر ملکی ادارے اب کسی بھی قسم کی بات چیت یا ڈیل کرنے کو تیار نہیں۔ ایسا وزیر خزانہ جس پر مالیاتی خرد برد کے مقدمات میں فردِ جرم عائد ہوچکی ہو، اس سے کوئی بھی ادارہ کیونکر معاملات طے کرسکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ ن ہے کہ ملک و قوم کے مستقبل کو مخدوش کر کے اپنے پارٹی سربراہ کے سمدھی کو ان کی وزارت سے فارغ کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے لیے ملک سے زیادہ ایک خاندان اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان اب تک ناکام کیوں ہے - ہارون الرشید

آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ یہ عفریت نما حکومت جو ملک کو ڈیفالٹر کرنے کے درپے نظر آتی ہے، اس سے کیسے نجات ممکن ہوگی؟ اخلاقیات کی نچلی ترین سطح پر کھڑے ان کے رہنما کبھی ختم نبوت اور کبھی قادیانی ایشو میں لوگوں کو الجھا کر ایک تصادم کی کیفیت پیدا کرنے اور ملک میں مذہبی جنونیت پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ اس صورتحال میں ان سے خیر کی توقع عبث نظر آتی ہے۔ تیرہ اکتوبر کو حکمران جماعت کے وکلاء ونگ نے جس طرح پولیس سے جان بوجھ کر الجھ کر ہنگامی صورتحال پیدا کی اور احتساب عدالت کی کارروائی کو معطل کرنے پر مجبور کیا، اس سے نومبر 1997ء کے سپریم کورٹ پر حملے کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوگئی۔

تصادم کی فضا کو سازگار بنانے کی حکومتی کوششوں سے نمٹنے کا ایک بہتر حل فوری طور پر نئے انتخابات کا انعقاد کا اعلان اور عبوری حکومت کا قیام ہی ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ عوام کا مینڈیٹ بہرحال موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لیے نہیں تھا۔ جیسا کہ برطانیہ میں بھی تھریسا مے نے موجودہ حکومت سنبھالنے کے بعد نئے الیکشن کروا کر اپنے لیے عوامی مینڈیٹ حاصل کیا تھا۔ ہر جمہوری ملک اور حکومت میں یہی روایت موجود ہے۔

نااہل ہونے والے وزیراعظم کی پوری کوشش تھی کہ 1999ء کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے کوئی ڈیل ہوسکے اور ان کی فیملی کرپشن کیسز کے کرائسسز سے آرام سے نکل آئے، لیکن این آر او کے کم ہوتے چانسز کے پیشِ نظر اب سابق وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی پوری کوشش ہے کہ ملک کو سیاسی اور جمہوریت کے تسلسل کے بجائے آمریت کے ہاتھوں میں تصادم کے ذریعے منتقل کردیا جائے۔ جواباً اس سے ان کی پارٹی کو تو ہمدردی ملے گی ہی اور وہ کہہ سکیں گے کہ ہر بار ان کی جماعت کو اقتدار کی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی، لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس کا فائدہ شریف فیملی کو ہوگا کیونکہ وہ اس بات کو بالآخر ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز حقیقت پہ مبنی نہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بنائے گئے تھے، اور جس سازش کا تذکرہ وہ اور ان کی دختر اکثر کرتے رہے ہیں، اس کی عملی صورت کی وضاحت بھی کرسکیں گے۔

حقیقتاً یہ پالیسی اور خود ساختہ بحران کی کیفیت ملکی سلامتی کو سخت نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمران جماعت کی ترجیحات میں ملکی مفاد کے بجائے شریف فیملی کو خوش رکھنا ہے۔ ماضی میں بھی ملک میں کئی مرتبہ سیاسی بحران آتے رہے ہیں لیکن اس طرح کی صورتحال، اخلاقی تنزلی اور ڈھٹائی کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ حکمرانوں کا رویہ گواہ ہے کہ وہ کسی این آراو کے منتظر ہیں یا پھر ایک اور بارہ اکتوبر کے۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.