عیسائیت میں تحریف - ڈاکٹر سفر الحوالی

بت پرست یورپ ’عیسائی مذہب‘ کو پہلی صدی عیسوی سے ہی سمجھتا تھا کہ یہ بلند پایہ اور محترم عقائد کا حامل دین ہے۔ اسی طرح رومی سلطنت بعض دیگر عقائد کو بھی مضبوط اور مثالی تعلیمات سمجھتی تھی۔

رومی پیشواؤں نے اپنے محکوم علاقوں میں اس نئی عیسائی جدوجہد کا قلع قمع کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ اس مقصد کے لیے پہلی تین صدیوں تک کئی قسم کے پرتشدد طریقے آزماتے رہے۔ لیکن کئی تاریخی اسباب، جن کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں، ایسے پیدا ہوئے کہ شہنشاہ قسطنطین نے اس نئے دین کو قبول کرلیا۔ یہ اس وقت ہوا جب پہلی مسیحی کونسل نیقیہ مقام (Nicene) پر 325ء کو منعقد ہوئی۔ اس وقت مسیحیت کو رومی سلطنت کا قانونی عقیدہ قرار دیا گیا۔

نئے عیسائی دین نے رومن امپیریلزم کی مختلف اقوام سے شدید اثرات قبول کیے۔ مؤرخین نے اس کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں۔ ہم ان میں سے وہ بیان کرتے ہیں جن کو ہمارے معاصر امریکی محقق نے پسند کیا ہے۔

1۔ موافقت کے عناصر:

آپ یونان کے دیومالائی قصے کہانیوں، ایزیس اور مترکی داستانوں، یہودیت اور اُس دور کے دیگر مذاہب میں وہ مثالیں موجود پائیں گے جن کو عیسائیوں نے اپنے عقائد کا حصہ بنالیا۔ جیسے طہارت کے من گھڑت رسوم و رواج، معبود کا تصور جو مرجاتا اور پھر زندہ ہوجاتا ہے۔ کنواری ماں کا تصور جو حاملہ ہوجاتی ہے۔ محاسبہ کا دن، موسم بہار کی مذہبی تقریباًت کا تصور، سردیوں کی آمد کی تقریباًت، شیاطین، فرشتوں اور مخصوص مقدس افراد۔

2۔ عیسائی مذہب نے دعویٰ کیا کہ آخرت میں نجات کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کی فقیری، ظلم اور مصائب کو قبول کیا جائے۔ عیسائی مذہب کا یہ دعویٰ رومی عوام سے شدید اثرات قبول کرنے کی وجہ سے تھا۔ امپیریلزم کی دبی پسی ہوئی عوام بھی اس نظریے کو اپنی دکھ بھری دنیا میں تسکین کا ایک پرکشش راستہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عیسائیت کمزور، لاغر اور مظلوم لوگوں کا دین ہے تو ہماری بات درست ثابت ہوتی ہے اور تمام اناجیل اس کی تصریح کرتی ہیں۔

3۔ عیسائی مذہب کی دینی تعلیمات انتہا درجے کی پیچیدہ تھیں۔ چنانچہ ان میں فلسفیانہ رجحانات رکھنے والے افراد کے لیے میلان کا کافی سامان موجود تھا۔ چنانچہ دوسری صدی کے آخر تک عیسائی مذہب یونانی فکری روایات کے ساتھ مکمل طور پر یکجان ہوگیا۔

4۔ عیسائی مذہب کے ابتدائی دور میں جیسے استبدادی قوتیں مضبوط ہوئیں ویسے ہی استبداد کی شکار عوام بھی وحدت اور نظم و ضبط میں پروئی گئی۔

5۔ اسی دوران ایک سیاسی عامل یہ بھی پیدا ہوا کہ رومن اسٹیٹ کو ایک ایسے منفرد عقیدے کی ضرورت پیش آئی جو اس کو متفرق اقوام کی عقائدی کشمکش سے نجات دلائے۔

مغربی دنیا 325ء سے لے کر آج تک یہی سمجھتی ہے کہ وہ عیسائی دنیا ہے یا کم از کم وہ ایک عرصے تک یہی سمجھتی رہی۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ عیسائی مذہب حقیقت میں وہی وحی الٰہی تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے مسیح عیسیٰ بن مریم ؑ پر نازل کی تھی؟ دوسرے لفظوں میں کیا یورپ نے اللہ تعالیٰ کا برحق دین قبول کیا تھا؟ اور اس کی عبادت کا حق ادا کیا تھا؟ اور کیا وہ تاریخ کے کسی مرحلے میں صحیح معرفت کا حامل بھی رہا؟

کوئی بھی مورخ یا محقق عیسائی دین کے پیدائش کے زمانے پر گہری نظر ڈالے تو وہ اس بات کو لازماً پہچان لے گا کہ بحیرہ قلزم کے گرد پھیلا ہوا سارا علاقہ مختلف متضاد عقائد و نظریات کی آماجگاہ تھا۔ ہم ان میں سے چند کو یہاں ذکر کرتے ہیں:

1۔ یہودی مذہب:

یہ وہ دین تھا جو بنی اسرائیل تک محدود تھا۔ یہ دین اس وجہ سے الگ تھلگ تھا کہ یہ آسمانی دین تھا۔ اس کے پاس مقدس کتاب تھی۔ اس کا وطن فلسطین تھا جہاں حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے اور رسول بھی بنا کر بھیجے گئے۔

2۔ قدیم بت پرستی:

یہ قدیم بت پرستی کا عقیدہ تھا جو کاہنوں اور مذبح خانوں کے تصورات سے بھرا ہوا تھا۔ اس مذہب کا خیال تھا کہ انسان کی نجات اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنی جان کاہنوں کے واسطے سے اپنے معبودوں پر قربان نہ کردے۔

یہ بھی پڑھیں:   عیسائی طارق جمیل - تاباں ظفر

3۔ نَوافلاطونی مذہب:

یہ فلسفیانہ عقیدہ تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات اپنی پیدائش و تدبیر میں تین عناصر سے صادر ہو رہی ہے۔
ا۔ ابتدائی تخلیق کار
ب۔ عقل جو ابتدائی تخلیق کار سے پیدا ہوئی جیسے بیٹا اپنے باپ سے پیدا ہوتا ہے
ت۔ پہلی روح جس سے تمام روحیں پیدا ہوئیں۔ یہ ’’روح ‘‘عقل کے واسطے سے ابتدائی تخلیق کار سے اسکندریہ مقام پر متصل ہوئی

4۔ مصری بت پرستی اور تثلیث:

اس کا عقیدہ تھا کہ معبود تین ہیں۔
ا۔ حورس جو کہ سیرایس کا بیٹا تھا۔
ب۔ سیرایس جو کہ ایک وقت میں بذات خود حورس تھا۔
ت۔ ایزلیس۔ حورس کی والدہ

5۔ رومی بت پرستی:

امپیریلزم کا باقاعدہ سرکاری دین۔ اس کی ابتدائی تعلیمات یہ تھیں:
ا۔ تثلیث۔ (جیوپیٹر۔ مارس۔ کونیوس)
ب۔ ایمپائر کی پوجا کیونکہ شہنشاہ رب ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ حاکم کو معبود سمجھنے کا تصور ہیلنستی یعنی نو یونانی تصور تھا
ت۔ تصویروں اور مجسموں کو مقدس سمجھنا اور ان کی عبادت کرنا۔

6۔ فلسفیانہ افکار:
ان میں سب سے زیادہ اہم ’’رواقی فلسفہ‘‘تھا۔ یہ عملی پہلو کے اعتبار سے ’’دنیا سے لا تعلقی ‘‘کو اہمیت دیتا تھا اور اپنے وجود کی نفی کو بلند پایہ مقصد گردانتا تھا۔ یہ فلسفہ ابیقوری اباجی فلسفے کے مناقض تھا جو رومی معاشرے میں پھیلا ہوا تھا۔

اگر ہم ان عقائد کے مجموعوں میں سے مشترکہ عقائد نکالیں تو وہ چھ بنیادوں پر مشتمل ہوں گے:
1۔ یہودیت کی کتاب تورات پر ایمان
2۔ فدیہ، نجات اور اللہ و انسانوں کے مابین واسطوں کا عقیدہ
3۔ تثلیث
4۔ حلول (معبودوں کا انسانی شکل اختیار کرنا)
5۔ تصویروں اور مجسموں کو مقدس گرداننا
6۔ زندگی سے فرار (رہبانیت)

جب ہم ان چھے بنیادوں پر پہلی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ عیسائی دین کی بھی یہی بنیادیں ہیں۔ یہ وہی تعلیمات ہیں جو یورپی فکر پر ایک طویل زمانہ چھائی رہیں۔ انسان اس نتیجے کو دیکھ کر دہشت زدہ رہ جاتا ہے حالانکہ یہ ایک صحیح ثابت شدہ نتیجہ ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ’’آسمانی خالص دین‘‘مختلف متحارب خرافات اور وثنیات کا مجموعہ بن جائے؟ اور اگر یہ ممکن ہے تو اس تبدیلی کا ذمہ دار کون ہے؟ اور سب سے زیادہ قابل تعجب بات یہ ہے کہ ان حالات میں مسیحیت نے اپنے نام اور نسبت کی حفاظت کیسے کرلی؟

مغربی فکر کے اکثر مورخین نے اس قسم کے سوالات کا جواب یہ دیا ہے کہ ’’دین نصرانی دو مختلف حصوں‘‘میں تقسیم ہوگیا تھا۔ ان کا آپس میں تعلق مسیح کی لفظی نسبت کے سوا کچھ نہ تھا۔

1۔ اصلی مسیحیت یا حضرت عیسیٰ کا اصل دین۔
2۔ رسمی مسیحیت یا پولس کا گھڑا ہوا دین۔

رسمی مسیحیت وہی ہے جس کے اجزا کا اوپر ذکر ہوچکا ہے، اس کا اعلان مجلس نیقیہ نے سب سے پہلے ۳۲۵ء میں کیا تھا۔

اقوال و شواہد از علمائے مغرب

برنٹن کہتا ہے: ’’نیقیہ کی مجلس میں منظور ہونے والی مسیحیت وہی سابقہ رسمی عقیدہ تھا جو عظیم رومی ایمپائر کا مقرر کردہ تھا۔ یہ رب جلیل کے بارے میں اصل مسیحیوں کی مسیحیت سے یکسر جدا تھا۔ اگر کوئی شخص عہد جدید کو عیسائیت کی آخری تعبیر قرار دے تو وہ اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکالے گا:’’نہ صرف چوتھی صدی کی مسیحیت پہلی مسیحیت سے مختلف ہوگئی بلکہ اصل بات یہ ہے کہ چوتھی صدی کے مسیحیت خود مسیحیت ہے ہی نہیں۔‘‘

انگریز مورخ ویلز کہتا ہے: ’’ضروری ہے کہ ہم ارتقا یافتہ نیقیہ سے منظور شدہ مسیحیت اور حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیمات کے مابین گہرا فرق واضح کریں۔ یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات، نبوی تعلیمات کی جدید طرز پر ہی تھیں جو عبرانی انبیا کے ظاہر ہونے سے شروع ہوئی تھیں۔ یہ تعلیمات کاہنوں کی من گھڑت خرافات، مخصوص معبد یا گرجا گھر پر مبنی نہ تھیں۔ اس کے مخصوص شعائر اور بوجھل روایات نہ تھیں۔ اس میں تقرب الٰہی کا تصور ایک منکسر مزاج خشوع سے لبریز دل تھا۔ اس کی واحد مجلس ’’واعظوں کی مجلس ‘‘تھی۔ اس کی سب سے اہم محنت ’لوگوں کو نصیحت کرنا‘تھی۔ اس کے مقابلے میں چوتھی صدی کی مسیحیت مکمل من گھڑت تھی۔ اگرچہ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات اناجیل میں بطور مصدر محفوظ تھیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ نئی مسیحیت کاہنوں کا من گھڑت دین تھا جو لوگوں کے صدیوں سے قائم مانوس عادتوں پر مشتمل تھا۔ اس میں ’مذبح کا تصور‘ان کی مزین رسوم و رواج کا مرکز تھا۔ ان کی عبادت میں بنیادی وظیفہ وہ قربانی تھی جو ایک روحانی انسان بزرگوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اس عبادت کے لیے ایک ڈھانچہ بھی تشکیل پایا جو چھوٹے پادری، بڑے پادری اور خدمت دین کے لیے وقف شدہ پادریوں کے نظم سے پروان چڑھا۔ اگر مسیحیت نے سیرایس، آمون اور بعل مردک کے بیرونی عقائد و افکار سے غیر معمولی مشابہت اختیار کی تو یہ بات قابل غور ہے کہ اس کی مذہبی پیشوائیت بھی بالکل ایک نئی طرز کی چیز تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   عیسائی طارق جمیل - تاباں ظفر

بعض مشکک مصنفین نے تو یہاں تک جرأت کی ہے کہ یسوعؑ کو سرے سے مسیحی مانا ہی نہیں جاسکتا۔

یہ محقق علما کی رائے ہے۔ یہاں کلیسا سے منسلک افراد کی رائے جاننا بھی ضروری ہے۔ اس ضمن میں ہمیں ڈاکٹر ولیم ٹمبل کی تحریر کافی ہے جو کنٹربری کے پادری تھے اور انگلینڈ کے ایک بڑے مذہبی عالم تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’’یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ اللہ اکیلا ہی دین کو انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے یا دین کا بڑا حصہ اللہ پیش کرتا ہے‘‘

یہ کلام کسی بڑے مذہبی عالم کا سہو یا اتفاقی غلطی نہیں۔ یہ کلیسا کے عقیدہ اور اس کی تاریخ کی سچی اور واضح تعبیر ہے۔

ان آرا کی روشنی میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یورپ نے اس نصرانیت کو قبول کیا تھا جو اللہ کی طرف وحی شدہ تھی اور سچی تھی یا اس من گھڑت مجموعے کو قبول کیا جس کو کلیسا کے ابتدائی آباؤاجداد نے گھڑ لیا تھا یا اپنے دور کے رائج عام عقائد سے استخراج کیا۔

یہ ثابت شدہ حقائق ہیں کہ کلیسا نے بڑی غلطیوں کا ایک تسلسل سے ارتکاب کیا۔ ان غلطیوں میں سے کوئی ایک غلطی بھی لوگوں کے مکمل اعتماد کے ختم ہونے کا سبب بن سکتی تھی۔ مسیح ؑ کے دشمنوں میں سے کسی نے حضرت مسیح یا ان کی تعلیمات کو نقصان نہیں پہنچایا جیسا کہ کلیسا نے پہنچایا جو حضرت عیسیٰ سے منسوب ہونے پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ عیسائی تعلیمات کا محافظ اور شارح ہے۔ لیکونٹ ڈی نوی نے سچ کہا ہے: ’’انسان نے علمی حقائق کی پرواہ کیے بغیر مسیحی دین کے اندر تیسری صدی سے جو اضافے اور تفسیرات پیش کی ہیں، انھوں نے مادہ پرستوں اور ملحدوں کو دین دشمنی میں اپنی جدوجہد کے جواز پر طاقتور مضبوط دلائل فراہم کیے ہیں۔‘‘

یہاں ہمارا مقصد کلیسا پر حملہ بازی یا عیوب کو اچھالنا نہیں۔ نہ ہی ہم اس سرکشی کو جواز فراہم کر رہے ہیں جو یورپ نے اپنے خالق کے مقابلے میں برسر عام ظاہر کی اور کلیسا کے خلاف بغاوت کو بھی جاری رکھا۔ ہمارا مقصد حقیقت کا بیان ہے جو مؤمن کی گمشدہ میراث ہے خصوصاً جبکہ مسئلہ پوری انسانیت کا ہے۔ یورپ کا دائرہ کار ساری دنیا پر پھیل چکا ہے اور ہم مسلمان خاص طور پر صلیبی جنگوں یا اسلام کی آمد سے آج تک اس آگ کے اثرات کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ مسیحیت کے تحریف شدہ عقیدہ و شریعت کے موضوع کو بالتفصیل پیش کریں۔ اس سلسلے میں ہم بذات خود نصاریٰ محققین اور کلیسا کے مصادر پر اعتماد کریں گے۔