فلم انڈسٹری اور کرنے کا کام - حافظ محمد زبیر

اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہو گا کہ معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں فلم انڈسٹری کا کردار بہت اہم ہے۔ اس وقت فلم انڈسٹری کی صورت حال اگرچہ یہی ہے کہ یہ معاشرے میں شر، معصیت، گناہ اور ظلم کو پھیلانے کا ایک بہت بڑا ٹول بن چکی ہے لیکن پھر بھی کہیں کہیں آپ کو ایسا نظر آئے گا کہ اسی انڈسٹری سے وابستہ بعض لوگ اس ٹول کو معاشرے کی اصلاح اور تعمیر کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اور میری رائے میں یہ امت کے کرنے کے کاموں میں سے ایک اہم کام تھا کہ ایسی ہٹ موویز بھی موجود ہیں کہ جن میں نہ عورت ہے اور نہ ہی گانا بجانا۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ دنیا کی معروف فلم انڈسٹرِیز کا کاروبار سیکس، رومانس اور ایکشن کے تصورات کے گرد گھوم رہا ہے لیکن نفس انسانی میں انہیں چھوڑ کر بھی بہت سی جبلتیں ایسی ہیں کہ جن کو ایڈریس کر کے ہم انسانوں کی انٹرٹینمنٹ کی ضرورت بھی پوری کر سکتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

غالباً کسی بالی ووڈ فلم کا کلپ ہے کہ جس میں ایک بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ زبان و بیان کا انسان کی تعمیر وتربیت میں بہت اہم استعمال ہے۔ اسی لیے تو حدیث میں بیان کو جادو کی ایک قسم کہا گیا ہے اور فلمی ڈائیلاگز تو بیان کی بہترین صورت شمار ہوتے ہیں لہٰذا ویورز کو ایک اعتبار سے مسحور کر دیتے ہیں اور اس سحر زدہ کنڈیشن میں ان کے لاشعور میں آپ جو ڈالنا چاہیں، ڈال سکتے ہیں کہ ان کے وہ فلٹرز کہ جن سے گزر کر ان کے شعور کے لیے کچھ باتیں قابل قبول ٹھہرتی ہیں، اس سحر زدہ ماحول سے آف ہو چکے ہوتے ہیں۔

اسکرپٹ رائٹرز چن چن کر ایسے ڈائیلاگز مرتب کرتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ انہوں نے کہاں آپ کو ہنسانا ہے، کہاں رلانا ہے اور کہاں آپ کے لاشعور تک کوئی بات ایسے پہنچانی ہے کہ خود آپ کو بھی معلوم نہ ہو کہ آپ کے ساتھ کیا ہو گیا ہے؟ بہر حال، اس ویڈیو کلپ میں "گندی نالے کے کیڑے" اور "دم" کے الفاظ کے استعمال میں واقعتاً دم لگتا ہے تو اسکرپٹ رائٹنگ بہت ضروری ہے، اس پر ہمارے مذہبی لوگوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری بات اس ویڈیو کلپ میں پیش کیا گیا آئیڈیا ہے۔ انڈیا کو بھی یہ چیلنج درپیش ہے کہ ان کے پولیس کے محکمے میں بہت کرپشن ہے اور پاکستان کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ انڈیا میں فلم انڈسٹری کو بڑے پیمانے پر محکمہ پولیس کی اصلاح کے لیے ایک ٹول کے طور استعمال کیا گیا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ فلموں سے پولیس کی اصلاح ہو جائے گی لیکن یہ کہ یہ فائدہ ضرور حاصل ہو گا کہ ظلم کے خلاف نہ صرف 'اویئرنیس' بڑھے گی بلکہ اسے کم کرنے کے آئیڈیاز بھی تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔

اس ویِڈیو کلپ میں یہ تصور پیش کیا گیا ہے کہ جب معاشرے میں ظلم حد سے بڑھ جائے تو اسے ظلم ہی کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے یعنی بدمعاشوں کے معاشرے میں آپ بدمعاشی ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو پہلے خود سے بدمعاش بننا پڑے گا۔ اس آئیڈیے کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کے بارے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ جہاں اہل مذہب معاشرے کی رہنمائی اور اصلاح میں ناکام ہو جائیں تو لوگ پھر ایسے آئیڈیاز تخلیق کریں گے اور ان میں کسی حد تک بات درست بھی ہو گی کہ کوئی بھی بات نہ تو سو فی صد غلط ہوتی ہے اور نہ ہی سو فی صد بے فائدہ۔

دوست نے سوال کیا کہ مووی اور فلم دیکھنا کیسا ہے؟ میں نے بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ مووی اور فلم بنانا؟ میں نے کہا کہ بہت ضروری ہے۔ اس نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ جب آپ دیکھنے والوں میں سے ہوں گے تو دوسرے بنائیں گے۔ اور پھر جو وہ بنائیں گے، آپ کی قوم کو دیکھنا پڑے گا اور یہی اس وقت ہو رہا ہے اور آپ "passive mode" میں ہیں۔ اور مووی جب آپ بنائیں گے تو کافر دیکھیں گے لہٰذا وہ متاثرین میں ہوں گے اور آپ متاثر کرنے والوں میں شمار ہوں گے۔

دیکھیں، اس بات کو ایک اور طرح سے سمجھ لیں کہ آج اگر تحریک اسلامی کی کاوشوں کے نتیجے میں "خلافت" قائم ہو جاتی ہے تو آپ کیا کریں گے؟ داعش کی طرح ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور اسکرین توڑ دیں گے؟ اگر نہیں تو آپ کیا سارا دن لوگوں کو تجویدی لب ولہجے میں خبریں سنوائیں گے؟ اور اگر ایسا کریں گے تو پھر اتنی خبریں کہاں سے آئیں گی الّا یہ کہ آپ ایسی خبریں جاری کریں کہ اب پشاور کے نواحی علاقے میں ایک گدھا بیمار ہو کر مر گیا ہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری تحریکوں نے نہ تو سنجیدگی سے ان مسائل پر کبھی سوچا ہے اور نہ ہی انہیں ان کی اہمیت کا احساس تک ہے۔ اگر "خلافت" قائم ہو جاتی ہے تو آپ کے پاس کون سا "آئین" ہے جو آپ اگلے ہی دن نافذ کر دیں گے؟ یہاں ایک آئین یعنی 73ء کا آئین حاصل کرنے میں ہمیں ربع صدی لگ گئی اور خلافت قائم کرنے کی صورت میں ہم ایک رات میں آئین بنا لیں گے؟ "حزب التحریر" نے آئین بنایا ہے لیکن اس کو دیکھ لیں، اس میں ان کے خلیفہ کے اختیارات بس اتنے سے ہیں جتنا کہ آپ اپنے آرمی چیف، پرائم منسٹر اور چیف جسٹس کے جمع کر لیں تو خلافت کے نام پر بدترین ڈکٹیٹر شپ چاہتے ہیں آپ؟

یا آپ کے پاس کون سا معاشی نظام ہے کہ آج خلافت قائم ہو گی تو آپ کل کو نافذ کر دیں گے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ "اسلامی بینکاری" کی طرح "اسلامی فلم انڈسٹری" بنا لیں لیکن یہ کہنا آسان ہے کہ سب کچھ بند کر دیں گے؛ بینک بھی، ٹیلی ویژن چینل بھی، مروّجہ نافذ شدہ قوانین بھی۔ تو بھئی اگر سب کچھ بند کر دیں گے تو پھر داعش ہی بنیں گے اور کیا بنیں گے؟ اس چلتے سسٹم کو آپ ایک دن نہیں روک سکتے کہ 120 کی رفتار سے چلتی گاڑی کو اچانک بریک لگائیں گے تو آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو گا؟

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو غلطیاں آپ نے بعد میں کرنی ہے، ابھی کر کے ان کی تصحیح کریں اور اسلام کے غلبے کا مطلب صرف سیاسی غلبہ نہیں ہے بلکہ ہر شعبہ زندگی میں غلبہ ہے۔ اگر یہ اسمارٹ فون کوئی تحریکی ذہن بناتا تو یہ ویسا نہ ہوتا جیسا کہ ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس کے نقصانات بالکل نہ ہوتے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اتنے نہ ہوتے جتنے کہ آج ہیں تو مووی اور فلم کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ ڈیجیٹل متحرک تصویر ہے، بس۔ اس میں حرمت تو فحاشی، عریانی اور گانے بجانے وغیرہ سے پیدا ہوئی ہے تو وہ تم نکال دو۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دین کے غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں دنیا کو دینے والا ہاتھ بنو نہ کہ لینے والا کہ لینے والا ہاتھ نیچے ہوتا ہے یعنی کہ مغلوب۔