مگر تم میری اولاد ہو - حفصہ عبدالغفار

بچپن میں ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ ایک بچہ نے اپنی والدہ سے پوچھا امّی میں پیدا کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے گھڑے میں مٹی ڈال کر رکھ دی، دو ہفتوں بعد تم پیدا ہو گئے۔ بچے نے بھی ایسا ہی کیا اور دو ہفتوں بعد گھڑے کو کھولا تو اس میں سے ایک مینڈک نکل آیا۔ بچے نے چڑ کر کہا، میں تمہیں مار تو دیتا، مگر کیا کروں کہ تم میری اولاد ہو۔

میرے خیال میں کتابوں کا شوق رکھنے والے بھی اپنے کمرے میں ردّی کی خاصی مقدار اسی منطق سے سٹور کیے رکھتے ہیں۔ جان کالنگز کا مضمون 'آن ڈسٹرائنگ بکس' ہو سکتا ہے کسی کو فقط طنز و مزاح لگتا ہو، مجھے تو وہ حقیقت لگتا ہے۔ بہرحال، یہ لطیفہ اور یہ مضمون یاد آنے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر مجھے اپنا کھلارا سمیٹنا ہے۔ (اب بندہ اچانک مر مُر ہی جاتا ہے، پیچھے سے سمیٹنے والوں کی صلٰوتیں تو نہ پہنچیں)۔

اب کچھ کتب ہیں، وہ کیسے کیسے آئیں یہ تو لمبا قصہ ہے، ایک مثال دیتی ہوں کہ ایک مرتبہ ایک تقریری مقابلے میں جانا ناگزیر مجبوری بن گیا۔ ان دنوں میرا گلا اتنا خراب تھا کہ بولنا بھی ناممکن تھا۔ میں نے 12 گھنٹے میں تین ہائی پوٹینسی پین کلرز لیں اور تقریر کردی۔ تقریر ختم ہوتے ہی معدہ کا وہ حال ہوا کہ پورا ہفتہ بیڈ ریسٹ کرنا پڑا۔ پوزیشن بھی آگئی، انعام میں کتاب تھی۔ پہلا صدمہ تو کتاب اور مصنف کا نام جان کر ہوا، دوسرا صدمہ ٹریٹ مانگنے والوں کی شکل دیکھ کر، تیسرا صدمہ یہ سوچ کر کہ یہ کتابوں کے ریک میں جگہ گھیرے گی اور چوتھا صدمہ آج دوبارہ نظر آنے پر، دانت پیستے ہوئے اتنا ہی کہہ سکی کہ "میں تمہیں پھینک تو دیتی مگر کیا کروں کہ تم میری۔۔۔۔۔۔"

اسی طرح کچھ سرٹیفکیٹس بھی پڑے ہیں۔ اللہ آئندہ ان سے حفظ و امان میں رکھے۔ چند دن قبل کہا گیا آپ کو ایونٹ مینجمنٹ کا سرٹیفکیٹ بھی دیں گے۔ میں نے کہا آپ مجھ سے ڈبل کام کروا لینا اور اس کے بدلے اپنا سرٹیفکیٹ اپنے پاس ہی رکھ لینا۔ حیران مت ہوں، میں بھی اس دور سے گزری ہوں جب سرٹیفکیٹ کا حصول ایک کامیابی تصور کرتی تھی۔ لیکن یہ سمجھنے کی بات ہے کہ اس مہنگے کاغذ نے (چار روپے کا بنتا ہے نا؟) آپ کو کچھ فائدہ نہیں دینا۔ کچھ دینا ہے تو دھکوں نے، پنگوں نے دینا ہے۔ اللہ بچائے، بندہ نہ ان کو رکھ سکتا ہے، نہ پھینک سکتا ہے۔ کچھ پر تو نام بھی نہیں لکھا ابھی تک، سوچتی ہوں بیچ ہی دوں! یہ آئیڈیا میرے بھانجے کا ہے۔ وہ کتب کی ڈسٹنگ کرتا جاتا اور ساتھ پلان بناتا جاتا۔ خالہ! ان کتابوں کی دکان بنا لیں گے، پھر اتنے پیسے آئیں گے، پھر۔۔۔ پھر۔۔۔ پھر۔۔۔ اور پھر آخر میں ہم مکہ چلے جائیں گے۔

لیکن ان کو خریدے گا کون؟

تو آخری آپشن ردّی بیچنے کا رہ جاتا ہے۔ میٹرک کے بعد ایک دفعہ یہ کام کیا تھا بعد میں تادیر افسوس ہوتا رہا۔ اب میں کسی قسم کے پچھتاوے کا رسک نہیں لے سکتی۔

اور کیا کیا جا سکتا ہے اب؟ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ میں ردّی بیچنے کا کام شروع کرلوں، صبح اپنی ردّی لے گئی، شام کو واپس لے آئی۔

ٹیگز