بگولے کی زد میں آیا چوہا - اسد علی

بگولے کی زد میں آیا چوہا اچھے خاصے سبک رفتار شاہینوں سے آگے نکل جاتا ہے۔ طوفان کے جلو میں بہتا مینڈک سطحِ دریا سے چمٹی مچھلیوں کا تمسخر اڑاتا ہے۔ جنگ کے بعد شہر کے بیچوں بیچ چلتی پریڈ میں وہ فوجی بھی کلف لگی بے داغ وردی میں اکڑ اکڑ کر چلتا ہے، میدانِ جنگ میں جس کا دل گولیوں کی آواز سے ہی دہل جاتا تھا۔

کتنی بے معنی، کتنی بے حقیقت ہے اس چوہے کی پرواز، اس مینڈک کی تیراکی اور فوجی کی خوش گمانی؟

کاش میں انہیں بتا پاتا کہ جو سفر ان کا نہیں، اس میں منزلوں کو پا لینا بھی اتنا ہی لاحاصل ہے جتنا رستوں میں بھٹک جانا۔ ”سطحِ دریا پر جبرِ دریاسے تیر کر“ ہم سمندر تک تو پہنچ جائیں گے۔ پر کس نے کہا کہ سمندر تک پہنچنا مقصود بھی ہے؟ کیا کریں گے ہم سمندروں کے اسرار کا حصہ بن کر جبکہ ہماری منزل میں رب نے ایک پیاس سے سوکھتے چھوٹے پودے کا دامن لکھا ہے؟ کیا کریں گے ہم ہزاروں شدتِ جذبات سے ناچتی لڑکیوں کو محبوب بنا کر اگر ہماری جگہ ایک معذور بچے کے پہلومیں ہے جو ہمارے گیتوں کو سن کر خود کو پھر سے بھاگتا محسوس کرتا ہے؟کیا کریں گے ہم بڑی بڑی کتابیں لکھ کر(جن کی تعریف تو سب کریں گے پر جنہیں سمجھ کوئی نہیں پائے گا) جبکہ ہمارا کام ایک شکی مزاج بوڑھے کو بس یہ پیغام پہنچانا ہے کہ خدا اس سے محبت کرتا ہے؟

پتہ ہے شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار کیا ہے؟ اس ہتھیار کی مضحکہ خیز حد تک سادگی ہی اسے ہمارے قلب وروح کے لیے سم بناتی ہے۔ وہ جب کسی کو گمراہ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو بڑی متانت سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی جگہ لے لیتا ہے ایک تالیاں بجاتا چھوٹا سا ہجوم! ہجوم جو ہم پر نازاں ہے،ہم سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے،ہماری بیکار سی باتوں پر دل کھول کر دادوتحسین کے ڈونگرے برساتا ہے۔ ہجوم جو ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ ہم کوئی بہت بڑا کام کرنے کو پیدا ہوئے ہیں اور ہم جو اس سارے کھیل میں یہی بھول جاتے ہیں کہ یہ سب شروع کیسے ہوا تھا؟ ہم اپنا Actبھول کر محض ان تالیوں کی لے پر Reactکرتے رہ جاتے ہیں۔ ہماری جس ادا پر زیادہ تالیاں بجتی ہیں ہم اپنی زندگی کو اس ادا سے ڈھانپ لینے میں لگ جاتے ہیں۔

زندگی کے اسٹیج پر ہم ایک احمقانہ انداز میں اپنی تحقیر کیے چلے جاتے ہیں اور تالیوں کی لے ہے کہ بڑھتی چلی جاتی ہے مگر خوشی سے دمکتے، تالیاں پیٹتے، نعرے لگاتے اس پتلیوں کے ہجوم کے پیچھے شیطان مسکراتا ہے اور مسکرائے چلا جاتا ہے۔