’’تجربہ کاروں‘‘ سے اللہ بچائے - آصف محمود

ایئر بلو کے مالک نے کس رسان سے کہا : ’’پی آئی اے کی ناکامی کا اعتراف سب سے پہلے میں کرتا ہوں‘‘۔ ستم ظریفی دیکھیے، ایک قومی ایئر لائن کی ناکامی کا ’’ سب سے پہلے اعتراف‘‘ وہ شخص کر رہا ہے جو ایک نجی ایئر لائن کا مالک بھی ہے۔ داغ دہلوی ہوتا تو پوچھتا : ’ ’ تمام شہر جلاؤ گے کیا، جلا کے مجھے‘‘۔ نظام سقے کو حکومت ملی تو اس نے چمڑے کی کرنسی جاری فرما دی۔ ایئر بلو کا مالک وزیر اعظم بن گیا تو اس نے سب سے پہلے پی آئی اے کے ساتھ تارا مسیحائی فرما دی۔ بس اتنی سی کسر رہ گئی کہ یہ اعلان بھی وہ ساتھ ہی کر دیتے کہ اب سے ایئر بلو کو قومی ایئر لائن سمجھا جائے۔ لیکن اس اعلان کی کیا ضرورت، جس طرح دلوں کے وزیر اعظم نواز شریف ہیں اسی طرح دلوں کی قومی ایئر لائن تو ایئر بلو ہی ہے۔

اتفاقات زمانہ دیکھیے 1997سے 1999 تک شاہد خاقان عباسی پی آئی اے کے چیئر مین رہے۔ اس منصب سے الگ ہوئے تو 2003 میں انہوں نے ایئر بلو قائم کر لی اور ایک حادثے کے نتیجے میں وزیر اعظم بنے تو ’’ سب سے پہلے‘‘ پی آئی اے کی ناکامی کے اعتراف کا ’’ اعزاز‘‘ ان کے حصے میں آیا۔

اے داغ اسی شوخ کے مضمون بھرے ہیں
جس نے مرے اشعار کو دیکھا، اسے دیکھا

خلق خدا دُہائی دے رہی ہے کہ اس تجربے کی راہ میں قانون کو اب حائل ہو نا ہوگا۔ کوئی تو ضابطہ بنائیے، کوئی تو پابندی لگائیے۔ ایک شخص پی آئی اے کا سربراہ رہتا ہے، پی آئی اے کی ساری خوبیاں خامیاں اس کے علم میں ہوتی ہیں۔ اب وہی شخص ایک نجی ایئر لائن قائم کرتا ہے تو کیا یہ قومی ادارے کے مفادات پر ایک ضرب کاری نہیں؟ کاروبار کی دنیا میں کوئی قانون اور ضابطہ ہوتا ہے۔ آپ کے سارے کاروباری رازوں اور کمزوریوں سے آگاہ شخص آپ کا کاروباری حریف بن جائے تو انجام کیا ہو گا؟ خواجہ آصف صاحب کے ایک پاور کمپنی، پاک گن پاور لمیٹڈ میں شیئر تھے اور وہ ہمارے وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی بھی رہے۔ کسی کی دیانت پر سوال نہیں، معاملہ اصول کا ہے۔ ایک شخص کے کاروباری مفادات جس معاملے سے جڑے ہوں اس معاملے میں ریاست کی طرف سے فیصلہ سازی کا اختیار اسی شخص کو کیسے دیا جا سکتا ہے؟

عالم یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی ساری تاریخ میں جتنا قرض لیا، اس حکومت نے قریب قریب اتنا ہی قرض چار سالوں میں لے لیا۔ اس حکومت نے ان چار سالوں میں ملک پر قرض میں53 ارب ڈالرکا اضافہ کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق جب یہ حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کے ذمے بیرونی قرضے 48 بلین ڈالر تھے۔ اب یہ تقریباً 83 بلین ڈالر ہیں۔ حکومتی اعدادو شمار کا اس لیے بھی اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ 2016 میں حکومت نے ایکسٹرنل پبلک قرض کی مد میں جو اعدادو شمار جاری کیے تھے، ان میں اور آئی ایم ایف کے جاری کردہ اعدادوشمار میں 15 بلین ڈالر کا فرق تھا۔ سینیٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق تین سالوں میں اس حکومت نے 33 کھرب 73 ارب روپے کا قرض لیا۔ یہی عالم رہا تو خدشہ ہے کہ 2018 تک پاکستان کے صرف بیرونی قرضے 100 کھرب تک پہنچ جائیں گے۔

20 اپریل 2016 کی بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرضہ 18 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اب ایک سال بیت چکا اس رپورٹ کو۔ اسحاق ڈار ہی بتا سکتے ہیں اب اصل صورت حال کیا ہے؟ وزیر خزانہ پر کرپشن کے خوفناک الزامات ہیں۔ انہیں نیب کے کیسز کا سامنا ہے۔ ان کی بلا سے معیشت جائے بھاڑ میں۔ ان کی جگہ احسن اقبال صاحب ورلڈ بنک اور دیگر مالیاتی اداروں سے مذاکرات کرنے امریکہ گئے ہوئے ہیں۔ استعفیٰ مگر انہوں نے نہیں دینا، نہ کسی میں جرات ہے ان سے لے سکے۔ اب تو جان پرکنز کی کتاب"The Confessions of Economic Hit Man" یاد آتی ہے اور یہ بد گمانی جنم لیتی ہے کہ کچھ لوگ ہمارے ہاں بھی کہیں ’’ اکنامک ہٹ مین‘ ہی کا کردار تو ادا نہیں کر رہے۔ اس لیے ابھی کام مکمل ہونے تک استعفی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی تو سمجھائے کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 91 گنا اضافہ کیسے ہو گیا؟

کسی سیمینار میں آرمی چیف نے کہہ دیا کہ معیشت اور دفاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور معاشی صورت حال اچھی نہیں تو جمہوریت کا نزلہ زکام اور کالی کھانسی ہونے لگ گئی۔ اہل دربار نے اپنے پیٹ کو ڈھول بنا کر پیٹنا شروع کر دیا کہ ہائے ہائے جمہوریت کی تو آبرو لُٹ گئی۔ یہ آرمی چیف کا کیا کام کہ معیشت پر بولے؟ جناب احسن اقبال نے بھی اس پر جمہوری گرہ لگانی ضروری سمجھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر معیشت پر بولنا آرمی چیف کا منصب نہ تھا تو جواب آں غزل کہنا کیا احسن اقبال کا منصب تھا؟ یا تو وزیر خزانہ نے جواب دیا ہوتا کہ معیشت ان کا میدان ہے۔ یا پھر وزیر دفاع نے کہا ہوتا کہ فوج کا معیشت پر بات کرنا مناسب نہیں۔ احسن اقبال کس حیثیت میں بولے؟ نہ معیشت ان کا میدان ہے نہ فوج ان کی وزارت سے متعلق ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے محض تصادم کی خواہش میں گنڈاسا لہرا کر جمہوریت کا پرچم سربلند نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے جمہوری کردار اور اقتدار کے اخلاقی وجود کو ثابت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

نواز شریف اور ان کے بچوں پر جو مقدمہ احتساب عدالت میں چل رہا ہے اس میں ایک جانب ملزمان ہیں اور دوسری طرف ریاست۔ یہ تقسیم خود قانون نے کر دی ہے۔ ایسے مقدمات کا عنوان ہی یہی ہوتا ہے کہState vs Nawaz Sharif یعنی سرکار بنام نواز شریف وغیرہ۔ اب سوال یہ وزرائے کرام کا جو لشکر ملزمان کے ہمراہ تشریف لاتا ہے وہ حکومت کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے یا ملزم کی؟ جس ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارا وہ وہاں آیا ہی کس لیے تھا؟ اس کا کام ریاست کی نمائندگی ہے یا ملزم کی؟ایک سرکاری منصب پر بیٹھا شخص پولیس پر ہاتھ اٹھا رہا ہے۔ کاش احسن اقبال ایک آدھ غزل اس پر بھی کہتے۔ جو وفاقی وزراء حکومتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کے پروٹوکول میں وہاں تشریف لاتے ہیں کیا ان کے پاس اس اقدام کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے؟اور وہ سرکاری وکلاء جو قانون کی بجائے ایک ملزم کی حمایت میں حاضری لگوانے آتے ہیں کیا ان کے پاس اس منصب پر رہنے کا کوئی جواز باقی ہے؟

پاکستان غیر معمولی معاشی بحران سے دوچار ہے۔ ہم 83 ارب ڈالر کے مقروض ہیں لیکن ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اسحاق ڈار نے خود قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں پاکستانیوں کی رکھی گئی رقم کا حجم 200 ارب ڈالر ہے۔ یہ رقم کیسے گئی؟ اس کا ایک ہی جواب ہے، کرپشن سے۔ ذرا سوچیے تو سہی یہ اقامے کیوں بن جاتے ہیں، اور کیوں ایک وزیر اعظم نااہل ہو کر گھر چلا جاتا ہے لیکن سوئس بنکوں کو خط نہیں لکھتا؟ اس رقم کا حساب مانگا جائے اور عدالتیں سوال کریں تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اسے نزلہ، زکام، کالی کھانسی، تپ دق، تشنج اور خسرہ سمیت کئی امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.