کرکٹ میں جملہ بازی: فائدہ یا نقصان؟ (5)

ترجمہ و تلخیص: عبدالستارہاشمی


کھیل کے میدان سے باہر حریف ٹیموں کے کھلاڑی دوست ہوتے ہیں۔ سب مل کر مزہ کرتے ہیں اور عزت کرنے اور کرانے کا اعلیٰ معیار نظر آتا ہے، البتہ میدان میں صورت حال مختلف ہوتی ہے۔ میری ویسے کوشش رہی ہے کہ دونوں جگہوں پر اپنی عظمت کا دھیان رکھوں۔ نہ کسی کو تکلیف دوں اور نہ ہی مجھے کوئی تکلیف دے۔

خوشگوار رہنا ایک آرٹ ہے اور اس کے کئی فائدے ہوتے ہیں۔ ہم کرکٹرز ہیں۔ لوگ ہمیں اور ہمارے کھیل کو دیکھنے آتے ہیں۔ اگر ہم ان کے رول ماڈل ہیں تو پھر کیا حرج ہے کہ ہم واقعتاً رول ماڈل بن کے دکھائیں لیکن کبھی کبھار یہ کرکٹ بھی جنگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ جس تیزی سے اس کھیل نے ارتقاء کی تبدیلیوں سے گزر کر نئی شکل اختیار کی ہے، وہ ہے تو حیران کن لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کو ٹیموں کی انتظامیہ سے لے کر کھلاڑیوں نے من و عن تسلیم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تو بھلا ہو ٹیلی ویژن والوں کا جس نے میدان کے میچ کو گھر گھر پہنچا دیا ہے۔ اب اسٹیڈیمز میں بیٹھے چند ہزار شائقین کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں ٹیلی ویژن دیکھنے والے شائقین بھی ہماری ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ کبھی کوئی باؤلر غصہ ہوجاتا ہے اور بلے باز سے الجھتا دکھائی دیتا ہے۔کبھی کوئی بلے باز باؤلر پر برستا دیکھا جاتا ہے۔

لڑائی کا یہ منظر اس لحاظ سے دلچسپ ہوتا ہے کہ لوگ کھلاڑیوں کے مابین ادا کیے گئے سخت الفاظ سننا چاہتے ہیں۔ کرکٹ کی زبان میں کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی نوک جھونک کو ’’sledging‘‘ یعنی جملہ بازی کہتے ہیں۔ سلیجنگ نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا انداز بدلا اور اب یہ بد کلامی بن گئی ہے۔ اس ضمن میں آسٹریلوی کھلاڑی تو لڑنے مرنے کی حد تک سلیجنگ کرتے ہیں۔ اس پر کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فاسٹ باؤلرز چونکہ جارح ہوتا ہے لہٰذا وہ ہر ایک سے لڑتا بھڑتا نظر آتا ہے، لیکن سلیجنگ کی فلاسفی کی سمجھ کے آنے کے بعد یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ سلیجنگ سے آپ مد مقابل کھلاڑی کو ذہنی طور پر کمزور کردیتے ہیں، جیسے بلے باز کی جملہ بازی سے باؤلر لائن لینتھ بھول کر باؤلنگ کرواتا ہے تو بلے باز کو ٹھکائی کا موقع مل جاتا ہے۔یہ شعور کی بات ہے۔ میرے نزدیک یہ شعور کی ایک سطح وہ ہوتی ہے جہاں انسان بد کلامی کا جواب بد کلامی سے دیتا ہے، اینٹ کے جواب میں پتھر دے مارتا ہے۔ شعور کی دوسری سطح وہ ہوتی ہے جہاں انسان بد کلامی کے جواب میں خاموشی اختیار کرتا ہے اور بد کلامی کرنے والے کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

شعور کی ایک تیسری سطح بھی ہے۔ اس میں انسان نہ صرف یہ کہ اپنے جذبات پر قابو پاتا ہے بلکہ برے اخلاق کا جواب بہترین اخلاق سے دیتا ہے۔ شعور کی یہی تیسری سطح ہے جو بد ترین دشمن کو بہترین دوست میں تبدیل کردیتی ہے اور جس کی وجہ سے معاشرہ میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔بد زبانی، بد کلامی اور فحش گوئی سے آپ نہ صرف اپنا وقار تباہ کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی بھی توہین کرتے ہیں جنہوں نے آپ کی تربیت کی۔ میں تو ویسے جملہ بازی کو فن سمجھتا ہوں اور آسٹریلیا میں کئی مرتبہ کھلاڑیوں کو اس طرح مذاق کرتے اور اتنا ہنستے دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ وہ لوگ مذاق کرکے زمین پر لیٹنے لگ جاتے ہیں، گویا ہنسی کے ایسے فوارے پھوٹتے ہیں کہ ان سے سنبھالے نہیں جاتے۔

1986ء میں آسٹریلیا کے دورے کے موقع پر ہمارا سامنا ان کے ایک نئے تیز باؤلر گریگ تھامس سے ہوا۔ ایک میچ میں وہ مجھے باؤلنگ کروانے آیا تو ابتدائی چند گیندوں پر میں نے احتیاط دکھائی اور اسے سمجھنے کے لیے گیندوں کو جانے دیا۔ اس سے اس کے احساس کو طاقت ملی کہ ویوین رچرڈز اسے کھیلتے ہوئے گھبرا رہا ہے۔ اس کی باؤلنگ میں اور بھی پختگی آگئی۔ پھر اچانک ہی اس نے میری ناک کا نشانہ لیا اور باؤنسر کروایا جسے میں نے سنبھال لیا اور یہ نقصان ثابت نہ ہوا۔ اگلی گیند پھر اس نے گڈ لینتھ سے اٹھا دی اور میں نے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے گیند کو وکٹ کیپر تک جانے دیا۔ اس پر تھامس مجھ سے یوں گویا ہوا، ویوین! مجھے لگتا ہے جیسے تم آج بہت گھبرا رہے ہو اور سچی بات تو یہ ہے کہ تمہیں میری گیندوں کی سمجھ ہی نہیں آرہی۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اس گیند کا رنگ سرخ ہے اور اس کا وزن ساڑھے پانچ اونس ہوتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   اپنا اپنا سچ - مفتی منیب الرحمٰن

ابھی اس کا طنز جاری تھا کہ سلیپ میں کھڑے ہیگ ہورس کی آواز سنائی دی: ’’اوئے، یہ تم نے کیا کردیا؟‘‘

اگلی گیند میرے زون میں تھی اور میں نے اسے سیدھا کھیلا اور یہ گولی کی تیزی سے گریگ تھامس کے پاس سے گزرتی ہوئی بانڈری لائن کراس کر گئی۔ پھر میں گریگ تھامس کی طرف مڑا اور کہا: ’’بہتر ہے کہ کسی فیلڈر کی طرف دیکھو، تمہیں خود جاکر اسے (گیند) ڈھونڈنا چاہیے۔ میری شارٹ ایسی ہی ہوتی ہے۔‘‘ اس کے بعد تو جیسے مجھ میں بجلی بھر گئی اور میں نے اس نوجوان باؤلر کی جی بھرکر پٹائی کی۔ اگلے 70 منٹوں میں میرے کھاتے میں میرے 130 رنز لکھے جاچکے تھے اور گریگ تھامس بے بسی کی تصویر بنے کھڑا اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے مجھ پر جملہ بازی کی تھی۔ یہ اس سیزن کی تیز ترین سنچری تھی۔ اور میں اس کے لیے گریگ تھامس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے ایسی لال گیند دکھائی جس کا وزن ساڑھے پانچ اونس تھا اور اس تعارف کے بعد میں میرا بلا اور باؤنڈری لائن اور گریگ تھامس کی سرخ گیند تھی۔

اسی طرح ایک اور آسٹریلوی باؤلر تھا جس کی شوخی نے مجھے مجبور کردیا کہ میں جارحانہ بلے بازی دکھاؤں۔ اس باؤلر کا نام لینی تھا۔ یہ نوجوان باؤلر سمجھتے ہیں کہ ایک دو گیندیں زوردار کروا کے بلے باز کو ڈرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس کے کپتان ایئن چیپل نے لینی کی باؤلنگ پر چار سلپ لیں اور ایک کھلاڑی گلی میں کھڑا کردیا۔ یہ اٹیکنگ فیلڈنگ تھی جو بلے باز کو ہمیشہ انڈر پریشر کرتی ہے۔ لینی اس فیلڈنگ پر پھولے نہ سمایا تھا کہ میں نے اسی ایک اوور میں اس کی باؤلنگ کے چھتڑے اڑا کے رکھ دیے۔ اوور ختم ہوا تو میں ایئن چیپل سے مخاطب ہوا اور کہا:

’’ایئن! اس باؤلر کو باؤلنگ سے مت ہٹانا، ورنہ میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھے رنز بنانے سے روک دیا ہے۔‘‘

یہ بات سن کر لینی تو جیسے تپ گیا۔ باؤلنگ مارک کی طرف جانے کے بجائے سیدھا میری طرف آیا اور میرے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے بولا:

’’میری اگلی گیند تمہیں ہسپتال پہنچانے کے لیے کافی ہوگی۔‘‘

لیکن بیچارہ لینی، اگلی گیند تو باؤنڈری کے پار لگی باڑ کے ساتھ بہنے والی نکاسی کی نالی میں پڑی تھی۔ کپتان نے اس سے گیند واپس لے لی اور وہ بڑبڑاتا ہوا تھرڈمین پوزیشن پر چلا گیا۔

میرا خیال ہے کہ اگر آپ کی حریف گریس فل ہے اور مہارتوں سے بھرپور ہے تو کھیلنے کا بھی مزا آتا ہے او ر موڈ بھی خوشگوار ہوجاتا ہے۔ آپ ڈینس للی کی ہی مثال لے لیں۔ یہ ایک شاندار مقابلہ باز تھا۔ کیری پیکر کے دھواں دار میچز میں ڈینس للی کو میں ہمیشہ ایک طاقت ور اور سمجھ دار حریف باؤلر کے طور پر لیا کرتا تھا۔ مجھے بہت ہی لطف آتا جب وہ ایل بی ڈبلیو کی اپیل میں دھاڑتا دکھائی دیتا اور میں دھیرے سے مسکراتا ہوا سنگل لے لیا کرتا تھا۔

ڈینس للی اور میرا جوڑ پرتھ کے مقام پر پڑا جہاں اس نے جاوید میاں داد کو لات رسید کردی تھی۔ للی کی یہ حرکت شریفانہ نہ تھی اور یقین کریں کہ اسی میدان میں میری یہی کوشش تھی کہ للی میرے ساتھ جاوید میاں داد والی حرکت دُہرائے، لیکن شاید وقت نے اسے عقل سے نواز دیا تھا لہٰذا چاہنے کے باوجود وہ لڑنے بھڑنے میں مجھ سے اس حد تک نہ گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں بلے کے بغیر اس کے گھر کے باہر اس سے ہاتھا پائی کے لیے تیار تھا۔ میرا خیال ہے کہ یہ آسٹریلوی باؤلرز کی فطرت میں ہے کہ اپنے آپ کو جارحانہ پیش کرو اور مخالفین کو لگے کہ ہم لڑنے مرنے پر بھی تیار رہتے ہیں اور ایماندارانہ بات تو یہ ہے کہ میں تو چاہتا تھا کہ کوئی کینگرو میرے گلے پڑے اور میں اسے مزا چکھاؤں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنا اپنا سچ - مفتی منیب الرحمٰن

کچھ اور نام بھی ہیں جن سے لڑنا میری خواہش رہی۔ ان میں ایک نام گریگ میک ڈرمٹ بھی ہے۔ یہ جو منہ آتا ہے بولتا چلا جاتا ہے اور اس کی یہ عادت اس لیے پک گئی کہ کوئی اس کو ترکی بہ ترکی جواب دینے والا نہیں ملا تھا۔ میری شدید خواہش تھی کہ اسے شٹ اپ کروں۔

چلیں میں آپ کو 1975-76ء کی آسٹریلوی ٹیم کا قصہ سناتا ہوں جو اپنے دور کی بہت ہی لڑاکو ٹیم تھی۔ میں ابھی نوعمر تھا اور پُرجوش تھا کہ مجھے کرکٹ کی دنیا میں اپنی جگہ بطور شاندار کھلاڑی کے بنانی تھی۔ آسٹریلیا کا یہ دورہ میری زندگی کا دوسرا ٹور تھا۔ اس سے قبل میں صرف بھارت گیا تھا۔ آسٹریلیا کا یہ دورہ اس لحاظ سے مشکل تھا کہ مجھے اس قسم کی کرکٹ کا تجربہ نہ تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرا کام صرف اچھا کھیل پیش کرنا ہے، لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ کرکٹ کے علاوہ بھی اپنی عزت بچانا ہوتی ہے۔ ان منہ پھٹ کرکٹرز کی موجودگی میں خود کو کیسے پُر سکون اور خوشگوار رکھنا ہے؟ یہ سوال بھی ایک ٹریننگ ہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آسٹریلوی تھرڈمین یا فائن لیگ پر کھڑا فیلڈر بھی گالی دے سکتا تھا۔ مجھے ان کی اس عادت کی وجہ یہ لگی کہ یہاں کوالٹی کرکٹ کا خاتمہ ہوا ہے اور اب کھلاڑی اپنی گیم کے بجائے جملہ بازی پر توجہ دیتے ہیں۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی گریگ میک ڈرمٹ کی تو جملہ بازی اور بُرے رویّے کی وجہ سے اس کی شہرت خاصی داغ دار تھی۔ اسے جب بھی گیند دی جاتی، وہ اپنے چہرے کے تاثرات سے یہی ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ وہ ایک بے رحم اور مار دینے والا باؤلر ہے اور اب بلے باز کی چھٹی ہے۔ اس کا یہ ہتھیار عام طور پر ٹیل اینڈرز پر بہت چلتا تھا۔ اگر کبھی اس کی گیند بلے باز کی چھاتی کے قریب سے گزر جائے تو وہ خنزیر کی طرح بد مست دکھائی دیتا۔

میں نے تو اس کا ہتھیار اس پر استعمال کیا۔ وہ بلے بازی کے لیے آیا تو میں نے کرٹلی ایمبروز کو بلند آواز میں ہدایت دی کہ ’’ایمبروز ذرا اس کی چھاتی سے چھوتی ہوئی گیندیں پھینکو، میں بھی دیکھوں کہ اس میں ان گیندوں کا سامنا کرنے کا دل گردہ ہے بھی کہ نہیں۔‘‘

پہلی گیند کے بعد اس کا زرد چہرہ اس کے اندر کی بزدلی کی عکاسی کررہا تھا۔ ایمبروز دوسری گیند کے لیے باؤلنگ مارک کی طرف بڑھ رہا تھا اور میں نے ایک بار پھر اسے گالی دیتے ہوئے کہا: ’’ایمبروز یہ کوئنز لینڈ کی گندگی کا کیڑا ہے۔‘‘ اس بات کی سچائی کایہ ثبوت ہے کہ ڈر موٹ نے اپنی کتاب میں یہ واقعہ درج کیا اور کہا کہ رچرڈز نے مجھے Honkey کہا تھا۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ہانکی کا کیا مطلب ہوتا ہے۔

ڈرمٹ جیسے آسٹریلوی کرکٹرز کی کئی مثالیں ہیں لیکن یہاں گلین میگرا کی مثال دینا چاہوں گا۔ یہ خوبصورت باؤلر فطرت میں اپنے ہم وطن فاسٹ باؤلرز سے قطعی مختلف تھا۔ میں نے اسے اینٹیگا میں کھیلتے دیکھا تھا۔ وہ ایک مہذب آسٹریلوی کرکٹر ہے۔

جملہ بازی کی روک تھام کے لیے کرکٹ کے کرتا دھرتوں کو کچھ اقدامات دکھانے ہوں گے، ورنہ یہ کھیل بھی رولر بال جیسا ہو جائے گا۔

(جاری ہے)