رب سے کیسے مانگا جائے؟ سید سرفراز شاہ

استغفار بڑی جامع دُعا ہے۔ لیکن ہم چونکہ عربی سے واقف نہیں ہیں، اس لیے ہمیں تسلی نہیں ہوتی۔ تسلی ہمیں اس وقت ہوتی ہے جب ہم دس تسبیحات استغفار کی پڑھ لیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم نے عبادت کی ہے، توبہ نہیں کی ہے۔ حالانکہ توبہ بھی عبادت ہے۔ مگر تسلی نہیں ہوپاتی۔ تسلی اس وقت ہوتی ہے جب ہم اپنی زبان میں رب تعالیٰ کے حضور درخواست پیش کرتے ہیں۔ وہ تو رب ہے۔ جس زبان میں بھی ہو، توبہ کرلیجیے، استغفار کیجیے۔

رب کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ میرے Concepts غلط ہوں، مجھے اس پر اصرار نہیں ہے کہ میں صحیح کہہ رہا ہوں لیکن میرا اپنے رب کے بارے میں روٹین سے ہٹا ہوا تصور ہے۔ ایک ایسی محبت کرنے والی ہستی جو تمام تر اختیارات رکھنے کے باوجود، ہر چیز پر قادر ہونے کے باوجود مہربان بہت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں نجانے یہ بات کیوں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے رب کے ساتھ چاہے کسی زبان میں گفتگو کرلوں، اپنی درخواست چاہے کسی زبان میں اور کسی انداز میں پیش کردوں، میرا رب اس کو قبول فرما لے گا۔

افریقا کے سواحلی میں اس سے سوال کیا گیا، وہ اس کو بھی سن لے گا، قبول فرمالے گا، جواب بھی دے دے گا۔ سواحلی میں ہی جواب دے گا۔ میں اپنے رب کے ساتھ جیسے دل چاہے، جس انداز میں بات کرلوں، اس کو سوال پیش کردوں، وہ میرے دل کو دیکھ رہا ہے کہ میرے دل میں جذبہ کیا ہے۔ اگر میرے دل میں یہ مان ہے، کہ وہ میرا رب ہے، مجھے پالنے والا ہے، میرا خالق ہے۔ اور یہ مان ہے کہ میرا رب سب سے بڑا ہے، وہ عظیم ترین ہے، بڑا مہربان ہے اور میں اس مان کے طفیل بات کرلوں، تو وہ تو میرے دل کو دیکھ رہا ہے کہ اس بندے کے دل میں میری اتنی محبت ہے اور اتنا مان ہے کہ یہ مجھے اپنا سمجھ کے اور اپنے آپ کو میرا سمجھ کے مجھ سے ان الفاظ میں مانگ رہا ہے۔

تو میرا رب Mind نہیں کرتا، مجھے یہ یقین ہے۔ بس وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے دل میں کیا ہے، کس جذبے سے اس نے بات کی ہے۔ میرا یہ Concept ہے، ہوسکتا ہے درست نہ ہو۔ صاحبِ علم کے نزدیک یہ بدتمیزی ہو، رب تعالیٰ کے ساتھ سیدھی سیدھی بات کروں کہ یا رب تعالیٰ مجھے دس روپے کی ضرورت ہے، فوری طور پر مجھے دس روپے عطا کردیں، کہا جائے کہ یہ گستاخی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ میرا رب ہے۔ اگر میں اس سے نہیں مانگوں گا تو پھر کس سے مانگوں گا۔ میں اس سے مانگتا ہوں، وہ میری ضرورت پوری کرتا ہے۔

رب کا معاملہ ایسا ہے کہ یہ صرف دل کا رشتہ ہے۔ ہم دل میں اپنے رب کو کیا سمجھتے ہیں۔ آپ ایک تماشا دیکھیے، میں آپ اور ہم سب، اپنے والد سے کس طرح محبت کرتے ہیں۔ پھر والد کا احترام بھی بہت کرتے ہیں، مگر جب ہم والد کے پاس کسی ضرورت کے لیے جاتے ہیں تو ایک مان ہوتا ہے ہمارے دل میں کہ ہم ایسے شخص کے پاس جارہے ہیں جو ہم سے بہت محبت کرتے ہیں اور اللہ نے انہیں وسائل دئیے ہیں۔ ہم اپنے والد کے پاس جاکر تکلفات سے کام نہیں لیتے۔ سیدھے جاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں دس روپے چاہییں۔ اگر وہ یہ کہیں میرے پاس نہیں ہیں تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کیسے نہیں ہیں آپ کے پاس؟ آپ تو بہت امیر ہیں، آپ کے پاس ہیں، مجھے پیسے دے دیں۔

رب تو باپ سے بہت بڑا ہے۔ میں اس کے ساتھ اسی مان کے ساتھ گفتگو کرتا ہوں کہ وہ میرا رب ہے۔ جتنا بھی چاہے اس سے مانگتا ہوں۔ صبح سے شام تک مانگتا ہوں، دیتا ہے۔ رب کے بارے میں ہماری یہ سوچ ہو۔
(گفتگو سے ماخوذ)