تاریخ کیا بتاتی ہے؟ پروفیسر احمد رفیق اختر

انتخاب: فہد محمود

یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اپنے اپنے عصر میں اپنے اپنے معیار کے مطابق پہلے بھی اقوامِ دنیا نے ترقی اور تنزل کے مدارج طے کیے ہیں۔اگر ان اقوام نے فی الواقع ترقی اور عزت کے مناصب حاصل کیں تو وہ نیست ونابود کیوں ہوگئیں۔تاریخ توارد ہے،تسلسل ہے۔انسان کی ملائکہ پر بنیادی برتری ہی یہی تھی کہ ماضی کے اسباق کو زندہ رکھتا ہے اور اس میں غلطی اور حماقت کے اقدام دور کرکے اُسے حال میں بہتری کے لیے استعمال کرتا ہے اور مستقبل کے اشارات چھوڑ دیتا ہے۔مگر تاریخ وہ واحد بدقسمت درس بھی ہے،جس نے کبھی بھی کسی آمر اور جاہ پرست کو ہدایت نہیں بخشی۔

ہرآمر مطلق نے تاریخ کو طاقِ نسیاں پر رکھا اور اپنے آپ کو ہی تاریخ ساز سمجھا۔اس سے کسی گزرے ہوئے واقعہ سے ہدایت طلب نہیں کی۔ کتنی ہی مرتبہ خدائے واحد کی پرستش بتوں کی یلغار کی نذر ہوئی۔ کتنے ہی فاتحین انہی حماقتوں کا شکار ہوئے جو ان سے پہلوں سے سرزد ہوئیں۔ یونان کے فلسفی اور ایتھنز کے جمہوری انداز بھلادیئے گئے۔ روما کے دیوتاؤں کو سسرو(Cicero) اور پلوٹارک بھی نہ بچاسکے۔تاریخ انضباطِ نفس میں ناکام ہوگئی۔ تاریخ دلچسپ ہے۔ کھنڈروں اور ازمنہ قدیم اور ازمنہ وسطیٰ کے معاشی،معاشرتی اور مذہبی اقدار کو سمیٹے ہوئے ہے۔ تاریخ کو مکمل سچائی کبھی حاصل نہیں ہوئی۔ واقعات پر رائے زنی کرنے والے بہت بعد میں آتے ہیں۔درسِ عبرت سیکھنے والے تو کبھی نہیں آتے۔ میدانِ جنگ میں لڑنا اور درس گاہوں کی آرام دہ کرسیوں پر گفتگوئے جنگ کرنا بہت بڑا فاصلہ ہے۔

فاسلز (Fossils) حیاتِ انسانی کی تاریخ مرتب کرتے ہیں اور تاریخ قوموں اور افراد کے کارنامے ماضی کے اندھیروں میں دور دراز کے ٹمٹماتے ہوئے چراغوں کی طرح روشن رکھتی ہے۔ زمین اور آسمان کے فاصلے شاید رات کو چمکتے ستاروں سے کم نظر آتے ہیں۔ بھولے ہوئے اسباق کبھی ایک لفظ اور فقرے کے یاد آنے سے زندہ ہوجاتے ہیں۔فاصلوں کو احساس کسی سنگِ منزل سے کم ہوجاتا ہے۔ مگر تاریخ تو حقائق کی داستان نہیں رہی۔آج کی حماقتیں ہمیں ماضی کی خطاؤں کی تماثیل نظر آتی ہیں۔زوال سے پہلے کوئی تاسف کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ زوال ہی فلسفہ وجود ہے۔ بہت سے دانشور ایسے ہیں جنہیں حسین ؑ اور یزید دونوں مظلوم نظر آتے ہیں۔ پیغمبرانِ قدر کے کچھ ناقد ایسے بھی ہیں جنہیں انسانوں کی گلیکسی کے یہ روشن آفتاب بھی آمریت کے طلب گار نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

کیا یہی ان کی عقل ہے جو ترقی پذیر ہے؟ حضرت ِ انسان ابھی فیصلہ نہیں کرپایا کہ اس نے تاریخ کا مطالعہ کیوں کرنا ہے اور کس کے لیے کرنا ہے۔ آثارِ قدیمہ (Antiquities)سے ڈرائنگ روم کی زینت کا کام تو لیا جاتا ہے مگر درسِ عبرت کی تحصیل فرسودگی کی علامت ہے۔مہاتما بدھ نے اس خوف سے خدا کا نام نہ لیا کہ اس کا دیا نام بھی برہمن کے بُت کدے میں ایک پتھر کا اضافہ نہ کرجائے مگر تاریخ سے عبرت حاصل کرنے والے اشوک نے اسے ہی پتھر بنایا اور درسگاہوں میں مہاتما بدھ کی تعلیم کے بجائے محکوم بُت تراشوں کے کام کی تفصیلات یاد رکھنے کی رسم پڑگئی۔

کیا تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ اقوام ِ عالم غربت میں نہیں تباہ ہوئیں۔ یہ عجیب بات نہیں کہ ہر قوم اپنی ترقی، عظمت اور معیشت کی کثرت کے وقت انجانے حادثوں کا شکار ہوگئی۔ تاریخ نے حقائق تو پرکھے مگر کسی تاریخ نے یہ نہیں لکھا کہ ایک قوم اپنے تمرد اور سرکشی کی وجہ سے برباد ہوئی۔ کسی نے یہ لکھا کہ عاد اولیٰ اور ثانیہ اپنے غیر انسانی اور بداخلاقی رویوں کی وجہ سے تباہ ہوئی، مگر یہ لکھا ہوا بھی ہو تو آج کی مہذب قوموں نے اس تاریخی سبق کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ کیا انہوں نے واضح غیر اخلاقی رویوں کو قانونی تحفظ نہیں دئیے؟کیا عقل پرستوں نے جبلتوں کی تخریب کی راہ ہموار نہیں کی؟ مستقبل کا مورخ یہ لکھنے کے قابل ہوجائے گا کہ حضرت انسان نے اس تاریخ سے ان فاش حماقتوں سے گریز کرتے ہوئے بہتر اور برترانسانی معاشرے کے لیے کوشش نہیں کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نسل انسان کبھی متفق نہیں ہوئی، متحد نہیں ہوئی۔ ان میں اقدار کی ہم آہنگی بھی پیدا نہیں ہوئی۔ آدم و حوا کے بیٹوں اور بیٹیوں نے عقل نہیں سیکھی۔ انہوں نے زمین بانٹی، آسمان بانٹا، جسم تقسیم کیے، خون تقسیم ہوا، اقتدار وتصرف کی جنگ لڑی، زمان و مکاں پر اپنے تصرف کے دعوے کیے اور تیزی سے اپنے انجام کو روانہ ہونے کی کوشش کی۔ اور یہ انجام تاریخ کی پہلی اقوام سے جدا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میری تشنگی، میرا تصوراتی سفر - بلال آتش

میں اس زمانے کا ہوں مگر بغیر کسی تردد کے یہ رائے دے سکتاہوں کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آج کا انسان زودیا بدیرکسی طوفان نوحؑ کا، کسی قیامتِ کبریٰ کی مکمل ہلاکت کا شکار ہونے والا ہے۔تمام تاریخ گواہ ہے کہ تمام عقلی شہادتیں اسی طرف رواں ہیں۔ یہ پیشین گوئی نہیں۔ تاریخی حقیقت ہے، اور اس میں صرف زمانے کی کچھ ساعتیں حائل ہیں۔یہ قنوطیت نہیں۔ یہ وہی حقیقت ہے، جو معجزات کے کے تصور سے گریز کیا کرتی ہے۔ یہ غیر حقیقی اور روحانی تصورنہیں کہ اب کی مرتبہ تاریخ اپنی تاریخ نہیں دہرائے گی۔ آپ کس معجزے کی تلاش میں ہوں اور کس سے یہ معجزہ طلب کررہے ہیں۔ریاضی،فزکس،جیومیٹری اورکمپیوٹر سے ہدایت پانے والے تو حقیقت پسند نہیں ہوتے۔ کتنے ہی سائنسی حقائق پرانے افسانے بن چکے ہیں اور کتنے ہی جدید سائنسی تصورات ابہام کا شکار ہیں اور کتنے ہی آخری سائنسی نتائج دوبارہ آغاز تک جاچکے ہیں۔
اقتباس "مقدمۃ القرآن"