تصوّرِ علم - بن یامین

علم صرف معلومات کا ہی نام نہیں اور نہ ہی صرف معلومات کے حصول کا ذریعہ ہے، بلکہ علم اپنی ذات میں قابل حصول شے ہے۔ انسان کی وجہ اشرفیت علم ہے جو انسان کو تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ علم ہی ہے جو مقصد انسانیت یعنی عبدیت کی جانب مشیر ہوتے ہوئے ربِ کائنات کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے اور مسخ سے سلامتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے فطرت اپنی اصل کو علم ہی کے ذریعہ پہنچتی ہے۔ فکری غلامی کے پردے ہٹائیں، فطرت کے شیشے سے مرعوبیت کی دھول کو صاف کریں اور ذرادِقّت نظری سے غور کریں تو معلوم ہوگاکہ علم ایک نور ہے۔

علم کے اس نور کو ظلمات کی گھاٹیوں میں دھکیلنے والی مغربی تہذیب ہے جو اپنی اصل کے اعتبار سے خواہش نفس کی تکمیل کی خاطر حدود کی زنجیروں کو توڑنے کا نام ہے۔ وہ زنجیریں خواہ مذہب کی باندھی ہوئی ہوں، بنیادی اخلاقیات کی ہوں یا فطرت سلیمہ کی۔ مغربی تہذیب کے اصولوں کے تحت تصوّر انسان و تصور زندگی کلیتاً بدل کر رہ گیا۔ معصوم اصطلاحات کے ساتھ ظلم مغرب کی عادت بن چکی ہے آزادی، انسانیت، مساوات، جیسی معصوم اصطلاحات کونئی بوتل کی مانند اپنی شراب ڈال کر مغرب نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور پوری دنیا کو نشے میں دُھت کردیا۔ آزادی کا نشہ چڑھا تو دنیا کا نعرہ” خدا سے آزادی “تک جا پہنچا۔ نشۂ انسانیت نے قانون فطرت کو پاؤں تلے روند ڈالا اور مساوات کی انتہا پر عورت کی مردانہ شکل دنیا نے دیکھ لی، ایسا ہی کچھ حال علم کے ساتھ بھی ہوا۔

خواہش نفس کی تکمیل کا بہترین ذریعہ سرمایہ ہے۔ کالی تہذیب نے سرمائے کے حصول کے لیے علم کو سولی چڑھایا۔ نتیجتاً مغرب کے ہاتھ سے علم تو اُٹھا لیا گیا لیکن اس کے گمراہ کن تصور عام ہوگئے۔ اس طرح نور علم کے بجھ جانے سے تہذیب نو کا نوجواں علم سے آشنا ہی نہ ہوا اور گمراہی نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چنانچہ علم کو محض سرمائے کی بڑھوتری کا آلہ ٹھہرا بیٹھا۔

یہ بھی پڑھیں:   سرسید اور مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ - شاہنواز فاروقی

مستقبل، آزادانہ اختلاط، بے شرمی، بہترین نوکری تعلیم کے لوازمات و مقاصد ٹھہرے جبکہ شرم، ادب، اخلاق، خاموش طبعی جیسے اوصاف حسنہ کو گالی بنا دیا گیا۔ وقت تو وہ ہے کہ تعلیمی نظام کی یہ حالت دیکھ کر آنسو بہائے جائیں، روایت کے جنازے پر چیخ و پکار بھی ہو لیکن علم کے مینار آج بھی زندہ ہیں، جو اندھیروں میں پڑے اس تصور علم کو چنگاری دکھا کر نور میں بدلنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان میناروں کی حیثیت کو مسلمان نوجوان قبول کرنے پر آمادہ ہوں اور ان پھونکوں کو روکنے کی کوشش کریں، جن سے ہمارے تصور علم کا نور بجھنےکا اندیشہ ہے۔ بعید نہیں کہ وہ نور پھر سے منور ہو اور اس کا اجالا امّت کے اندھیروں کو کم کرکے دنیا و ما فیھا کی حقیقت ان پر آشکارا کردے۔