سرکاری ملازمین کے مسائل – مسرور احمد

کچھ عرصہ قبل سی ایس ایس کے نتائج کا اعلان ہوا تو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ دس ہزار امیدواروں میں سے پاس ہونے والے دو سو خوش نصیبوں میں میرے ایک قریبی اور محترم دوست آغا نجیب الرحمٰن کے صاحبزادے بھی شامل تھے۔ فون پر مبارکباد دی تو انہوں نے شکریہ کے ساتھ اپنے آفس میں چائے اور گپ شپ کے لیے دعوت دے ڈالی۔ بات سے بات نکلی اور گفتگو کا رخ امتحان میں کامیاب ہونے والوں کی کم ہوتی ہو ئی شرح کی طرف چلا گیا۔ آغا صاحب کہنے لگے کہ مقابلے کے امتحانات امیدواروں کے لیے اب پہلے کی طرح زیادہ پرکشش نہیں رہے کیونکہ اکثر غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہنے والی روایتی افسر شاہی سے کہیں زیادہ مراعات، ترقی کے مواقع اور تنخواہیں پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر باصلاحیت نوجوان کارپوریٹ سیکٹر یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کا رخ کرتے ہیں۔ میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر اچھی پوسٹنگ کا نہ ملنا، نیز تقرری اور تبادلے میں سیاسی مداخلتوں نے اچھے اداروں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا سول سروسز کی طرف رجحان کم کردیا ہے۔ ایک دور تھا جب با صلاحیت طالبعلموں کی پہلی ترجیح سول سروس ہوا کرتی تھی کیونکہ تب مواقع کا فقدان ہوتا تھا لیکن اب لائق طلبا کے لیے اندرون و بیرون ملک پر کشش تنخواہوں پر کام کرنے کے لاتعداد مواقع ہیں۔ جس کی وجہ سے مقابلے کے امتحانات میں ذہین طلبا کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ آج کا نوجوان بہت حساس ہے۔ وہ ایک ایسا پلیٹ فارم چاہتا ہے جہاں اسے اپنی صلاحتیں دکھانے کے لیے زیادہ دشواریوں اور رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جبکہ افسر شاہی میں انہیں بسا اوقات قانون کی پاسداری کی بجائے اپنے سینئرز کی پسند نا پسند کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ سو ایسے ماحول میں ان کی حساسیت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔

اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو سول سروس کا سٹرکچر ہر دور میں مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو رہا ہے اور ہر حکومت نے سول سروس کو بااختیار اور مضبوط بنانے کی بجائے اپنا تابع مہمل بنانے کی طرف زیادہ توجہ دی ہے جس کی وجہ سے اکثر بیوروکریٹس میں بددلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ٹرانسفر، پوسٹنگ، ترقی اور سالانہ کاکردگی رپورٹ وغیرہ کا انحصار زیادہ تر کسی بھی بیوروکریٹ کی پبلک ریلیشن پر ہوتا ہے۔ طاقت ور اور حالات کو سمجھنے یا حالات سے سمجھوتہ کرنے والے افسر آگے نکل جاتے ہیں جبکہ کمزور، شریف اور سادہ طبیعت کے افسران ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ خود مختار یا نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کو دوہری اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انتہائی باصلاحیت ہونے کے باوجودوہ جس گریڈ میں بھرتی ہوتے ہیں ترقی کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پر اسی گریڈ میں ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ اصلاح احوال کے لیے متعدد بار پالیسیاں بھی بنی ہیں۔ یہاں تک کہ اس حوالے سےاعلیٰ عدلیہ کی رولنگ اور فیصلے بھی موجود ہیں لیکن شاید مناسب عمل درآمد نہ ہونے کے سبب معاملات جوں کے توں ہیں۔ منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، سول سروس میں تعمیری تبدیلیاں لانے کے لیے متعدد تجاویز پر غور کر رہی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے بہت محنت درکار ہو گی کیونکہ ماضی میں بھی کئی اصلاحات کی گئیں لیکن عمل درآمد کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی نہ ہونے کے سبب کوئی مثبت نتائج سامنے نہ لائے جا سکے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ والدین جس پیشے سے منسلک ہوتے ہیں فطری طور پر ان کے بچے بھی اس پیشہ کے حوالے سے بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیوروکریٹس کے بچے کیونکہ ایسے ماحول اور تربیت کے عادی ہوتے ہیں تو امید ہوتی ہے کہ وہ سول سروس میں آکردیگر امیدواروں کی نسبت اچھی پرفارمنس دیں گے لیکن اب بیوروکریٹ بھی اپنے بچوں کو سول سروس کی بجائے دیگر شعبوں کی طرف بھیجتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس میں دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین اور ان کے بچوں کے لیے ترغیبات ہوتی تھیں جو اب یا تو ختم کر دی گئی ہیں یا اس حوالے سے پالیسیاں تبدیل کر دی گئی ہیں جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے سول سروس کے شعبے میں وہ کشش نہیں رہی۔ مثال کے طور پر سرکاری ملازمین کے لیے سب سے پر کشش ترغیب سرکاری مکان کی الاٹمنٹ ہے۔ جس کے لیے پہلے یہ پالیسی تھی کہ اگر کسی ملازم کا بیٹا یا بیٹی بھرتی ہو جاتے تھے تو والدین کی ریٹائرمنٹ کے بعد مکان ان کے گورنمنٹ ملازم بچوں کے نام پر منتقل ہو جاتا تھا اور اس میں گھر کی کیٹیگری کی تخصیص نہیں ہوتی تھی۔ سرکاری ملازمین کے بچے مروجہ پالیسی کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے والے اپنے ملازم والدین کے گھر الاٹ کرا لیتے تھے جبکہ اب اس عمل میں تخصیص کر دی گئی ہے۔ اب سینئر ملازمین جن کوبالعموم کیٹیگری ٹو کے گھر الاٹ ہوتے ہیں جبکہ ان کے بچوں کو کیٹیگری تھری کے گھروں کی الاٹمنٹ کی سہولت (entitlement) میسر ہوتی ہے۔ اگر ان نوجوان ملازمین کے سرکاری ملازم والد یا والدہ کی ریٹائرمنٹ کی صورت میں رعایت (concession) کے طور پر کیٹیگری ٹو کے گھروں میں ہی قیام پذیر رہنے دیا جائے تو اس سے بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان کے والدین کو ریٹائرمنٹ پر کیٹیگری ٹو کے گھر سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں کیونکہ جب تک بچے سول سروس میں آتے ہیں ان کے والدین ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اب جس چیز کی آس پر وہ اپنے بچوں کو سول سروس میں لاتے ہیں وہ آس ہی باقی نہ رہے تو ان کی سول سروس میں دلچسپی کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ اس پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک اور مثال جس میں چند ماہ قبل وزارت داخلہ کے ایک ملازم محمد اقبال کی خود کشی کا واقعہ بھی سرکاری ملازمین کو درپیش ایک اور گھمبیر مسئلے کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ جس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے اس ملازم نے گھر کی الاٹمنٹ برقرار رکھنے کے لیے بیٹے کو ملازمت دلوانے کی کوشش کی کیونکہ اس کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی جبکہ محکمے کی طرف سے اسے کہا گیا کہ اس کے بیٹے کی ملازمت صرف اس کی دوران ملازمت وفات کی صورت میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری ملازمین کو جو چھوٹ پہلے ملی ہوئی تھی اب ترغیب کے طور پر اسے برقرار رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

اسی طرح ایک بڑا مسئلہ دوران ملازمت یا ریٹائرمنٹ کے بعد فوت ہوجانے والے سرکاری ملازمین کا بھی ہے۔ سرکاری ملازمین کی دوران سروس وفات پر ان کی بیوہ کو نقد مالی حقوق کے ساتھ پینشن کی صورت میں حکومت کی طرف سے مستقل مالی معاونت بھی ملتی ہے۔ لیکن بیوہ کا دوسری شادی کر لینے پر پنشن وغیرہ کا استحقاق ختم کر دیا جاتاہے۔ کئی نوجوان بیوائیں مراعات کے چھن جانے کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کرتیں اور ایک اذیت ناک غیر فطری زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اگر حکومت کی طرف سے ایسا قانون بنا دیا جائے کہ بیوہ کی دوسری شادی پر نصف مراعات اسے ملتی رہیں اور اگر اپنے مرحوم شوہر سے ہونے والی اولاد بھی ساتھ رہےتو پوری مراعات ملتی رہیں تو کئی جوان بیوائیں دوسری شادی کے بعد بھی ایک اعزاز اور اعتماد کےساتھ زندگی گزارنے پر تیار ہو جائیں گی۔ خصوصاً ہمارے سیکیورٹی فورسز کے نوجوان جام شہادت نوش کر جاتے ہیں اور اکثر ایک دو بچوں کے ساتھ ان کی جوان بیوائیں رہ جاتی ہیں اور زندگی بھر دوسری شادی نہیں کر پاتیں۔ جو بیوہ خاتون مرضی سے شادی نہ کرے تویہ اس کا فیصلہ ہے لیکن مراعات کے چھن جانے کے خوف سے دوسری شادی نہ کرنے والی بیوائیں کم ازکم غیر فطری زندگی سے نجات پا جائیں گی۔ ایسے بہت سے دیگر مسائل بھی ملازمین کو درپیش ہیں۔ کم تنخواہ اور وسائل کے ساتھ سرکاری ملازمین اپنی تمام عمر حکومت کی خدمت میں گزار دیتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان کی ضروریات کا احسن طریقے سے خیال رکھا جائے۔