پاکستان کے پاسبان اور ہمارے نام نہاد دانشوران! - عبدالعزيز غوری

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی اساس اسلام ہے۔ اس کی گواہی برعظيم کے کوچہ و بازار، جلے ہوئے بام و در دیں گے۔ خواتین کی برہنہ لاشیں، نیزوں پر اچھالے گئے بچے، لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام، جلے ہوئے کھیت وکھلیان، ہوا میں اڑنے والے پرندے، دن کا تپتا ہوا سورج، رات کا روشن چاند، جھلمل کرتے تارے دیں گے۔ کائنات کے ذروں سے لے کر آسمان کے ستاروں کو معلوم ہے اگر نہیں معلوم تو ہمارے ترقی پسند اور روشن خیال دانشوروں کو معلوم نہیں ہے۔

قوموں کی اساس ان کے نظریہ حیات، ایمان اور عقیدے پراستور ہوتی ہے۔ ملکوں کی آزادی وخود مختاری کی ذمہ داری فوج کے سپرد ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک کو فوجی شکست ہوئی ہے اور دشمن کی فوج اس ملک میں داخل ہوئی ہے تو نہ کسی جان کو امان ملی نہ کوئی عزت محفوظ رہی۔ عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے اور ہر چیز پر دشمن قابض ہوجاتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا فوجی شکست کے بعد عوام نے دشمن کی فوج کا مقابلہ کرکے وطن کا دفاع کیا ہو۔ تاریخ کی اتنی مظبوط شہادت اور ناقابل ترديد حقيقت کے بعد بھی بعض روشن خیال اور مادر پدر آزادی کے متوالوں کو یہ بات سجھ نہیں آتی وہ کہتے ہیں کہ فوج ملک پر بوجھ ہے۔

شاید آپ کو یہ بات ماننے میں تامل ہوکہ جو خبیث پاکستان کو گالی دینا چاہتے ہیں، وہ فوج کو مطعون کرتے ہیں اور جو اسلام پر تنقید کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان اور دوقومی نظریے کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ ان سب کا مقصد اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ یہ سب غلام فطرت لوگ ہیں اور غلامی ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ کل جب یہاں انگریز کا راج تھا یہ اور ان کے بڑے انگریز بننا چاہتے تھے ہر وہ چیز جو انگلینڈ سے آتی تھی وہ ان کے نزدیک ایمان کا درجہ رکھتی تھی، آج کے روشن خیال یا تو ان غلاموں کی اولاد ہیں جنہوں نے مسلمانوں سے غداری کے صلے میں جاگیریں حاصل کی تھیں یا یہ ان کرپٹ لوگوں کی اولاد ہیں جنہوں نے پاکستان کو جی بھر لوٹا اور جنہوں نے شرم و حیا اور غیرت وحمیت کاسودا کرلیا ہے۔ اسلام پاکستان اور فوج کے خلاف بدزبانی کرنا انہوں نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناکام سیاسی نظام اور بدقسمت عوام!محمد اکرم چوہدری

عیاش حکمرانوں، ضمیر فروش سیاست دانوں، قوم پرستوں اور فرقہ پرستوں، فحاشی، عریانی اور بدکاری کا کاروبار کرنے والوں، جوئے اور منشیات کے اڈے چلانے والوں، ملک کو دیوالیہ کرنے والے سود خور سرمایہ داروں، اور کرپٹ بیورو کریٹ کی دم پر جب پاؤں آتا ہے تو اسے ملک میں ہر فساد اور انتشار کے پیچھے فوج نظر آتی ہے۔ ملک اور قوم کے بدخواہ کبھی اپنے ضمیر میں بھی جھانک کر دیکھیں جو فوج سرحدوں کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگاتی ہے۔ اس فوج کو تم گالیاں دیتے ہو جس پاکستان نے تم کو شناخت دی۔ اس کی بنیادوں پر تم تیشے چلاتے ہو جس اسلام نے تمہیں اور تمہارے آباء واجداد کو عزت بخشی تھی۔ آج تم اسے ذلت کی علامت قرار دیتے ہو۔ اگر یہ ملک تمہیں پسند نہیں ہے اور اسلام کی قید بھی اب تم کو گوارا نہیں ہے جاؤ کسی اور ملک میں بسیرا کرلو اور اسلام کا قلادہ بھی اپنی گردنوں سے اتار پھینکو مگر خدارا پاکستان میں رہ کر پاکستان کو گالی مت دو۔ دائرہ اسلام میں رہ کر اسلام کو بے توقیر مت کرو۔ اپنی محافظ فوج کو ٹکڑوں پر پلنے والی فوج کا طعنہ مت دو۔ پاکستان میں رہنا ہے تو پاکستانی بن کر رہو اور اسلام، پاکستان اور فوج سے اپنی نفرت ختم کرو۔

کیا تم نے عراق، شام، لبنان، یمن، لیبیا کا حشر نہیں دیکھا؟ کیا افغانستان کے حالات سے تم بے خبر ہو؟ کیا کشمیر، فلسطین اور روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی فریاد تمہیں سنائی نہیں دیتی؟ آخر تم پاکستان کو کیا بنانا چاہتے ہو؟ یہ وقت ہے فوج کے مورال کو بلند کرنے کا، ان کی بہادری، شجاعت اور قربانیوں کے اعتراف کا۔ ان کی ہمت بڑھانے، ان کے جذبہ ایمان کو جلا بخشنے کا اور ان کی مشکلات کے ادراک کا۔ ہماری فوج اللہ کے شیروں کی فوج ہے۔ اللہ اکبر اس کا نعرہ، جہاد اس کا ماٹو ہے۔ شہادت اس کی آرزو ہے۔ ملک اور قوم کا دفاع اس کی اولین ترجیح ہے۔ اے اہل وطن! سیاست دانوں کی ذاتی لڑائی سے بے نیاز ہوکر ملک کے دفاع کی فکر کریں کیونکہ ایوان باطل میں ہماری برباديوں کے مشورے ہورہے ہیں۔
اسلام زندہ باد پاکستان پائندہ باد