گاڈ فادر (6)

پچھلی قسط یہاں پڑھیں


ڈان نے سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے کہا:

’’تم نے اپنے سے زیادہ طاقتور اور بااختیار آدمی سے اس کی محبوبہ چھینی، اس کے بعد شکوہ کررہے ہو کہ وہ تمہیں اپنی فلم میں کاسٹ نہیں کررہا۔ تم نے اپنی بیوی اور بچوں کو چھوڑدیا اور اب شکوہ کرتے ہو کہ وہ تم سے اچھی طرح پیش نہیں آتے۔ اپنی دوسری بیوی کو تم کال گرل سے بدتر قرار دیتے ہو، لیکن اس کے منہ پر گھونسا نہیں مارتے کہ کہیں اس کی شوٹنگ کھٹائی میں نہ پڑجائے۔۔۔ جونی! تم ایک احمق انسان ہو اور تمہارا وہی انجام ہوا ہے جو عام طور پر احمقوں کا ہوا کرتا ہے۔ اس میں رونے دھونے کی کیا بات ہے؟!‘‘

’’میں اپنی پہلی بیوی جینی سے دوبارہ شادی نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کی شرائط پوری کرنا میرے بس کی بات نہیں۔‘‘ جونی نے فریادی سے انداز میں اپنی بات جاری رکھی۔

’’وہ کہتی ہے کہ مجھے جوئے، شراب، عورتوں اور مرد دوستوں سے دور رہنا ہوگا۔ جوا اور شراب میں نہیں چھوڑسکتا۔ عورتیں خود میرے پیچھے آتی ہیں۔ اب میں کیا کروں؟ اس سلسلے میں بھی میں کچھ نہیں کرسکتا۔ ویسے بھی جب میں جینی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا تب بھی مطمئن نہیں تھا، اب میں اسی زندگی کی طرف واپس نہیں جاسکتا۔‘‘

’’میں نے تم سے کب کہا ہے کہ تم جینی سے دوبارہ شادی کرو یا مزید کوئی شادی کرو، یہی غنیمت ہے کہ تم نے ایک باپ کی طرح اپنے بچوں کی گزر اوقات کا خیال رکھا ہے۔ جو انسان اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھتا، میں اسے مرد ہی نہیں سمجھتا۔۔۔ لیکن بہرحال۔۔۔ تم جن حالات سے دوچار ہو، وہ تمہارے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں۔ تم نے اپنے بہت اچھے دوست بھی نہیں بنائے، بلکہ لڑکپن کا جو ایک آدھ اچھا دوست تھا، اسے بھی ترقی کے راستے پر آگے نکلتے ہی فراموش کردیا۔ دوست بہت اہم ہوتے ہیں۔۔۔ تقریباً فیملی کی طرح۔۔۔!‘‘

پھر ڈان کارلیون ایک لمحے کے لیے خاموش رہا۔ جونی اُمید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا، آخر ڈان نرم لہجے میں بولا:

‘‘وہ جو اسٹوڈیو کا مالک ہے، جو تمہیں اپنی فلم میں کاسٹ نہیں کررہا۔ اس کا نام کیا ہے اور وہ کس قسم کا آدمی ہے؟ مجھے اس کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتاؤ۔‘‘

’’اس کا نام جیک والز ہے، وہ بہت دولت مند، طاقتور اور بارسوخ شخص ہے۔ امریکا کے صدر تک سے اس کی شناسائی ہے، کیونکہ جنگ کے زمانے میں اس نے پروپیگنڈا فلمیں بھی بنائی ہیں، جو دنیا میں امریکا کا امیج بہتر بنانے اور اس کا موقف اُجاگر کرنے میں مدد دیتی تھیں۔ صدر اس قسم کے معاملات میں اس سے مشورہ کرتا ہے، ایک ماہ پہلے اس نے اب تک کے مشہور ترین اور سب سے زیادہ بکنے والے ناول پر فلم بنانے کے حقوق خریدے ہیں۔ اس کا مرکزی کردار بالکل مجھ جیسا ہے۔ میں اگر ایکٹنگ نہ کروں تب بھی اس کردار کو بہت اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں۔ میں اس کردار میں بالکل اسی طرح فٹ ہوں جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔۔۔ شاید مجھے اس پر اکیڈمی ایوارڈ بھی مل جائے، فلمی دنیا کے ہر آدمی کا خیال ہے کہ وہ کردار گویا میرے لیے بنا ہے، اگر مجھے اس فلم میں سائن کرلیا جائے تو مجھے گویا دوسری زندگی مل جائے گی۔۔۔ لیکن اس مردود جیک والز نے اس بات کو انا کا مسئلہ بنالیا ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں مجھے اس فلم میں کاسٹ کرنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔ حتیٰ کہ میں نے مفت کام کرنے کی بھی پیشکش کردی، لیکن اس کا انکار، اقرار میں نہیں بدلا۔ میں نے ہر کوشش کرکے دیکھ لی ہے۔‘‘

ڈان نے متاسفانہ انداز میں سر ہلایا اور کہا:

’’مایوسی اور شکستہ دلی کی حالت میں تمہاری بے اعتدالیاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ تم زیادہ پینے لگے ہو، سگریٹ بھی پیتے ہو، سونے کے لیے خواب آور گولیاں لیتے ہوگے، انہی بے اعتدالیوں کی وجہ سے تمہاری آواز بھی تمہارا ساتھ چھوڑ گئی ہے، اب تم میرے احکام سن لو، تم ایک ماہ اس گھر میں میرے ساتھ رہو۔ اس دوران تم صحیح طرح کھاؤگے، پینا پلانا بالکل چھوڑدوگے، خواب آور گولیاں نہیں لوگے۔ صحت مندانہ طریقے سے زندگی گزاروگے۔ ایک ماہ بعد تم ہالی ووڈ واپس جاؤگے اور میرا وعدہ ہے کہ جیک والز تمہیں اپنی فلم میں سائنس کرلے گا۔۔۔ ٹھیک ہے؟‘‘

میرے داماد کو ’’فیملی‘‘ کے کاروبار۔۔۔ اصل معاملات اور دوسری اہم باتوں کی ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔ بس اس کے لیے اچھے ذریعہ معاش کا بندوبست کردینا، جس سے وہ آرام و آسائش سے زندگی گزارسکے۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔‘‘

جونی قدرے بے چینی سے ڈان کی طرف دیکھنے لگا۔ اسے صحیح طور پر معلوم نہیں تھا کہ اس کا گاڈ فادر واقعی یہ کام کرانے کی طاقت رکھتا تھا یا نہیں؟ حالانکہ وہ ڈان کے بیٹوں ہی کی طرح اس کے بہت قریب رہا تھا اور ڈان نے اسے تقریباً بیٹے جیسی ہی حیثیت دے رکھی تھی۔ مگر بہت سی باتیں اس کے بھی علم میں نہیں تھیں۔۔۔ تاہم ایک بات اسے یقینی طور پر معلوم تھی کہ گاڈ فادر کبھی ایسے کام کا وعدہ نہیں کرتا تھا جو وہ نہ کرسکتا ہو۔ وہ کبھی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتا تھا جسے وہ پورا کرکے نہ دکھاسکتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (10)

’’میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ وہ شخص امریکا کے صدر ریڈگر۔جے۔ہوور کا ذاتی دوست ہے۔‘‘ جونی نے گویا ڈان کو یاد دلایا۔

’’اس کے سامنے کوئی اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرسکتا۔‘‘

’’لیکن وہ بہرحال ایک بزنس مین ہے۔۔۔‘‘ ڈان بولا۔

’’میں اسے ایک ایسی پیشکش کروں گا جسے وہ رد نہیں کرسکے گا۔‘‘

’’اب بہت تاخیر ہوچکی ہے۔‘‘ جونی بولا۔

’’تمام معاہدے سائن ہوچکے ہیں۔ ایک ہفتے میں شوٹنگ شروع ہونے والی ہے۔ اب یہ کام ناممکن ہے۔‘‘

’’تم باہر باغ میں واپس جاؤ اور دعوت سے لطف اندوز ہو۔ یہ کام تم مجھ پر چھوڑدو اور سب کچھ بھول جاؤ۔‘‘ ڈان نے اُٹھ کر اسے کمرے سے باہر کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔

وہ جاچکا تو ڈان ایک بار پھر ہیگن کی طرف متوجہ ہوا جو اپنی میز پر بیٹھا کاغذ پر ضروری پوائنٹس نوٹ کررہا تھا۔ گہری سانس لیتے ہوئے اس نے پوچھا:

’’اب اور کیا کرنا ہے؟‘‘

’’سولوزو سے آپ کی ملاقات کو میں ٹالتا آرہا ہوں۔ وہ آپ سے ملنے کے لیے بضد ہے، جبکہ آپ فی الحال اس سے ملنا مناسب نہیں سمجھ رہے تھے۔ اب اسے مزید ٹالنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے بارے میں کیا کرنا ہے؟‘‘

ڈان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا: ’’اب میں شادی سے فارغ ہوچکا ہوں۔ اب کسی بھی روز اس سے ملاقات رکھ لو۔‘‘

ڈان کے اس جواب سے ہیگن کو دو باتوں کا اندازہ ہوگیا۔ ایک تو یہ کہ سولوز جس کام کے سلسلے میں ڈان سے ملنا چاہتا تھا، اس کے بارے میں ڈان کا جواب انکار میں ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ انکار میں جواب دینے کے لیے ڈان اس ملاقات کو شادی کے بعد تک کے لیے ٹالتا آرہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کے انکار سے بدمزگی پیدا ہونے کا امکان تھا۔ چنانچہ ہیگن نے محتاط لہجے میں پوچھا:

’’کیا میں مینزا سے کہہ دوں کہ وہ کچھ آدمیوں کو اس گھر میں رہنے کے لیے بھیج دے؟‘‘

’’اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ڈان نے بے نیازی سے کہا۔

’’یہ درست ہے کہ شادی سے پہلے میں نے اس سے اس لیے ملاقات نہیں کی تھی کہ میں اس تقریب پر ناخوشگواری کا معمولی سا سایہ بھی پڑنے نہیں دینا چاہتا تھا۔ دوسرے میں ملاقات سے پہلے اندازہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ کیا بات کرنا چاہتا ہے۔ اب مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے وہ ہمارے ساتھ شامل ہونے کی کوئی تجویز لے کر آئے گا۔‘‘

’’اور آپ انکار کردیں گے؟‘‘ ہیگن نے تصدیق چاہی۔

ڈان نے اثبات میں سر ہلایا تو ہیگن بولا: ’’لیکن میرے خیال میں اسے کوئی حتمی جواب دینے سے پہلے ہم سب لوگوں کو۔۔۔ پوری ’’فیملی‘‘ کو ایک بار بیٹھ کر اس معاملے پر تبادلہ خیال کرلینا چاہیے۔‘‘

’’اگر تمہاری یہ رائے ہے تو ایسا ہی کرلیں گے۔‘‘ ڈان مسکرایا۔

’’لیکن ہم یہ کام تمہارے لاس اینجلس سے واپس آنے کے بعد کریں گے۔ پہلے تم جونی والے معاملے کو سلجھانے کے لیے لاس اینجلس جاؤگے۔ میں چاہتا ہوں تم کل ہی چلے جاؤ اور فلمی دنیا کے اس اچکے سے ملو جس سے جونی بہت مرعوب ہے۔ کیا نام بتایا تھا جونی نے اس کا؟۔۔۔ ہاں۔۔۔ جیک والز۔۔۔ تم جیک والز سے مل کر مسئلہ حل کرو اور سولوزو سے کہہ دو کہ جب تم لاس اینجلس سے واپس آؤگے تب میں اس سے ملوں گا۔۔۔ اور کچھ۔۔۔؟‘‘

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (13)

ہیگن ہموار لہجے میں بولا: ’’ہسپتال سے فون آیا تھا۔ ڈینڈواب قریب المرگ ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ وہ آج کی رات مشکل سے گزار پائے گا۔ وہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔ انہوں نے اس کی فیملی کو بھی بلالیا ہے تاکہ وہ لوگ آخری لمحات اس کے قریب گزار سکیں۔‘‘

ڈینڈو ڈان کا وہ پرانا وکیل تھا جس کی جگہ ہیگن کام کررہا تھا۔ فی الحال اس کے پاس قانونی مشیر کا یہ ’’عہدہ‘‘ عارضی طور پر تھا۔ ڈینڈو کی موت کے بعد ہی اس کے مستقل ہونے کی اُمید تھی لیکن اس معاملے میں ہیگن کے ذہن میں کچھ شکوک وشبہات تھے۔ اس نے سنا تھا کہ اس عہدے پر کسی ایسے شخص کو ہی رکھا جاسکتا تھا جو بہت گھاگ، شاطر اور تجربہ کار ہو اور جس کی رگوں میں اطالوی خون دوڑ رہا ہو۔ ہیگن صرف پینتیس سال کا تھا اور اطالوی بھی نہیں تھا۔ ڈان نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا تھا۔

’’میری بیٹی کب رُخصت ہورہی ہے؟‘‘ ڈان نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔

’’کچھ دیر بعد کیک کٹنے والا ہے۔ اس کے آدھ پون گھنٹے بعد وہ اپنے دلہا کے ساتھ رخصت ہوجائے گی۔‘‘ ہیگن نے جواب دیا اور اس کے ساتھ ہی اسے گویا ایک ضروری بات یاد آگئی۔ اس نے پوچھا:

’’کیا آپ کے داماد کو ’’فیملی‘‘ میں کوئی اہم پوزیشن دی جائے گی؟‘‘

’’ہرگز نہیں۔۔۔‘‘ ڈان نے میز پر ہاتھ مارکر اتنے سخت لہجے میں جواب دیا کہ ہیگن حیران رہ گیا۔ اسے ’’فیملی‘‘ کے کاروبار۔۔۔ اصل معاملات اور دوسری اہم باتوں کی ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔ بس اس کے لیے اچھے ذریعہ معاش کا بندوبست کردینا، جس سے وہ آرام وآسائش سے زندگی گزارسکے۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔ اور یہ بات سنی، فریڈ اور مینزا کو بھی بتادینا۔‘‘

پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد ڈان بولا:

’’میرے تینوں بیٹوں سے کہہ دو کہ ہم سب ڈینڈو سے الوداعی ملاقات کے لیے ہسپتال جائیں گے۔ وہ ہمارا بہت اہم اور باعزت ساتھی تھا۔ ہم اس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کریں گے اور پورے احترام سے الوداع کہیں گے۔ فریڈ سے کہنا کہ جانے کے لیے بڑی گاڑی نکالے اور جونی سے کہنا کہ اگر وہ بھی ہمارے ساتھ چلے تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘

پھر ہیگن کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر وہ بولا:

’’تمہیں ہمارے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ تمہارے پاس وقت نہیں ہوگا۔۔۔ تمہیں آج رات ہی لاس اینجلس جانے کی تیاری کرنی ہوگی، لیکن تم ہسپتال سے میری واپسی کا انتظار ضرور کرلینا۔۔۔ تمہارے جانے سے پہلے میں تمہیں کچھ ضروری باتیں سمجھانا چاہتا ہوں۔‘‘

’’گاڑی کس وقت نکلواؤں؟‘‘ ہیگن نے پوچھا۔

’’جب کونی اور تمام مہمان رخصت ہوجائیں۔‘‘ ڈان نے جواب دیا۔

’’مجھے امید ہے کہ ڈینڈو میرا انتظار ضرور کرے گا۔ وہ مجھ سے ملاقات کیے بغیر اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا۔‘‘

’’سینیٹر کا فون آیا تھا۔۔۔‘‘ ہیگن نے بتایا۔ وہ شادی میں شرکت نہ کرسسکنے پر معذرت کررہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ آپ اس کی مجبوری سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ شاید اس کا اشارہ ایف بی آئی کے ان دو آدمیوں کی طرف تھا جو باہر گاڑیوں کے نمبر نوٹ کررہے تھے۔ بہرحال، اس نے خصوصی قاصد کے ذریعے شادی کا تحفہ بھجوادیا تھا۔‘‘ ڈان نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ اس نے ہیگن کو بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ درحقیقت اس نے خود ہی احتیاطاً سینیٹر کو شادی میں آنے سے منع کردیا تھا۔

’’کیا اس نے اچھا تحفہ بھیجا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’چاندی کا ایک ڈنر سیٹ ہے جو نوادرات میں شمار ہوتا ہوگا۔ اس کی قیمت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سینیٹر نے اسے تلاش کرنے اور منتخب کرنے میں اپنا بہت سا قیمتی وقت صرف کیا ہوگا۔۔۔‘‘ پھر ہیگن خوش دلی سے مسکراتے ہوئے بولا:

’’اس قسم کی چیزیں برے وقت کے لیے بھی اچھا سہارا ہوتی ہیں۔ ہزاروں ڈالر میں بک جاتی ہیں۔‘‘

ڈان ایک اچھے تحفے کا ذکر سن کر خوش نظر آنے لگا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اسے اس بات کی بھی خوشی تھی کہ سینیٹر جیسا اہم آدمی اس کے خاص وفاداروں میں تھا۔

(جاری ہے)