قادیانی مسئلہ اور چار باتیں - محمد عامر خاکوانی

تین چار باتیں الگ الگ ہیں۔ پہلا یہ کہ قادیانی غیر مسلم ہیں چونکہ وہ ختم نبوت ﷺ پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ ایسا بنیادی نکتہ ہے، جسے نہ ماننے والا دائرہ اسلام میں رہ ہی نہیں سکتا۔ اس لیے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے کسی دوسری رائے کی گنجائش ہی نہیں۔

دوسرا یہ کہ پاکستانی آئین کے تحت قادیانی غیر مسلم قرار بھی پا چکے ہیں۔ یہ بھی واضح امر ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں۔ یہ طے شدہ امر ہے، اسے قطعی طور پر ری اوپن نہیں کرنا چاہیے۔ ہم قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی آئینی ترمیم میں ایک نقطے کی تبدیلی کے بھی حق میں نہیں۔ قانون توہین رسالت بھی اپنے اصول میں ایسی ہی حتمیت کا حامل ہے۔ اس کے پروسیجر میں کوئی تبدیلی صرف علمائے دین کی مشاورت سے ہوسکتی ہے، اس کا بہترین فورم اسلامی نظریاتی کونسل ہے۔ اکابر علما کے مشورے اور منظوری سے کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔

تیسرا معاملہ قادیانی کے ساتھ تعلق کا ہے۔ یہ ہر ایک کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے، کوئی داعیانہ تعلق بنانا چاہتا ہے اور بطور غیر مسلم ان تک دعوت پہنچانا چاہتا ہے، ان کے فکری مغالطے اور گمراہی کو دور کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے۔ اسے کسی مولوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اللہ اور اس کا رسول اس کی نیت جانتا ہے، اسے اجراپنی نیت اور عمل پر ملے گا، کسی مولوی صاحب کے سرٹیفکیٹ کی بنا پر نہیں۔ کوئی فاصلہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر اسے اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

چوتھا معاملہ ہے قادیانیوں کے بطور غیر مسلم سرکاری ملازمتوں کا۔ آئینی طور پر وہ پاکستانی ہیں، دوسرے پاکستانیوں کی طرح ان کا مساوی حق ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا ممکن نہیں کہ کسی مذہب ،نسل کی بنیاد پر کسی کو باقاعدہ قانون بنا کر روکا جائے۔ ایسا کرنا خطرناک بھی ہے کہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی طرح اس کا بائیکاٹ ہوجائے گا،سماجی مقاطعہ۔ سرکاری اداروں میں ملازمتیں قادیانی بھی لے سکیں گے دوسروں کی طرح۔ ہاں! جو اہم یا حساس محکمے ہیں،جہاں کسی قسم کا خطرہ ریاست کو محسوس ہوگا تو وہاں پر غیر تحریری، غیر رسمی طور پر ایسا کیا جاتا ہے۔

امریکی قانون کے تحت کسی مسلمان کو امریکی صدر بننے سے نہیں روکا جا سکتا یا سی آئی اے کا چیف بننے، یا جج یا کسی اور اہم حساس محکمے میں ٹاپ پوزیشن لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ وہاں صرف یہ پابندی ہے کہ پیدائشی امریکی ہو۔ مسلمان بھی بن سکتا ہے اگر وہ پیدائشی امریکی ہوتو لیکن کبھی کوئی مسلمان امریکی صدر بنے گا، نہ سی آئی کا چیف یا کسی اور اہم حساس امریکی محکمے کی ٹاپ پوزیشن میں آ سکے گا۔ ایسا مگر غیر تحریری، غیر رسمی طور پر سلیقے سے کیا جاتا ہے۔ کوئی احمق امریکی ہی مطالبہ کرے گا کہ نہیں ، مسلمان کے لیے باقاعدہ قانونی پابندی لگائی جائے ۔ اس کی اس بات پر اس کا مذاق اڑایا جائے گا، کیونکہ ایسا ہوتا نہیں۔ یہ صرف پاکستان ہے، جہاں ایسے غبی العقل لوگ موجود ہیں جو ایسے معاملات کی پیچیدگی اور حساسیت کو نہیں سمجھتے۔ جہاں جہاں روکا جانا مقصود ہے، بے فکر رہیں ، وہاں ایسا ہو رہا ہے۔ ایسا ہونے دیں، احمقانہ مطالبات اور تقریروں سے مسائل پیدا نہ کریں۔

نوٹ: یہ بھی یاد رکھیں کہ جس طرح ہریہودی صیہونی نہیں، ہر ہندو بی جے پی والا نہیں۔ اسی طرح ضروری نہیں کہ ہر قادیانی پاکستان یا اسلام کے خلاف دن رات سازشیں کرنے میں لگا ہو۔ عالمی قادیانیت تحریک کے حوالے سے مجھے بھی تحفظات ہیں، کچھ لوگ ہوسکتے ہیں جنہیں پاکستان کھٹکتا ہو۔ مگر عام آدمی ہر جگہ ایک جیسے ہوتے ہیں، ان میں سے بہت سے چونکہ کسی خاص مذہب کے گھر میں پیدا ہوگئے، اس لیے وہ مذہب اختیار کر لیا۔ دعوت کا کام اچھے طریقے سے ہو تو ان شاء اللہ ایک بڑی تعداد حق کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ یہ گنجائش باقی رکھنی چاہیے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com