جزیرے کا بادشاہ – ضیاء اللہ خان

ایک مشہور فارسی بزرگ اپنی کتاب میں ایک جزیرے کی حکایت لکھتے ہیں کہ جس پر جب حکومت قائم ہوتی تھی تو وہ ایک محدود مدت کے لیے ہوتی تھی اور جب وہ حکومت اپنا وقت پورا کر لیتی تھی تو پرانے باشاہ کو ایک دور دراز جزیرے پر پھینک دیا جاتا تھا، جہاں انسانی آبادی نہ تھی اور وہاں صرف خونخوار درندوں کی آماجگاہیں تھیں۔ ساتھ ہی ایک عجیب و غریب طریقے سے نیا بادشاہ چن لیا جاتا تھا۔ اس چناؤ کا طریقہ کچھ یوں تھا کہ حکومت ختم ہونے کے دن اس جزیرے پر جو بھی پہلا جہاز لنگر انداز ہوتا تھا تو اس میں سے اترنے والے پہلے شخص کو ہی زبردستی بادشاہ بنا لیا جاتا تھا۔ بادشاہ بناتے ہی اس کو اس با ت سے آگاہ کردیا جاتا تھا کہ اس کی حکومت کی مدت پہلے سے طے شدہ ہے جس میں ردّ و بدل ممکن نہیں اور جب حکومت کی مدّت پوری ہوجائے گی تو اس روز اسے کو اٹھا کرایک اور دور دراز جزیرے پر موجود جنگل میں پھینک دیا جائے گا، جہاں کوئی انسان آبادی نہیں۔ ان لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ اگر بادشاہ نے اپنے دور حکومت میں کوئی غلط فیصلے نہیں کیے اور ناانصافی سے کام نہیں لیا تو وہ جنگل میں بھی محفوظ رہے گا اور اس کا سلسلہ وہاں چلے گا یا پھر کوئی جہاز آجائے گا اور بادشاہ وہاں سے نکل جائے گا۔ جنگلی جانوروں سے بھرے اس جنگل میں ہی بادشاہ کی آئندہ زندگی ممکنہ طور پر گزرنی ہوتی تھی۔ ایک طرف تو سابقہ بادشاہ کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہوتا تو اسی دوران جیسے ہی کوئی نیا شخص اس جزیرے پر قدم رکھتا اسے ہار پہنا دیے جاتے اور اسے باور کرا دیا جاتا کہ وہ آج سے اس جزیرے پر بسنے والے لوگوں کا بادشاہ ہے۔ کئی بادشاہوں کو جنگل میں پھینکا گیا، کئی بادشاہوں کو درندوں نے چیر پھاڑ دیا اور کئی بھاگ نکلنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

اسی طرح ایک حکومت ختم ہوئی اور بادشاہ کو اس جزیرے میں موجود درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ایک نئے آنے والے بادشاہ کا انتظار کیا جانے لگا۔ یہ شام کا وقت تھا کہ سیاحوں کا ایک بحری جہاز وہاں آکر رکا اور اس جہاز میں موجود مسافروں میں سے ایک شخص تاجربھی تھا۔ سب سے پہلے تاجر ہی جہاز سے اتر کر جزیرے کی جانب بڑھا۔ وہاں موجود لوگ جو نئے بادشاہ کی آمد کے منتظر تھے، تاجر کودیکھ کر نعرے مارنے لگے اور اسے ہار پہنا دیے گئے، استقبال کے لیے تالیاں بج رہی تھیں اور وہ شدید خوفزدہ تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ تاجر اس رسم و رواج سے ناواقف تھا اور انتہائی حیرانگی اور خوف کے عالم میں لوگوں سے پوچھتا رہا کہ یہ سب کیا ہے؟ جب لوگوں نے اسے ساری کہانی سے آگاہ کیا تو اس کے اوسان خطا ہوگئے اور اس نے سب کو سمجھانے کی ناکام کوشش کی کہ وہ ایک تاجر ہے، وہ یہاں صرف گھومنے پھرنے یا تجارت کی غرض سے آیا ہے، اس کا حکومت یا بادشاہت سے کسی قسم کا نہ کوئی تعلق ہے، نہ ہی وہ ایسی کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ مگر لوگ اپنے رسم و رواج کی رسیوں میں بری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے نہ صرف اسے زبردستی بادشاہ بنا دیا بلکہ دور حکومت ختم ہونے کے بعد پیش آنے والے سارے معاملات سے بھی آگاہ کردیا۔

یہ سب سن کر وہ انتہائی پریشان تھا مگر اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ یہاں کے لوگوں کی بات کو تسلیم کرلے۔ کیونکہ لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ بادشاہ بننا چاہتا ہے یا نہیں، لوگ زبردستی بھی اسے بادشاہ بنا نے پر تل چکے تھے۔ چار و ناچار اس نے منصب قبول کر لیا مگر اس کی تمام تر توجہ یہاں سے بچ نکلنے پر لگی ہوئی تھی۔ سو اس نے وہاں کے لوگوں سے اس حکمرانی کے اختیارات کے متعلق سوال کیا تو لوگوں نے اسے آگاہ کیا کہ دنیا کے مختلف بادشاہوں کی طرح آپ بھی مکمل با اختیار بادشاہ ہوں گے مگر اس حکومت کے انتخاب اور اس کے اختتام سے متعلق کوئی بھی قانون سازی یااس میں کسی قسم کے ردو بدل کا اختیار آپ کو حاصل نہ ہوگا۔ بادشاہ ایک مرتبہ تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا مگر پھر اس کی عقل نے اسے ایک نفع کے سودے کی ترکیب دی۔ جیسے ہی شاہی خلعت اور منصب اس کو دیا گیا تو اس نے اپنے اختیارات سے لطف اندوز ہونے کی بجائے ملک کی ساری فوج مختلف محاذوں سے واپس بلوالی اور سپہ سالار کو دربار میں طلب کیا۔ سپہ سالار سے سوال ہوا کہ اس کے پاس کتنی فوج ہے اور اس ملک کے انتظامی معاملات سنبھالنے کے بعد کتنی فوج ایسی بچے گی جس کے ذمے کوئی کام نہ ہو؟ بیرکوں میں بچ جانے والی فوج کی تعداد جان لینے کے بعد بادشاہ نے حکم صادر فرمایا کہ اس ساری فوج کو بیرکوں کی بجائے اس جزیرے پر بھیجا جائے جس پر جنگل ہے اور جس میں خونخواردرندے ہیں۔ فوج کے ذمے وہاں پر موجود خونخوار درندوں تلف کرنا تھا۔ حکم کی تعمیل ہونے لگی۔ اس کے بعد اس نے سلطنت میں موجود تما م تر مالیوں کو طلب کیا اور ان میں سے اپنے شعبے کی مہارت والے بہترین مالیوں کے ایک دستے کو اس جنگل میں روانہ کیا اور ان کے ذمے وہاں پھل دار رخت لگانا اور پھولوں سے اس جزیرے کو آباد کرنا تھا۔ اگلہ مرحلہ معماروں کا تھا جن کے ذمے اس جنگل میں ایک عالیشان محل کی تعمیر تھی۔ زراعت سے منسلک لوگوں کو مزدوروں کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ نہریں کھودنے کی غرض سے بھیج دیا گیا۔ اپنی حکومت کے تما م تر وقت میں ایک طرف وہ اس بادشاہی سے لطف اندوز ہو رہا تھا دوسری طرف وہ اس ویران اور خونخوار جنگل کی آرائش اور اس کی آبادکاری پر خصوصی توجہ دے رہاتھا۔ وہ کسی بھی لمحے اپنی بادشاہت کے نشے میں جنگل کو نہیں بھولا تھا نہ اس نے اس کی تعمیر و ترمیم میں کوئی کمی آنے دی۔

پھر ایک دن آیاکہ اس بادشاہ کا دور حکومت ختم ہوگیا اور علاقے کے منتخب لوگ ہتھکڑیاں لیکر آگئے تاکہ بادشاہ کو قید کیا جائے اور اسے جنگل میں پھینک دیا جائے۔ کیونکہ یہ دن عمومی طور پر بادشاہوں کے لیے زار و قطار رونے کا دن ہوتا تھا۔ مگر جب اس کی باری آئی تو اس نے ہنسی خوشی ان کے ساتھ جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ میں اس جنگل کو ایک لمحے کے لیے بھی بھولا نہیں تھا اور اسی آج کے دن کے لیے میں نے اس جنگل کو نا صرف جنگلی جانوروں سے پاک کرادیا ہے بلکہ اس میں تعمیرو ترقی بھی کرائی ہے اس میں باغات لگوا دیے تھے کیونکہ بادشاہت کے مزے میں بھی جنگل کی ہولناکی کو بھولتا نہیں تھا اور اس کی تیاری جاری رکھتا تھا۔ اب وہ جنگل نہیں بلکہ وہ فصلوں اور پھلوں اور باغوں سے سجا ایک جزیرہ ہے۔

حکایت لکھنے والے بزرگ انسان کو بھی اس بادشاہ سے تشبیہ دیتے ہیں کہ انسان بھی اس بادشاہ کے جیسا ہے کہ آیا وہ آنا چاہے یا نہ چاہے، اسے اس دنیا پر بھیج دیا جاتا ہے اور اسے بھی ایک دن یہاں سے ہر صورت جانا ہے اور اسی بادشاہ کی طرح اس انسان کو بھی کئی اختیارات کے باوجود بھی اس اصول کو تبدیل کرنے کی اجازت اور طاقت نہیں کہ وہ جانے کے اس عمل کو روک سکے۔ بزرگ لکھتے ہیں کہ قبر ہی وہی جزیرہ ہے جس میں ہمیں ایک دن ضرور جانا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ دنیا میں میسر اختیارات سے محض لطف اندوز ہونے کی بجائے ان کو بروئے کار لاتے ہوئے آئندہ کے اس جنگل والے جزیرے کو خوبصورت کرنے اور اس کی آبادکاری میں استعمال کریں تاکہ کل کو جب ہمیں اس میں جانا ہو تو ہم بھی اسی بادشاہ کی طرح بخوشی اس کی طرف بڑھیں اور آگے ہمارے لیے معاملات آسان ہوں ایسا نہ ہو کہ ہم اس بادشاہی کے لطف میں ایسا محو ہوجائیں کہ اس جزیرے کی فکر ہی چھوڑ دیں، جس پر ہم آج محنت کر کے اپنے لیے آسائشیں پیدا کرسکتے ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے تب تک تو سوچنے کا وقت ہم سب کے پاس ہے مدت بھی ختم ہونی ہے اور جانا بھی ہے کیسے وہ کس طرح کی جگہ جانا ہے یہ ہم پر منحصر ہے۔