پاکستان امریکہ تعلقات، فیصلہ کن مرحلہ آ گیا - یاسر محمود آرائیں

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات روز اوّل سے ایک آقا اور غلام کے ہیں۔ امریکی عہدیداران ہمیشہ سے پاکستان کو اپنی نوآبادیاتی ریاست سمجھتے آئے ہیں اور ہمارے ساتھ ان کا برتاؤ ایک نک چڑھے باس کی طرح رہا ہے کہ جب کبھی کوئی کام پڑ گیا تو تھوڑا ہنس کے بلالیا اور کام نکلتے ہی تیوری چڑھا کر پھر پرے دھتکار دیا۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران بلا تفریق(سول اور ملٹری)اس بے توقیری کے خود ذمہ دار رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے آج تک کسی امریکی عہدیدار سے برابری کی سطح پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ ہی امریکی وفود کے ساتھ میل ملاقات میں آج تک پروٹوکول کے قواعد وضوابط کو فالو کرنے کی۔ بلکہ دیکھا یہ جاتا رہا ہے کہ کوئی تیسرے درجے کا امریکی عہدیدار بھی آتا ہے تو اس کو کسی سربراہ مملکت سے بڑھ کر پروٹوکول دیا جاتا ہے اور اس سے ہمارے وزرائے اعظم، صدور اور آرمی چیفس کی ملاقات کروائی جاتی رہی ہے اور جب یہی ہمارے لیڈران خود امریکہ جاتے ہیں تو ان کو ائیر پورٹس پر ناصرف جامہ تلاشی کے عمل سے گزارا جاتا ہے بلکہ ان کی ملاقات کسی ہم منصب کے بجائے کہیں چھوٹے لیول کے افسر سے کرائی جاتی رہی ہے۔ ہمارے لیڈران کی جانب سے اپنی بے توقیری کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرنے کے باعث ہی امریکہ بہادر ہم پر اتنا دلیر ہوچکا ہے کہ اب آئے روز وہاں سے یہ بیانات آتے ہیں کہ ہم چونکہ پاکستان کو امداد دیتے ہیں اس لیے ان کے (پاکستان کے) پاس ہمارے احکامات کی بجاآوری کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ماضی قریب تک امریکہ کے اس طرح کے دھمکی آمیز بیانات کے بعد ہماری قیادت منمنانے اور صفائیاں دینے شروع ہوجایا کرتی تھی مگر نہایت خوش آئند امر یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہماری قیادت کو بھی یہ ادراک ہوگیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کی جائے ۔ اس سے بھی مسرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکہ کے لیے مزید 'ڈومور' نہ کرنے اور اس کو کرارا جواب دینے کے لیے اس وقت سول اور ملٹری قیادت کی سوچ میں کوئی تفریق نہیں ہے اور اس وقت دونوں اس ایشو پر ایک پیج پر نظر آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   برکس اعلامیہ اور وزیر خارجہ کے بیانات - یاسر محمود آرائیں

آرمی چیف جرنل قمر جاوید باجوہ کی 6 ستمبر کی جی ایچ کیو میں کی گئی تقریر اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ایک عرب اخبار کو دیا گیا انٹرویو اس بات کا ثبوت ہیں۔ ہم اس وقت چین کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر جدید ہتھیار تیار کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ روس سے بھی ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اس نے ہم پر عائد ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی اٹھالی ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے روس سے جدید ہیلی کاپٹر خرید کر اپنے بیڑے میں شامل کیے ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان کی روس کے ساتھ میزائل دفاعی نظام کی خریداری کی بابت بھی بات چیت چل رہی ہے۔

یہ بات بالکل لازم اور وقت کی ضرورت ہے کہ ہم پیشگی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل تلاش کرلیں کیونکہ اس وقت کے امریکی صدر کے بارے میں میڈیا میں یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ انہوں نے کانگریس کو تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان پر نہ صرف امریکہ کی جانب سے اقتصادی اور عسکری پابندیاں عائد کی جائیں بلکہ ورلڈ بنک سے بھی یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ پاکستان کی امداد معطل کردے۔

اس لیے وقت آگیا ہے جتنا جلد ہوسکے ہم نہ صرف امریکی امداد لینے سے اعلانیہ معذرت کرلیں بلکہ دفاعی سازوسامان میں بھی امریکی ٹیکنالوجی کو مکمل خیرباد کہا دیں کیونکہ ایک تو امریکی عسکری مصنوعات قیمتاً نہایت مہنگی ہوتی ہیں دوسرا امریکہ کی جانب سے اس کے استعمال پر بہت کڑی شرائط لگائی جاتی ہیں جب کہ اس کی تمام ٹیکنالوجی اور کنٹرول امریکہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ ہمارے ایک سابق ایئر وائس مارشل کا یہ بیان ریکارڈ کا حصہ ہے کہ پاکستان کو فراہم کیے جانے والے ایف 16 طیارے مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہیں اور کسی بھی قسم کی ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکہ کی منشا کے خلاف یہ طیارے اڑان ہی نہیں بھر سکیں گے۔ اس کے علاوہ امریکی جنگی آلات میں فالتو پرزہ جات اور گولہ بارود بھی امریکی کمپنیوں کا ہی استعمال ہو سکتا ہے اس لیے امریکہ اس چیز کو بھی بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی امریکہ نے فاضل پرزہ جات کی فراہمی روک کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان 1971ء کی جنگ میں امریکی اتحادی ہونے کے ناطے امریکی بحری بیڑے کا انتظار کرتا رہ گیا جبکہ اس کے برعکس بھارت اپنے اتحادی سویت یونین کی بھرپور اعانت کے باعث پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے علاوہ بھی امریکی بے وفائیوں اور مختلف حیلوں سے پاکستان کو پریشان کرنے تاریخ بڑی لمبی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی پیشگی قیمت کی ادائیگی کے باوجود امریکہ کی جانب سے ناصرف طیاروں کی فراہمی سے انکار بلکہ رقم بھی دبا لینا ابھی کل کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا شاندار اور والہانہ پذیرائی تھی - اختر عباس

خیر، دیر آید درست آید! اگر اب بھی ہماری لیڈر شپ کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ امریکہ ہرگز لائق اعتبار نہیں ہے اور امریکہ سے پاکستان کا تعلق ہمارے لیے بوجھ بن چکا ہے تو جتنا جلد ممکن ہو ہمیں اس بوجھ سے جان چھڑالینی چاہیے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں ہمیں ماضی کی طرح تمام انڈے ایک ٹوکری میں رکھنے کے بجائے ہمیں تمام طاقتوں کے ساتھ یکساں تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش کے ساتھ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی 'میک ان انڈیا' پالیسی طرز کا منصوبہ بنانے اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی شرائط معاہدے میں لازم رکھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے تاکہ ہم ناصرف آہستہ آہستہ دفاعی طور پر خود کفیل ہوجائیں بلکہ اس تمام عمل سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور 'میک ان پاکستان' کی صورت خطیر زر مبادلہ کی بیرون ملک ترسیل روکنے میں بھی مدد ملے گی جو ہماری کمزور وناتواں معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!