آزادیِ رائے - رومانہ گوندل

بد قسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی اکثریت معذور ہے۔ یہ معذوری جسمانی نہیں ذہنی اور سوچ کی ہے، ذہنی طور پر اندھے، بہرے، گونگے اور بونے لوگ، جن کی اپنی سوچ اتنی بیمار ہے کہ اس کا اظہار دوسروں کے سامنے کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن دوسروں کی بات سننا اور سمجھنا بھی نہیں چاہتے۔ پھر وہ صرف دوسروں کو نا پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے ان کے پاس بے شما ر وجوہات ہوتی ہیں۔ کسی سے نا پسندیدگی کی وجہ اس کے جسمانی خودوخال ہوتے ہیں، آنکھیں، کان، ناک، قد اور رنگ۔ان مسئلوں کو وہ اتنا بڑھاتے ہیں کہ کسی کی چھوٹی آنکھوں کو نا پسند کرتے کرتے، وہ خود کب ذہنی طور پر اندھے ہو گئے، انہیں پتا ہی نہیں چلتا۔ کبھی کبھی اس ناپسندیدگی کا دائرہ اس سے بھی چھوٹا ہو کر کپڑوں کے ڈیزائن او ر رنگ تک آ جاتاہے۔ لیکن کچھ پڑھے لکھے لوگ جن کی سوچ ذرا وسیع ہوتی ہے وہ ان باتوں میں نہیں پڑتے کیونکہ وہ اختلاف اور نفرت کے لیے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ اس لیے دینی طبقہ جو خود کو مذہب کا علمبردار سمجھتا ہے، شیعہ اور سنی پر لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جہنم میں بھیجنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ اس کوشش میں کتنے لوگ اسلام سے دور ہوئے؟ کتنی مسجدیں ویران ہوئیں؟ ان "دین کے رکھوالوں" نے پروا ہی نہیں کی۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں سب ہی ایسے ہیں کچھ لوگوں کے خیالات اس سے مختلف ہیں۔ وہ مذہب کو امن اور اخوت کا پیغام سمجھتے ہیں اور ہر فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو بحیثیت مسلمان عزت دیتے ہیں۔

کیونکہ ان کے نزدیک سارا مسئلہ سیاست ہے۔ اس لیے اپنی اپنی پسند کے سیاستدانوں کو لے کر وہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی پارٹیوں کی موجودگی، کئی نعروں، دھرنوں، جلسوں، ریلیوں سے قوم نے کیا کھویا، کیا پایا؟ یہ ایک سیاسی بحث ہے لیکن اس دوڑ میں کتنے بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں، اپنے اپنے لیڈر کو لے کے قوم کتنے ٹکڑوں میں بٹ گئی؟ دلوں میں کتنی نفرتیں آ گئیں؟ یہ ہمارے معاشرتی تعلقات کے لیے لمحہ فکریہ ضرور ہے۔لیڈروں اور پارٹیوں کے اختلافات سے نکلے تو پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں بٹ گئے۔ اس کی ذمہ داری ہم چاہے ہمسایہ ملک اور امریکہ پر ڈال کے مطمئن ہو جائیں لیکن سچ یہی ہے کہ اپنی نفرتوں سے نقصان ہم خود ہی اٹھا رہے ہیں۔

ان سب سے ہٹ کر گاؤں کے سادہ لوح لوگ جو سیاست اور دوسرے تمام معاملات سے بے خبر ہیں، وہ ر سم و رواج اور ذات، برادری کے نام پر ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں اور بات تک کرنا پسند نہیں کرتے۔

اگر چہ یہ سارے معاملات تھے تو صرف سوچ کا فرق، جن کو رائے کی آزادی دینے سے باآسانی سے حل کیا جا سکتا تھا لیکن ہمارے لیے یہ بڑھتے بڑھتے ذہنی بیماری میں بدل گئے اور پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آگیا اور معاشرتی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ بن گئی۔

اب اس ماحول کو بدلنے کے لیے ہمیں ذہنی طور پر تندرست لوگوں کی ضرورت ہے، ایک مضبوط اور کھلی سوچ والے لوگ، جو مل کے ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں اختلاف اور تنقید کے پیچھے صرف ذاتی حسد یا تنگ نظری نہ ہو بلکہ ایک خوبصورت جواز ہو۔ ہمارے پاس ایک ذہین، بہادر اور خوبصورت قوم ہے لیکن سوچ کی تنگی جیسی ذہنی بیماری نے ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیا اور ہم دنیا کی نظر میں جاہل، دہشت گرد اور نا قابل قبول ہوگئے۔ اب ہمیں اس انگریزی مقولے پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے

’’ مجھے آپ کی رائے سے بالکل اختلاف ہے، لیکن آپ کی آ زادی رائے کی خاطر میں اپنی جان بھی دے سکتا ہوں‘‘

اس بیماری کا شکار صرف ہمارے ارد گرد کے لوگ نہیں، ہم خود بھی، کسی نہ کسی درجے پر اس میں مبتلا ہیں۔ اس لیے علاج بھی اپنی ذات سے شروع کرنا پڑے گا۔ آ ج سے ایک فیصلہ کر لیں کہ ہم دوسروں کو سنیں گے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کیونکہ نہ ہم ہمیشہ صحیح ہو سکتے اور نہ ہمیشہ دوسرا غلط ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی سے محض اس لیے نفرت نہیں کریں گے کہ اس کی رائے ہم سے مختلف ہے کیونکہ آزادی ِ رائے ہر انسان کا حق ہے۔