نشانیاں عقل والوں کے لیے - حافظ شاہین افضل

کیپٹن صفدر کی باتیں سن کے ذوالفقار علی بھٹو کے اٹارنی جنرل یحیٰی بختیار کی وہ جرح یاد آگئی جو انہوں نے قادیانیوں کے وفد سے اسمبلی میں کی تھی اور جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کارنامہ بھٹو کا تھا لیکن یحییٰ بختیار کے ایک انٹرویو سے پتا چلتا ہے کہ بھٹو نے محض خانہ پری کرنے کے لیے بحث کرنے کو کہا تھا اور اس تاریخ ساز فیصلے کے بعد اپنے اٹارنی جنرل سے خفا بھی ہوئے کہ یہ تم نے کیا کر دیا؟ لیکن جب اللہ پاک کسی سے کوئی کام لینا چاہیں تو کون روک سکتا ہے؟ خیر تفصیل کا موقع ہے نہ ضرورت۔

یحییٰ بختیار نےاس سلسلے میں علماء سے راہنمائی لی لیکن دورانِ بحث ان کی زبان خالص قانونی تھی، جس میں مذہبی حمیت کا شائبہ تک نہ تھا(اسمبلی کی کارروائی چھپ چکی ہے، آپ پڑھ سکتے ہیں) مگر اس کے باوجود بحث کا نتیجہ وہی نکلا جو مسلمان علماء کا مؤقف تھا۔ اگر وہی بحث کوئی عالمِ دین کرتا تو شاید اس فیصلے کو وہ وزن نہ ملتا جو یحییٰ بختیار کی وجہ سے ملا اور پھر یہ بھی کہ ساری کارروائی اسمبلی کے فلور پر ہو رہی تھی۔

اللہ کی شان کہ ایک بار پھر اسی اسمبلی کے فلور سے حکومتی پارٹی ہی کے ایک فرد کیپٹن صفدر کے الفاظ میں حق کی آواز بلند ہوئی اور فراعنہ وقت کے لیے اتمامِ حجت کا کام کر گئی۔ عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں!