مولانا فضل الرحمن، فکر دیوبند اور دینی جماعتیں - فضل ہادی حسن

دینی پس منظراور مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے روز اوّل سے تمام مسالک اور جماعتوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہوں۔ اختلاف کی صورت میں تنقید کرنے سے حتی الامکان احتراز کرتا ہوں۔ نیز اختلاف کا اصل ہدف کسی جماعت یا مسلک کی پالیسیاں، اس کا طریقہ کار اور طرز سیاست ہوتا ہے، نہ کہ کسی کی ذات یا مسلک۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں بھی یہی رویّہ ہے۔ میری نظر میں ان کی دو حیثیتیں ہیں۔ اوّل: بطور ایک عالم دین اور دینی رہنما، دوم: بطور سیاسی رہنما۔ اس لیے میں ان کی قدر بحثیت ایک عالم دین اور ایک مذہبی و سیاسی رہنما کے طور پر کرتا ہوں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مولانا کی تمام پالیسیاں یا طرز سیاست تنقید سے بالاتر ہے۔ لہٰذا، ان سے اختلاف کو کسی ’’عالم‘‘ یا مذہبی رہنما کی بے توقیری یا توہین نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ وقت کے ایک سیاسی مدبّر و رہنما کیساتھ کسی بات پر اختلاف تصور کیا جانا چاہیے۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، مولانا یا جے یو آئی کا جماعت اسلامی کے ساتھ تناؤ ہویاکسی اور دینی جماعت کے ساتھ اس کو سمجھنے کے لیے ماضی کی طرف جانا ہوگا۔مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت (جے یو آئی-ف) جو جمعیت علمائے ہند کا پاکستانی ورژن ہے، پر آج بھی ماضی کی دیوبندی فکر و سوچ کا غلبہ ہے۔ علمائے دیوبند کی طرف سے تقسیم ہند کی مخالفت کی اہم وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’چونکہ انگریز نے مسلمانوں سے حکومت لی تھی اس لیےاسے اصولاً مسلمانوں کو ’ہی‘ واپس کی جانی چاہیے، لہٰذا اس مقصد کے حصول کے لیے دیگر مسلمانوں کی طرح برصغیر کے علماء بھی انگریز استعمار کے خلاف میدان میں پیش پیش رہے۔

جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ’مدرسہ دیوبند‘ کا قیام ایک ایسی پسپائی تھی جو نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور جڑوں کی مضبوطی کے لیے پہلا قدم تصور کیا جاسکتا ہے۔تحریک پاکستان کے وقت علماء دیوبند باوجود اپنی قربانیوں (آزادی کی جدوجہد اور ریشمی رومال تحریک سے لیکر اسیران مالٹا تک) کی وجہ سے اپنی رائے (بلکہ ضد) پر قائم رہتے ہوئے تقسیم کی مخالفت کرتے رہے۔ یہ دیوبند ہی کے چند علماء تھے جنہوں نے، جمعیت علماء ہند کی اس سوچ اور رائے سے اختلاف کرتے ہوئے تحریک پاکستان کا باقاعدہ حصہ بن کر قیادت سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ جے یو آئی کو ہم اسی گروہ کی قائم کردہ جماعت کا’ارتقائی‘ نتیجہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس شاخ کے پہلے صدر علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ منتخب ہوئے۔ یوں، وہی جماعت ایک فکر و نظریہ سے ہٹ کر ایک ’’سوچ‘‘ اور’’طرزعمل‘‘ میں تبدیل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کے لیے مہربانوں کے تیار کردہ 5 ٹریپ! - وسیم گل

دیوبند کا قیام درا صل ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے دور استبداد میں شاہ ولی اللہ ؒکی تحریک کو جاری رکھنے، مسلمانانِ ہند کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے اور بالخصوص مسلک حنفیہ کی مسند تدریس کا اصل حقدار اور وارث بننے کے لیے تھا۔ اس لیے احناف کے اندر اسی مسند اور منصب پر کسی بھی فرد یا گرہ کو نہ دعویداری کاحق تسلیم کیا او رنہ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہوئے۔یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے لیکن دیوبند (فکرو نظریہ) نے مذہبی اور عقائد کے طور پر بعد میں آنے والے بریلی کے مولانا احمد رضا خان ؒ (اورمسلک بریلوی) کو کبھی قبول کیا اور نہ سیاسی طور پر جماعت اسلامی بنانے والے سید مودودی کو۔ نیز، عقائد اور فقہ کی بنیاد پر فقہ حنفی کو دوحصوں میں تقسیم کر کے اس تناؤ کی بنیاد رکھ دی گئی جس کی تپش آج تک محسوس ہو رہی ہے۔ فقہ کو بنیادبنا کر دیوبند اور بریلی ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگے یہاں تک اہل سنت و الجماعت سے ایک دوسرے کا اخراج کرنے لگے تو دوسر ی طرف تاریخ کے گمشدہ اوراق اور چند دیگر مسائل پر اختلاف کو بنیاد بنا کر سید مودودی اور جماعت اسلامی کو اہل سنت سے باہر گروہ قرار دینے کے لیے فتوی اور مذہب کا سہارا لیاگیا۔ میرے خیال میں اس اختلاف کی اہم وجہ فقہی مسائل سے سے زیادہ دینی سیادت و رہنمائی ہے، جس کے چھن جانے کا خوف و خطرہ لاحق رہتا ہے۔ یہ مزاج اور رویّہ اوّل روز بھی تھا اور یہی مزاج اور رویہ آج بھی نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ جے یو آئی کے عام ورکر سے لیکر بالائی قیادت تک اپنے مدمقابل نہ کوئی مذہبی قیادت برداشت کر سکتی ہے اور نہ سیاسی۔ حیاتی مماتی کی بحث ہو یا ’’ف‘‘ اور ’’س‘‘ کا معاملہ، کسی مذہبی یاسیاسی معاملے میں یہ کسی دوسری مذہبی جماعت کے کردار کی تحسین یا حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے۔ متحدہ مجلس عمل دور سے لیکر آج تک، سیاسی اتحادوں سے لیکر ملّی یکجہتی کونسل تک، اگر جے یو آئی کا جماعت اسلامی یا دیگر جماعتوں کیساتھ معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو تمام تر مساعی، طاقت وقوت کے حصول، قیادت و سیادت کی جستجو اور اپنی اتھارٹی کومنوانے کے گرد گھومتی نظر آئی گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مجلس عمل کی بحالی، نتائج کیا نکل سکتے ہیں؟ - محمد عامر خاکوانی

جماعت اسلامی سے مولانا کے اختلاف کی نوعیت جہاں سیاسی ہے, وہاں نظریاتی و فکری بھی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے دینی قوتوں کی طاقت کے توازن کے لیے ایک خطرہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ بات شائد جے یو آئی کے ہر فرد کو ایسی گھول کر پلا دی گئی ہے جیسے چھوٹی عمر کا کوئی بچہ، اپنے بزرگوں سے (بغیر معنی و مطلب سمجھے) ایمان مجمّل اور ایمان مفصّل یاد کرتا ہے۔

مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر دینی جماعتیں جتنی ایک دوسرے کے قریب آئیں، ماضی میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ وقت بھی دیکھنا پڑا کہ مولانا کے پائے کے رہنما نے اپنی جماعت کے ایک عالم، مفتی امتیاز مروت کی ذمہ داری لگائی کہ وہ سید مودودی کی کتب سے غلطیاں جمع کرکے ایک تنقیدی کتاب لکھیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مولانا جیسی بڑی شخصیت جنہیں قائد ملت اسلامیہ کے لقب سے پکارا جانے لگا ہے، یہ کام کروا کر کس طرح امّت کے بکھرے شیرازے کو مجتمع کرنے کا کارنامہ سرانجام دینا چاہتے تھے۔