پاکستان، سیاسیات کی لیبارٹری - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا۔ ان کی بات کا مطلب یہ نہیں تھا کہ پاکستان کو "لیبارٹری" بنا کر اس میں آئے روز اسلام پر نئے تجربات کیے جائیں گے۔ بلکہ، جیسا کہ انہوں نے خود کہا کہ یہاں اس اعلیٰ اقدار کا حامل اسلام مشعلِ راہ ہو گا جس نے بادشاہت کے ادوار میں گہن زدہ ہو جانے سے قبل ایک عالم کو متاثر کیا۔ ہم نے قائد کی بات کچھ سنی، کچھ اَن سنی کر دی اور پاکستان کو اسلام کے ساتھ ساتھ سیاسیات کی لیبارٹری بنا دیا۔

سیاست پر کون سا تجربہ ہے جو یہاں نہیں ہوا۔ ۔۔۔ "ڈومینین" سے آغاز ہوا ، پھر ہم ریپبلک ہو گئے اور پارلیمانی جمہوری نظام چلنے لگا۔ اسی دوران اچانک مارشل لاء لگ گیا اور پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کا ڈول ڈالا گیا۔ پھر ایک اور مارشل لاء لگ گیا اور ملک دو لخت ہو گیا۔

لیکن ہمارے جذبہ میں کمی نہ آئی۔ ہم نے اس دوران ایک سویلین کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنتے دیکھا، وہ صدر بھی تھا۔ ایک نیا آئین بنا اور اس ملک میں ایک بار پھر پارلیمانی طرز جمہوریت کی واپسی ہوئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مارشل لاء کی بھی واپسی ہوگئی۔ اس مارشل لاء کے دوران پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کا تجربہ بھی عمل میں آیا۔ جمہوری نظام کے نام پر ایک ملغوبہ سسٹم نافذ العمل رہا، جہاں منتخب وزیر اعظم کی جان صدر مملکت کے ہاتھ میں تھی۔ گویا وزیراعظم ایک اناڑی تھا جس پر ایک "تجربہ کار" کا نگاہ رکھنا ضروری تھا۔ اس قلندری نگاہ کا شاندار مظاہرہ چار مرتبہ دیکھنے میں بھی آیا۔

اگلے مارشل لاء کے آتے آتے ہم نے درآمد شدہ وزیر اعظم کا تجربہ بھی کر لیا۔ سرکاری محکمہ کیسے مستعدی دکھا سکتا ہے؟ اس کا مظاہرہ بھی اسی ہنگام ہوا جب مذکورہ امپورٹڈ وزیراعظم کو پاک سرزمین پر قدم رکھتے ہی شناختی کارڈ و دیگر دستاویزات فراہم کر دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سلطانی جمہور اور اسلامی جمہوریت - ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

اگلا مارشل لاء محترم مسولینی کی چھاپ رکھتا تھا۔ آنجہانی کے "کارپوریٹ" سٹیٹ کےاچھوتے تصور کی روشنی میں ہم نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے بجائے "چیف ایگزیکٹو" سے فیض پایا۔ اس دوران پہلے تو ایک صاحب کو بطور وزیر خزانہ درآمد کیا گیا پھر انہی کو ترقی دے کر وزیراعظم بنا دیا گیا۔

ان دنوں پھر ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات ادھر سے ادھر گردش کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے ہاتھ الہ دین کا چراغ ہو گا اور اسپرو کی دو گولیوں کی طرح سب دکھوں کو مار ہو جائے گی۔ گولی تو یہ بلاشبہ ہے، لیکن اسپرو کی نہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ الہ دین کا چراغ بعد میں اللہ دتہ کا چراغ ثابت ہو تا ہے۔ ۔۔۔صفر تیل اور مزید اندھیر!

اورتو اور ، یہ ٹیکنوکریٹ قسم کا تجربہ بھی پہلے ہو چکا۔ 50ء کی دہائی میں جب Cabinet of All Talents دیکھی اس ملک نے۔

تجربہ گاہ میسر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب تجربوں پر ہی کمر باندھ لی جائے۔ ان تجربوں سے کچھ سیکھنا بھی تو ہوتا ہے۔۔۔ نہیں ؟

گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے معیشت کے اسرار و موز پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ باجوہ صاحب جمہوریت پسند سپاہی ہیں لیکن اس ملک کا ماضی ایسا ہے کہ ہر ایسی تقریر محض اظہار خیال نہیں لگتی۔ مشرف صاحب استعفیٰ دینے سے قبل 2008ء میں کراچی میں ایک خطاب کے دوران منتخب حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے نظر آئے۔ بعد میں خبریں آئیں کہ یہ سب حکومت کو چلتا کرنے کا پہلا مرحلہ تھا۔ یہ الگ بات کہ اس مرحلہ پر ہی حکومت کے بجائے وہ خود چلے گئے۔

اس ملک میں اتنے تجربے ہو چکے کہ کسی اور ملک میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ فوج نے بھی سارے تگڑم لڑا کر دیکھ لیے۔ اب مناسب ہے کہ مزید تجربوں سے احتراز کرتے ہوئے صرف آئین و قانون کی پاسداری کا تجربہ کیا جائے۔ من حیث القوم، سیاستدان، فوج، عوام ، عدلیہ ، میڈیا۔۔۔ سب ! 8 اکتوبر، 12 اکتوبر، 16 اکتوبر اور اس سال کے بقایا اکتوبر۔ ۔۔۔۔ سب کا یہی سبق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ فی الوقت ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں - حامد کمال الدین

ورنہ پھر یہ تو بتا دیں کہ اس مجوزہ تجربے میں ایسا کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا اس ملک میں؟
یقین رکھیں۔۔۔ نہیں بتا پائیں گے !

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!