اللہ کے بارے میں کِس چیز نے دھوکے میں ڈالا ہے؟ - عادل سہیل ظفر

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے يَا أَيُّهَا الْاِنسان مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ اے اِنسان تمہیں کِس چیز نے تمہارے بُزرگی والے رب کے بارے میں دھوکے میں ڈالا (سُورت الانفطار (82)/آیت 6)

یعنی اے اِنسان تمہیں کس چیز نےتمہارے بُزرگی والے رب کے بارے میں دھوکہ دِیے رکھا یہاں تک تم نے وہ کچھ بھلا دِیا جو کچھ تُم پر فرض کیا گیا تھا۔ اور اگر تمہارے رب نے تمہاری غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں پر گرفت کرنے میں ڈھیل دیے رکھی تو تم توبہ کر کے اپنے رب کی طرف پلٹنے کی بجائے، اپنے رب کی گرفت اور اُس کے عذاب کو بُھولے رہے اور اُس کی نافرمانی میں بڑھتے ہی گئے؟

اِمام قتادہ رحمہُ اللہ نے اِس آیت مُبارکہ کی تفیسر میں فرمایا"( اِس سے مُراد یہ ہے کہ) اِنسان کو اُس پر مسلط اُس کے ازلی دُشمن شیطان نے دھوکے میں ڈالا" اور اِمام مَقاتِل رحمہُ اللہ نے فرمایا "( اِس سے مُراد یہ ہے کہ)اِنسان کے ساتھ جب اللہ اِنسان کے پہلے(اور پھر بعد والے) گناہ پردرگزر والا مُعاملہ فرماتا ہے تو اُس کی وجہ سے اِنسان دھوکے میں پڑتا ہے (کہ اللہ تعالیٰ مُجھ پر گرفت نہیں کرے گا کیونکہ وہ غفور و رحیم ہے، اور وہ مزید گُناہ کرتا چلتا ہے)"۔ اِمام السدی رحمہُ اللہ کا فرمان ہے کہ " اللہ کی شفقت نے اُسے دھوکے میں ڈالا "۔

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے کہ" تُم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جسے اللہ قیامت والے دِن تنہائی میں نہ ملے گا اور یہ نہ فرمائے گا کہ، اے آدم کے بیٹے تجھے کس چیز نے میرے بارے میں دھوکے میں ڈالا؟ اے آدم کے بیٹے جو کچھ تُم نے سیکھا اُس پر کیا عمل کیا؟ اے آدم کے بیٹے تم نے رسولوں (اور نبیوں) کی دعوت کو کِس حد تک (عملی طور پر)قبول کیا؟"(بحوالہ تفسیر البغوی)

اور اِمام ابن کثیر رحمہُ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا "یہ اللہ کی طرف سے وعید(دھمکی) ہے، نہ کہ وہ جو کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اِس آیت شریفہ میں لفظ "الکریم" ہی اِس سوال کا جواب ہے، یعنی، اللہ کے کرم نے اِنسان کو دھوکے میں ڈالا۔

جی نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ اس آیت شریفہ میں لفظ "الکریم" کا معنی و مفہوم "عظیم (بُزرگی اور بڑائی والا)" ہے، یعنی، اے آدم کی اولاد تمہیں کِس چیز نے اپنے بُزرگی اور بڑائی والےرب کی نافرمانی پر لگائے رکھا، اور اب تم اپنے رب کے سامنے اِس حال میں آئے ہو جو (ایک اِیمان والے، اور تابع فرمان بندے کے) لائق نہیں "۔ جی ہاں، یہی دُرست ہے کہ اِس آیت شریفہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی رحمت یا اپنے کرم کی خبر دے کر اِنسان کو غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں کی طرف سے لا پرواہ رہنے کے بارے میں نہیں فرمایا بلکہ اِس آیت شریفہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِنسان کو اپنی عظمت، بُزرگی اور بڑائی کی یاد دہانی کروا کے یہ سمجھایا ہے کہ اُس چیز کو پہچان کر اُس سے بچو جو تمہیں تمہارے عظیم رب کی نافرمانی پر لگاتی ہے، اور اپنے رب کی گرفت اور عذاب سے بچو۔

پس اے اِنسان، سوچو، پھر سوچو، پھر سوچو، اور اُس وقت تک سوچتے رہو جب تک کہ تم اُس چیز یا اُن چیزوں کو جان نہیں لیتے جو چیزیں تمہیں تمہارے رب کی عظمت، بُزرگی اور بڑائی بھلا کر اُس کی نافرمانی پر لگاتی ہیں، کیا وہ اللہ کی ذات پاک اور صفات پاک سے جہالت ہے؟ یا اللہ کے عِلم، قُدرت اور عذاب کی وسعت اور شدت پر عدم اِیمان؟

سوچو، اے اللہ کے بندو، سوچو، جِس دِن ہمیں ہمارے بُرے کاموں کے بارے میں پوچھا جائے گا، تو ہم اپنے عظیم، بُزرگی اور بڑائی والے رب کے سامنے کن قدموں پر کھڑے ہوں گے؟ اور جب ہمارا رب اللہ جلّ جلالہُ ہم سےعلیحدگی میں، تنہائی میں پوچھے گا کہ، اے میرے بندے تُم نے میری عظمت، بُزرگی اور بڑائی کی قدر کیوں نہ کی؟

کیا میں نے تُم پر اپنی نعمتیں نازل نہیں کیں تھیں؟

کیا میں نے تُمہارے ساتھ در گزر والا رویہ نہیں رکھا؟

تُم نے مجھ سے حیاء کیوں نہیں کی؟

کس چیز نے تمہیں میرے بارے میں دھوکہ دِیا؟

ہمارے پاس اِن سوالوں کا کیا جواب ہے؟ کیا جواب ہو گا؟

اُس دِن جب کوئی جھوٹ، کوئی اداکاری، کوئی غچہ بازی کام آنے والی نہیں، اُس دِن ہمارے جسم کے حصے ہی بول بول کر سچ بتائیں گے۔ تو کیا یہ ہی بہتر نہیں کہ ہم اپنے بزرگی اور بڑائی والے رب کی عظمت، رحمت، ناراضگی، گرفت اور عذاب کے بارے میں دھوکوں میں پڑ کر اس کی نافرمانی کرنے سے باز آجائیں۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!