کیا جماعت اسلامی بحران کا شکار ہے؟ - اختر عباس

اصل سوال جو غور کرنے پر آمادہ کرتا ہے کہ گزشتہ چار پانچ برسوں میں ووٹر بڑھنے کے بجائے مزید سکڑ کیوں گیا ہے؟ اور کیاجماعت اسلامی پاکستان کی موجودہ سیاسی سوچ اور بیانیے کے ہی تسلسل سے پرانا ووٹر واپس آسکے گا۔ جماعت سیاسی میچوریٹی کی اس سطح پر ہے کہ اب اسے بند کمرے کے اجلاس سے باہر ہی اس مسئلے کو زیر بحث لانا ہوگا کیونکہ اس کی ہار پر سارے تبصرے اور تجزیے بھی کھلے بندوں ہوتے ہیں، سیاسی حرکیات کا تقاضا بھی یہی ہے اور یہی اس تجزیے کی بنیاد بھی ہے۔ تجزیے کا لطف تبھی آتا ہے اگر اسے غصہ کیے بنا اور کسی طے شدہ نتیجے کی آرزو کے ساتھ نہ پڑھا جائے ۔

الیکشن 2018ء میں ہوں یا اس کے بعد حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو ایک نئے اور مضبوط بیانیے کی فوری ضرورت ہے۔ موجودہ بیانیے کے ساتھ، جس قدر بھی محتاط الفاظ استعمال کیے جائیں، انتخابی نتائج پر کوئی قابل ذکر ڈنٹ پڑنے اور آپ کا موجودہ حصہ بڑھنے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔ یہ بات بظاہر کہنا آسان ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ فیلڈ میں موجود کارکن کے پاس ووٹر کو جا کر بتانے، سمجھانے اورمنوانے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں،اس لیے اس کا یقین ایک حسرت اورمایوسی کے بڑھتے ہوئے گراف کی صورت نظر آتا ہے۔

ایک بڑا خدشہ جو چیلنج بن کر سامنے ہے، سیاسی میدان کار میں کارکن اور ووٹر کی سوچ اور یقین کا ڈگمگانا اور پھر راستہ نہ پا کر بدل جانا ہے، ابھی اگر محتاط الفاظ میں کہا جائے تو بھی یہ سات پردوں کے پیچھے لکھا نظر آنا چاہیے کہ فوری طور پر جماعت کا بیانیہ نہ بدلا تو آپ آنے والے برسوں میں سیاسی تجزیوں سے بھی باہر ہو جائیں گے۔

یہاں موجودہ عدالتی نائن الیون کے بعد یہ اور بھی واضح ہوگیا ہے، ایسے میں جماعت کہاں اور کس فریق کے ساتھ کھڑی ہے؟ اس کا واضح ہونا ابھی باقی ہے۔ جماعتی قیادت میں دو واضح آراء ہیں اور نیچے تک یہی کیفیت ہے، یہی بات جماعت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ پالیسی حمایت کی ہو یا مخالفت کی یہ طے کرناجماعت کا ہی حق ہے مگر اس کا واضح ہونا ضروری ہے۔

جماعت کو ایک سمجھ نہ آنے والی کیفیت سے باہر نکلنا ہے کہ اس کی بات پہنچ رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ بات کمیونیکیٹ ہی نہیں ہو پا رہی۔ میڈیا پر ٹکر چلنے یاچند سیکنڈ کے کلپ چلنے سے جماعت کی سیاسی پالیسی کے خدوخال واضح نہیں ہو پاتے۔ کوئی ایک میگزین، کوئی ایک کالم بھی ایسا نہیں جو آپ کی پالیسی کی تفہیم کرتا اور بتاتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کارکن قیادت کی بات کو فالو کرنے اوراسے اپنے یقین کے لفظ دینے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا، وہ ووٹر کے سوالوں سے گھبراتا ہے اور اس تک جانے سے احتراز کرنے لگا ہے۔ ایسے میں جماعت کی مختلف سطحوں میں بعض جماعتی قائدین کی گفتگو کی وجہ سے ایک نئی سوچ پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے کہ ووٹ تو مرکزی قیادت بناتی ہے، کارکن نہیں۔ حضور! یہ اخباری اور ٹی وی سکرین کی حد تک موجودگی کے لیے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ ماحول اور ٹیمپو بنا دیتے ہیں، ووٹ تو امیدوار نے ہی نکالنا اور بنانا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو الیکٹیبلز کی قدر کب ہونی تھی؟ ایسے میں تو عمران خان جہاں جہاں قدم رکھتا اس کی پارٹی کو وہاں وہاں سے جیت جانا چاہیے تھا۔ عملاً بلاول اور زرداری صاحب کی مثالیں بھی چاروں طرف بکھری پڑی ہیں۔ قیادت اور سرمائے کا کردار ایک حد تک ہی ہے۔گزشتہ ایک سال سے جاری پانامہ کیس میں جماعت کا مدّعا اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور چلا گیا ہے۔ اب یہ نقظہ آپ کا نہیں رہا، تقریر کی لذت کی حد تک مگر عملاً بالکل نہیں۔ این اے 120 میں بھی یہی سبق لینا چاہیے، اپنے ووٹر نے بھی اس کو قبول نہیں کیا۔ جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی دونوں کے بارے میں عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کی پالیسی واضح نہیں ہے، پی پی کو 'پروگورنمنٹ' مانا جاتا رہاہے اور جماعت کو موجودہ حکومت کے خلاف سخت بیان دیتے رہنے کے باوجود یہ خیال کیا جاتا ہے اس کی قیادت الیکشن ن لیگ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ سے لڑے گی۔ آپ سو بار تردید کریں، سیاسی موسم کی خبر رکھنے والے عوام اور خواص اپنے مضبوط دلائل رکھتے ہیں، آپ کی پوزیشن کیا ہے؟ یہ کل نہیں آج واضح کرنا لازم ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سفید پوش دہشت گرد - عزیز حسین مندھرو

دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت کے ماضی میں سارے اتحاد مسلم لیگ کے ساتھ ہوتے رہے ہیں اور دونوں کو ہی اس کا فائدہ بھی رہا ہے۔ سیاست ون وے ہوتی ہی نہیں ہے، جماعت کو اپنے کوٹے کی کچھ نشستیں مل جاتی رہیں اور ن لیگ کو ملک بھر میں جماعتی پاکٹس کے ووٹ۔ اس دوران جب ن اور جماعت کی راہیں الگ ہوئیں تو آپ کو یاد ہوگا کہ جماعت اپنے اسلامک فرنٹ کے نام اور لوگو کے ساتھ میدان میں آئی۔ مسلسل لیگی حمایت کی روایت نے جماعتی کارکن کو پریشان کیا ہوا تھا۔ اب وہ چھوٹی برائی اور بڑی برائی سے نکل کر سیاسی کامیابی کو بڑے کینوس پر دیکھنے کی صلاحیت پا چکا ہے اور اصل فریق کو ہی اپنا فطری حلیف مانتا اور جانتا ہے۔ ووٹ مسلم لیگ کو پڑے اور اسلامک فرنٹ شکست کھا گیا مگر یہ شکست مسلم لیگ کو بھی بھاری پڑی۔ پروفیسر عبدالغفور احمد بتایا کرتے تھے، بعد میں انہوں نے اپنی کتاب میں بھی اس کا تذکرہ کیا کہ 1993ء کے اس الیکشن میں فرنٹ کی وجہ سے صرف پنجاب میں پی پی کو 10 نشستیں جیتے کا موقع ملا ورنہ مسلم لیگ 73 سے 83 نشستیں لے جاتی۔ صوبہ سرحد میں ایسی پانچ نشستیں تھیں جو پی پی کو ملیں۔ اس سے بعد کے الیکشن میں جماعتی ووٹر نے اپنے ووٹ سے لیگی امیدوار کو ہروانے سے انکار کر دیا اور ووٹ اسی صندوقڑی میں ڈالے جو اس کو پسند کروایا گیا تھا اور جس کی وہ جماعتی پالیسی سے حمایت کرتا آیا تھا۔ اب اس نے ووٹ دینے کا خود فیصلہ لینا شروع کیا اور 2013ء کے الیکشن میں اس خود مختاری کا عروج سامنے آیا۔

نئی نسل نے چونکہ جماعت کو گزشتہ آٹھ، دس برسوں سے مسلم لیگ پر برستے دیکھا تھا اس لیے ان کا ووٹ بلّے کو پڑا۔ این اے 120 میں بھی یہی کچھ ہوا۔ جماعتی کارکن جو پچاس سال سے زیادہ عمر کے ہیں، ان کی توجہ شیر پر ہے اور اس سے کم عمروں کی محبت کا مرکز بلّا بنا ہوا ہے، وہ اپنے ووٹ سے اپنی مرضی سے کسی کو ہارنے میں مدد دینے پر اب تیار نہیں۔ اس معاملے میں انہیں اپنی ذاتی سیاسی سوچ پر اب زیادہ یقین ہو چلا ہے اور یہ قریباً ہر جماعتی گھر میں ہوا ہے اور خالی ڈبوں نے اس کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ بلدیاتی الیکش میں شیر اور بلّے کے ساتھ اتحاد اور شراکت پر کارکنوں کے شدید ردعمل کی وجہ بھی یہی سوچ رہی ہے اور یہ ردعمل ابھی جاری ہے۔ جماعت میں اب تحریک انصاف سے اتحاد کی آوازیں بھی اٹھنا شروع ہو رہی ہیں، ان کے پاس نواز شریف کی مخالفت کے لیے دلائل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہوا تو جماعت کے باقی ماندہ نوجوان ووٹ بھی ہاتھ سے مستقل نکل جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مجلس عمل کی بحالی، نتائج کیا نکل سکتے ہیں؟ - محمد عامر خاکوانی

اب رہا تیسرا مخمصہ جس سے جماعت کو نکلنے کا سوچنا ہے اور اپنے بیانیے میں جگہ دینی ہے، وہ یہ کہ جماعت اصلاً ایک سیاسی جماعت ہے اور اسی کا سٹیٹس مانگتی اور اسی کے حصول کے لیے کوشاں بھی ہے۔ یہ جو ہر کچھ دن بعد دینی جماعتوں کے اتحاد کا شوشہ اٹھتا ہے تو نئے سوال اٹھاتا ہے، ماضی میں دینی جماعتوں کے ہر اتحاد کو، اس کی بنت اور اس کے مقاصد پر شک سے بھرے سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں، انہیں اسٹیبلشمنٹ کا ہی ٹول سمجھا جاتا رہا ہے، اس کی مستقل وجوہات ہیں، دفاع کونسل پاکستان سونے کی بھی بن کر آجائے، یہ فوج اور ایجینسیوں کی دی گئی لائن ہی سمجھی جاتی ہے۔ جماعت جب اس کھیل کا حصہ نہیں ہے تو اس کے قائدین کیوں اس کے سٹیج پر بار بار جا کر بیٹھتے ہیں؟ کیا کبھی ملّی یکجہتی قسم کی سرگرمیوں میں مسلم لیگ، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، اے این پی، یا ایم کیو ایم جیسی قومی پارٹیوں کو دیکھا گیا ہے؟ حالانکہ پاکستان تو سب کا ہے مگر یہ لائن سب نہیں لیتے۔ کارکن کبھی آس میں ہوتا ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو جائے گی کبھی کہ نہیں ہوگی۔ آپ اس کی بحالی پر یکسو ہیں اور نہ اس باب کو مستقل بند کرنے پر، اصل بیانیہ کیا ہے؟ اس کا واضح ہونا آج ضروری ہے، کل اس کی حاجت ہی باقی نہیں رہے گی۔ دینی اتحاد کا صرف کے پی کے کی سیاست میں کچھ جمع خرچ ہوگا، پنجاب میں تو سب زیرو جمع زیرو ہیں۔ 400 کے صوبائی ایوان میں کسی کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے اور نہ اس کا امکان ہے تو کارکن کس کے لیے ووٹ مانگے گا اور کیوں ایک اور ہار کے لیے لڑے گا؟ چار، چھ کمزوروں کے ساتھ مل کر لڑنے اور ہارنے میں بھلا کیا مزہ ہوگا؟ اس تصوراتی جنّت سے نکلنے کا وقت کیا سر پر نہیں آن لگا؟ نیا اور واضح بیانیہ کہ کس کے ساتھ ہیں اور کیوں؟ اکیلے لڑنا ہے تو سو فیصد یقین دلایئے،۔ اس فیصلے کے فضائل بتائیے، نئی سیاسی ٹیم لائیے، تنظیمی لوگوں سے آج تک سیاست نہیں ہو سکی، اس اگر مگر نے سارے پتے ہی بے وقعت کر کے رکھ دیے ہیں اور برا نہ لگے تو آپ کی بارگینگ پوزیشن بھی کافی بگاڑ کر رکھ دی ہے۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں