مسلم لیگ ن اور پاناما فیصلے کے آفٹر شاکس - اسماعیل احمد

قتیل شفائی کا خوبصورت شعر ہے:

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے

کہ سنگ تجھ پر گرے اور زخم آئے مجھے

اس شعر کے شاعر کو اپنے محبوب سے محبت کا یہ درجہ عطا ہوا یا نہیں لیکن یہ طے ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حصے میں ایسی محبت ضرور آئی ہے جہاں سنگ رہنماوں پر گرتا ہے اور زخمی ان کے ووٹر اور سپورٹر ہو جاتے ہیں۔

پاناما لیکس کا فیصلہ اور اس کے نتیجے میں جو ردِ عمل ابھی تک مسلم لیگ ن کی جانب سے رونما ہو رہا ہے, جون ایلیا کے اس شعر کی عملی تصویر ہے

میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

اِس قوم کو اپنی تباہی پر شاید تاقیامت ملال نہ ہو کہ یہ قوم بھی عجائب خانوں میں رکھے جانے کے قابل ہے, جوقوم عمران خان کے جلسوں میں بے حیائیاں تلاش کرتی ہے مگر اقوام ِ عالم کی صف میں اپنا مقام تلاش نہیں کرتی۔ ورنہ دل کی آنکھ تھوڑی سی بھی کھلی ہو تو قائداعظم اور علامہ اقبال کی مسلم لیگ پر نواز شریف اور شہباز شریف کو براجمان دیکھ کر قوم کا کم ازکم ردعمل اتنا تو ہو کہ وہ تھوڑی سی، آٹے میں نمک کے برابر، شرمندہ ہومگر ایسا نہیں ہےاور شاید نہ ہو گا۔ مسلم لیگ ہمیشہ سے ایک مقدس گائے رہی ہے۔ کئی طالع آزماؤں نے مسلم لیگ کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جماعت نہ ہوئی غریب کی جورو ہو گئی جس نے چاہا بھابھی بنا لیا۔ ضیاء الحق کے دربار میں حاضر تھی جب "نواز شریف جیسا "ہیرا صفت" انسان اس کے ہاتھ لگا تب سے مسلم لیگ ن بن کر پاکستانی عوام کی "لازوال خدمت " میں پیش ہے۔

کچھ دانشور آج کل اخبارات اور ٹی وی پر بڑا شور مچا رہے ہیں کہ نواز شریف کو سیاسی عصبیت حاصل ہے، درست فرمایا جا رہاہے، "جاہل عوام مسلم لیگ ن کو لیکر خاصی متعصب ہے"اور اب یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کا لاہور، ساہیوال، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور راولپنڈی کا ووٹر بھی ذہنی اور نفسیاتی لحاظ سے پیپلز پارٹی کے نواب شاہ، لاڑکانہ، سکھر، ٹنڈو الہٰ یار، ٹنڈو آدم خان، جامشورو اور بدین کے ووٹر اور سپورٹر کی طرح شخصیت پرستی کی بت پرستی کو چھوتی بیماری میں مبتلا ہے۔ ایسی بیماریاں لاحق ہوں تواڑتی چڑیا کے پر گن لینے والا لائق فائق عمرو بن ہشام بھی ابو جہل بن جاتا ہے، یہ تو پھر پنجاب اور سندھ کی صدیوں سے جہالت کی گہرائیوں میں ڈوبی عوام ہے۔ ایسے میں جھوٹی سچی بیشمار دلیلیں تراشی جا رہی ہیں کچھ تو زر خرید غلام ہیں اور کچھ غلام ایسے بھی ہیں جن کی قیمت بھی کسی نے نہیں لگائی مگر وہ اپنا تن من دھن شریفوں کی چوکھٹ پر تیاگ چکے۔

یہ بھی پڑھیں:   دعوے نہیں چلتے، این اے 120 کا سبق - یوسف سراج

الغرض، موجودہ پاکستان تو میاں شریف کے کاروبار کا تسلسل ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیا آزاد کشمیر، کیا گلگت بلتستان؟ ہر طرف شور بپا ہے۔ محسن ِپاکستان کو نااہل قرار دینے اور دلوانے والوں پر غداری اور بغاوت تک کے فتوے مفتیان سیاست وحکومت صادر فرما رہے ہیں۔ ایسےمیں نقار خانے میں طوطی کی آواز کس نے سننی ہے؟

مگر کہنا یہ تھا کہ خدا کے بندو! کیوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے یہود کی طرح مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو؟ کیوں نہیں مانتے کہ جسے نجات دہندہ سمجھ رہے ہو، تمہیں لُوٹ کے کھا رہا ہے؟ عدالتوں میں اپنے عمل کی کوئی توجیہ پیش نہیں کر پایا، اعلیٰ عدلیہ نے اسے نااہلی کا " شرف" بخشا ہے کسی اور نے نہیں؟ اور انسانوں کی دنیا میں مقدمات کے فیصلے عدالتوں میں ہوتے ہیں۔ رہی تمہاری یہ منطق کے تاریخ بھی فیصلہ کرتی ہے تو یاد رکھو! تاریخ دنیا کے چھٹے ہوئے چوروں، ڈکیتوں، جعلسازوں کے حق میں فیصلے نہیں کیا کرتی۔

یہ دلیل بھی سننے کو مل رہی کہ میاں صاحب کھاتے ہیں پر پاکستان پر لگاتے بھی ہیں تو اے افلاطونو! کھاتے کیوں ہیں؟ یہ "کھانے" کا حق ان کے کون سے استحقاق میں شامل ہے؟ رہی یہ بات کہ، نواز شریف کو نہیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کو روکا جا رہا ہے تو عرض ہے کہ 2001 میں 32 ہزار کا مقروض ہر پاکستانی2017 میں ایک لاکھ 51 ہزار کا مقروض ہو چکا تو دنیا کی کونسی معاشیات کی کتاب میں اسے تعمیر و ترقی کہتے ہیں؟ سارے جہان کی ہر دور کی رائج الوقت سچائیاں سن کر مسلم لیگ ن کے محبّان آخر پر یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ دستیاب سیاستدانوں میں سب سے بہتر نواز شریف ہی ہیں تو اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ جی ہاں! سب سے بہتر ہیں ہمیں بے وقوف بنانے میں۔ جا گنگ مشین پر دوڑ دوڑ کے قوم ہلکان ہو گئی مگر کھڑی وہیں کی وہیں ہے۔ وکلا صاحبان جو دلیلیں اب نواز کے مقدمے کے حق میں تراش رہے ہیں کاش ججز کے سامنے بھی ان میں سے ایک آدھ بیان کرتے کہ الفاظ اور قانون کی گھمن گھیریاں سننے کی تنخواہ جج لیتے ہیں پاکستانی عوام نہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!