احسان فراموشی - توقیر ماگرے

گزشتہ 10، 12 سال کے کراچی سے کون واقف نہیں؟ یہ ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ شہر میں روزانہ 10، 12 لاشیں گرنا معمول تھا۔ شاید ہی ایسا کوئی دن گزرتا کہ شہر میں کسی بے گناہ کا قتل نہ ہوتا۔ لاشوں کو کرکٹ کے سکور کی طرح گنا جاتا تھا۔ وہ جسے 'خون کی ہولی' کہتے ہیں، اس کا صحیح اندازہ شہر قائد میں ہوتا تھا کہ جہاں اساتذہ سے لے کر ڈاکٹروں تک، طلبہ سے لے کر تاجروں تک حتیٰ کہ عام غریب مزدوروں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری اور ناجائز قبضے جیسے جرائم بھی اپنے عروج پر رہے۔ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ تمام جرائم سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے ہوتے رہے۔

جب اقتدار پرویز مشرف سے آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں آیا تو عوام میں امید پیدا ہوئی کہ جمہوری دور میں حالات بہتری کی جانب چل پڑیں گے لیکن ہنوز دلّی دور است! حالات ٹس سے مس نہ ہوئے اور عوامی ذہنی طور پر انہی حالات میں رہنے کو تیار ہو چکے تھے کہ کراچی میں رینجرز کی زیر قیادت آپریشن کا آغاز ہوا جس کی نگرانی سپہ سالار وقت جنرل راحیل شریف نے کی۔ گو کہ اس آپریشن سے زیادہ امیدیں نہیں تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی دو آپریشنز ہو چکے تھے لیکن اس بار فرق یہ تھا کہ اس بار تمام گرفتاریاں صرف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جا رہی تھیں۔

اس آپریشن کے انچارج ڈی جی رینجرز رضوان اختر تھے۔ چند ہی مہینوں میں کراچی کے حالات تیزی سے بہتر ہونا شروع ہوگئے اور رضوان اختر سیاسی رکاوٹوں کے باوجود اہداف پر نظر رکھتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتے رہے اور شہر میں ہر دل عزیز بن گئے۔

پیپلز امن کمیٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ٹارگٹ کلرز اور غنڈوں کو نکیل ڈالنے والے کوئی اور نہيں بلکہ رضوان اختر ہی تھے۔ وہ دن کون بھول سکتا ہے جب نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا اور شہر میں لاشیں تو دور کی بات، ایک پتا بھی نہیں گرا۔ یوں رضوان اختر کی سرپرستی میں ہونے والے آپریشن سے امن کا پھل براہ راست عوام تک پہنچا۔

ابھی چند روز پہلے رضوان اختر کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی خبر آئی تو کسی شر پسند نے ایک ٹیلی وژن اینکر کے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان پر 35 ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگا دیا۔ یہ خبر تھی تو غیر مصدقہ لیکن کچھ سیاسی جماعتوں اور بڑے صحافیوں نے اس کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا اور اس عظیم سپوت کے کردار کو میلا کرنے کی شرمناک کوشش کی۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ پڑھےلکھے طبقے میں اس کو اچھی خاصی پذیرائی ملی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا دل اتنا تنگ اور بخیل ہو گیا ہے کہ ہم اپنے دیگر محسنوں کی طرح اس سپوت کو بھی محبت نہیں دیں گے جس کا حقدار ہے؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ قوم پر جو اخلاقی اور معاشرتی زوال آ رہا ہے، خدانخواستہ جلد وہ دن نہ لے آئے کہ ہمارے ہاں رضوان اختر جیسے فرض شناس اور محب وطن لوگ ناپید ہو جائیں۔