عقل مند انسان کون؟ نعیم الرحمٰن

انسان دو ہی قسم کہ ہیں ایک وہ جو نفس پرست ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے نفس سے ہی ہار چکے ہوئے ہیں۔ بات یہ آزادی کی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ نفس کے اس قدر غلام ہیں کہ اندازہ ممکن نہیں اور نہ ہی نفس سے آزادی کا کوئی چارہ نظر آتا ہے۔

دوسرے وہ جو قاعدے قانون والے لوگ ہیں، ایسے لوگ کبھی ہارتے نہیں۔ جو قانون ان کے لیے بنا بھیجا گیا وہ اسی کے غلام تو نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسے آزاد کے نفس جیسے ظالم و جابر حکمران کے آگے جھکنے سے انکاری ہیں۔

اول الذکر لوگ معاشرتی حیوان بن جاتے ہیں، ان کے اندر سے غیرت، شرم و حیا ، اچھائی برائی میں تمیز اور عزت، بے عزتی میں فرق کرنے کی صلاحیت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہوتا ہے۔ نعرہ یہ آزادی کا الاپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ اپنے دستور کے علاوہ کسی اور کا طریقہ دیکھنا بلکہ اس کے بارے سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں پہ تباہ کن اثرات رکھنے والی روایات کے اثر کر جانے کا قوی امکان ہوتا ہے۔ ان کا اپنا کوئی نظریہ نہیں ہوتا یہ کسی بھی بے حیا و بے شرم قوم کے طور اطوار سے فوری متاثر ہو جاتے ہیں سوائے اس تہذیب سے جس کہ ساتھ یہ جڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

موخر الذکرلوگ قاعدے قوانین کے پابند ہوتے ہیں ۔ وہ جس مذہب سے تعلق رکھتے ہوں مکمل طور پر اسی کو اختیار کرکے انہی نظریات کو فالو کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی محافظِ قوانین ہیں۔ چونکہ ان کے پاس ایک واضح طریقہ موجود ہوتا ہے تو یہ کسی بھی آنے والے فتنے یا بے راہروی کا شکار ہوئے بغیر زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ماحول اور ہوائی آلودگی - ریاض علی خٹک

اب ذرا آپ خود سوچیے کہ ایسا شخص جو ملک میں رہتا ہے اور ملک کے ہی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے، کیا وہ باشعور، عقل مند اور صاحب دانش ہو سکتا ہے؟ یا وہ شخص جو ملک کے قوانین کا پاسدار ہے ، عدالت کا احترام کرتا ہے وہ عقل مند ہے؟ یقینا جو قاعدے مانتا ہے، ان کے مطابق چلتا ہے، وہی عقل مند، صاحب شعور اور ماڈرن ہے۔ لیکن یہاں آپ کومعاملہ الٹ دکھائی دے گا، پہلی قسم کے لوگ دوسروں کو آرتھوڈوکس کہتے ہوئے نظر آئیں گے حالانکہ خود ان کے اندر جہالت کا ملبہ بھرا پڑا ہے، اور پتھر کے زمانے کے لوگ ہیں کہ جنھیں اتنا نہیں معلوم کہ جس مذہب، ملک یا علاقے میں رہنا ہو، وہاں کے قانون کو ماننا پڑتا ہے۔