عشق کیا ہے؟ حافظ محمد زبیر

"ریختہ" کی ورق گردانی کے دوران ڈاکٹر میر ولی الدین صاحب کی ایک کتاب بعنوان "رموز عشق" سامنے آئی کہ جس کا مطالعہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ کتاب "ندوۃ المصنفین"، دہلی سے شائع ہوئی ہے اور تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اس موضوع پر اس سے جامع کتاب اردو، فارسی اور انگریزی میں موجود نہیں ہے۔

بہر حال عشق کیا ہے؟ اس بارے ولی الدین صاحب نے صوفیاء اور علماء کی آراء کو بالتفصیل نقل کیا اور یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہماری تاریخ کے بڑے بڑے نامور صوفیاء اور علماء نے عشق اور محبت کے موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی ہے جیسا کہ جنید بغدادی، امام غزالی، امام ابن قیم، شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ دہلوی، شاہ عبد العزیز رحمہم اللہ وغیرہ۔

عشق کیا ہے؟ اس کا جواب ایک جیسا آنا ممکن نہیں ہے کہ ہر کسی کے تجربات یا احساسات اپنے ہیں لہذا اس کو ڈیفائن کرنے میں لوگوں کا اختلاف ہو گیا بلکہ اس کے درجات کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ کتنے ہیں اور کس ترتتیب سے ہیں۔ بہر حال میر تقی میر سے اختلاف کے ساتھ اس سوال کا جواب کہ "عشق کیا ہے؟"، یہ بھی ہو سکتا ہے:
کیا کہوں میں تم سے کہ کیا ہے عشق
دل کا درد بلا کا سوز ہے عشق

ڈاکٹر میر ولی الدین صاحب نے اپنی کتاب میں اسباب عشق پر بھی ایک باب باندھا ہے اور یہ لکھا ہے کہ عشق کے اسباب میں صرف "حسن وجمال" شامل نہیں ہے جیسا کہ عام طور سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات آپ کو کسی سے محبت اس لیے ہو جاتی ہے کہ اس نے آپ پر "احسان" کیا ہو۔ یا محبت کا ایک سبب "کمال" بھی ہے کہ کسی کے اوصاف اور اخلاق کے کسی درجے کامل ہونے کے سبب اس سے محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عقل اور عشق - اشانت اشفاق

یا محبت کا ایک سبب "تعارف روحانی" بھی ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے یہ ارواح لشکروں کی صورت میں ایک ساتھ تھیں۔ تو کچھ ارواح کی آپس میں ملاقات ہوئی تو ان میں الفت پیدا ہو گئی اور کچھ ارواح ایک دوسرے سے دور رہیں تو ان میں نا آشنائی باقی ہے۔ تو بعض اوقات آپ کو خواہ مخواہ کسی سے الجھن محسوس ہوتی ہے اور معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کیوں ہو رہی ہے؟ تو اس کی وجہ یہی نا آشنائی ہے۔

کتاب میں ایک باب عشق مجازی پر بھی ہے اور اس کی دو قسمیں انہوں نے بیان کی ہیں؛ عشق حیوانی اور عشق نفسانی۔ عشق حیوانی وہ ہے جو معشوق کی رنگت، شکل وصورت اور حسن وجمال کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں حرص وہوس ہوتی ہے لہذا اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور نہ ہی عشق کی یہ قسم پسندیدہ ہے۔

عشق مجازی کی دوسری قسم یعنی عشق نفسانی یہ ہے کہ جو عشق کسی سے اس کے اوصاف اور خصائل کی وجہ سے پیدا ہو اور اس میں لطافت اور نفاست ہوتی ہے، یہ دل کی نرمی، فکر کی اصلاح اور شخصیت کی تعمیر کا باعث بن جاتا ہے لہذا یہ مذموم نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب