ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات - صائمہ تسمیر

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ نجانے روہنگیا مسلمانوں سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوگیا جس کی وہ سزا کاٹ رہے ہیں ؟ سزا بھی ایسی کہ دو صدیاں گزر جانے کے باوجود بجائے کم ہونے کے، ہر لمحہ اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے؟ اپنے گھر وں میں رہیں تو ہرلمحہ خطرہ کہ کب برمی درندے حملہ آور ہوکر زندگی کا ٹمٹماتا چراغ گل کردیں،باہر نکلیں تو برمی فوج کے تربیت یافتہ بدھ غنڈوں کی بدمعاشی کا سامنا ہوتا ہے۔یہ بدھسٹ کھلے عام دندناتے ہیں، جس مسلمان کو چاہتے ہیں زود وکوب کرکے قتل کردیتے ہیں، لوٹ مار، خواتین کی آبروروریزی ان کا معمول ہے۔ پھر اپنے کارنامے بڑے فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں مگر انہیں عالمی میڈیانہ شدت پسند گردانتا ہے، نہ ہی دہشت گرد۔ شاید ان الفاظ کا استعمال صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اراکان کے قدرے پر امن شہروں میں ایسے بدھسٹ گروہ تعینات کیے گئے ہیں جو صرف اس بات کی نگرانی پر مامور ہیں کہ کہیں کوئی بدھ اور مسلمان آپس میں لین دین تو نہیں کررہے؟ تمام بدھسٹ عوام کو مسلمانوں کا معاشی مقاطعہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جارہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے کہ لوگوں کو اس طرح بھوکا مارا جائے تا کہ وہ ہجرت پر مجبور ہوجائیں۔ ان حالات سے تنگ آکر ستائے ہوئے لوگ جب اپنے آشیانے کوچھوڑکر پہاڑوں اور جنگلوں میں پناہ لیتے ہیں، تو وہاں بھی انہیں سکون کا سانس لینے نہیں دیا جاتا۔ دریائے ناف کی جانب بڑھتے ہیں تو دریا کی بے رحم موجیں ان کا مقدر بنتی ہیں۔ کچھ خوش قسمت جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہاں کے مصائب و آلام کی ایک الگ داستان ہے۔ گویا کہ ایک جہنم سے نکل کر دوسرے جہنم میں پہنچ جاتے ہیں۔دربدری اور بھوک پیاس کے ستائے ہوئے جب پل بھر کے لیے سوتے ہیں تو جنگلی ہاتھی انہیں کچل جاتے ہیں۔ گویا احتجاج کرتے ہیں کہ تم نے ہماری گزرگاہوں پر کیوں قبضہ جمالیا ؟کتنے ہی معصوم بچے ا ور بوڑھے ان جنگلی جانوروں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اللہ کی اتنی بڑی زمین ان پر تنگ کردی گئی ہے، یہ تما م صورت حال سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہاہے تو بزبان ِ اقبال جواب ملتا ہے کہ :

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

اقبال نے یہ شعر نجانے کس تناظر میں کہا تھا؟ لیکن یہ روہنگیا مسلمانوں کی موجودہ حالت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ہم پریہ عقدہ کھلا کہ جرمِ ضعیفی جیسا سنگین جرم جن قوموں سے سرزد ہوجایا کرتی ہیں انہیں اس دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے جرمِ ضعیفی سے تائب ہوکر مضبوط بننا ہوگا، ورنہ ایسی ہی دربدری اور زمانے کی ٹھوکریں مقدر بنتی ہیں۔

اب بحر و برّ، زمین و فلک جیسے سب دشمنی پراتر آئے ہیں، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق موسم کی خرابی کے باعث روہنگیا مہاجرین کی ایک اور کشتی ڈوب گئی، جس میں اکثریت خواتین اور معصوم بچوں کی تھی، جو جان بچانے کی خاطردریائے ناف پار کرکے بنگلہ دیش پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، رواں ہفتے ہونے والا یہ تیسرا کشتی حادثہ ہے جس میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔دریائے ناف کے اس پار ساحل پرروہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو کئی روز سے اس آسرے پر بیٹھے ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ انہیں دریا پار کروادے، کیونکہ وہ کشتی کا کرایہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ دریائے ناف تک پہنچتے پہنچتے وہ کنگال ہوچکے ہیں، وہ کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار بیٹھے ہیں،وقتاً فوقتاًہونے والی طوفانی بارشوں سے معصوم بچے موت کی وادی میں گم ہورہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پوری رات بارش ہوتی رہی وہاں موجود برمی فوجیوں سے ان لوگوں نے قریبی کسی جگہ پر جانے دینے کی درخواست کی تاکہ بارش سے بچاجاسکے لیکن ان ظالموں نے انکار کردیا۔ نتیجتاً وہ پوری رات بھیگتے رہے، صبح ہوئی تو پتا چلا کہ ایک درجن سے زائد بچے دنیا کی مصیبتوں سے آزاد ہوچکے تھے۔وہ دھوپ میں تپتے اور بارش میں بھیگتے سسک سسک کرموت کی منہ میں جارہے ہیں۔

زمانہ ہم سے ہوا ہے بد ظن،تم ہی محبت سے کام لے لو
نبی اکرمﷺشفیعِ اعظم ﷺ،دکھے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو

بے بسی و بے کسی اور مظلومیت کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان ہے۔ منگڈو ٹاؤن شپ کا مکمل صفایا کرنے کے بعدہمارے آبائی علاقے بودتھی دونگ کوبھی صفحہ ہستی سے مٹایا جارہا ہے۔ پے درپے انتہائی ہولناک خبریں موصول ہورہی ہیں، بنا کسی وقفے کے مسلسل مسلم آبادی، مساجد،تبلیغی مراکز اور مرکزی بازاروں کو نذرِ آتش کیا جارہا ہے، تاکہ بچے کچھے لوگ بھی ہجرت کر جائیں۔ اپنا گھر بار، دھن دولت،اپنی مٹی چھوڑجانا بہت مشکل ہو اکرتا ہے، میرے نبیﷺپر جب یہ مشکل گھڑی آئی تو میرے آقاﷺبھی بار بار مکے کی طرف دیکھتے ہوئے فرماتے کہ:

اے مکہ! اگر تیرے لوگوں نے میری زندگی مشکل نہ بنائی ہوتی تو میں تجھے ہرگز چھوڑکر نہ جاتا!(مفہوم)

آج میرے نبی کے یہ بدحال امتی بھی ایمان کی وجہ سے ستائے جارہے ہیں اور یہ استقامت کے پہاڑبنے اپنے ایمان کی بھاری قیمت چکارہے ہیں۔ واللہ! یہ ایمان کا معجزہ ہے کہ ناقابلِ برداشت مصائب کے باوجود کسی ایک روہنگیا مسلمان نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا، اپنی جان قربان کردیناگوارا کرلیا مگر اپنے ایمان پر آنچ نہ آنے دیا۔اپنے ایمان کی حفاظت کی خاطر نبی مہرباںﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہجرت کی راہ اختیار کرلی، اپنے آرام کدوں، مال و دولت گھربار کوالوداع کہہ گئے مگرایمان پر سودے بازی نہیں کی۔ہمارے عزیز رشتہ دار بھی بالآخر ہجرت پر مجبور کردیے گئے ہیں،ان کے غمگین، دکھ بھرے صوتی پیغامات بے چین کردیتے ہیں،نجانے کیوں اپنے مسلمان بھائیوں خصوصاًاہلِ پاکستان سے آس لگائے بیٹھے ہیں، ہردفعہ ضرور پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی ہمارے لیے کچھ کر رہا ہے ؟

مگر افسوس ہمارے پاس ان کو دینے کے لیے جھوٹی تسلیوں کے سوا کچھ نہیں ہے، ہم انہیں کیسے بتائیں کہ مسلم حکمران ابھی خوابِ غفلت سے بیدا ر نہیں ہوئے وہ اسی دن جاگیں گے جس دن یہ آگ ان کی دہلیز پر پہنچے گی۔ بے غیرتی اور بے حمیتی کی حد تو یہ ہے کہ لاکھوں کلمہ گو روہنگیا مسلمانوں کو خاک وخون میں تڑپا دینے والی قاتلہ آنگ سان سوچی کے آگے یہ مسلم حکمران بچھے چلے جاتے ہیں، برونائی میں اس خونی عورت کا ریڈکارپٹڈ استقبال کیا جاتا ہے، یوں تمہارے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کی جاتی ہے۔

باقی بچے بے اختیار مسلم عوام․․․ یہ احتجاج ریکارڈ کرواکر اپنا فرض پورا کرچکی انہیں اپنے کام دھندوں سے فرصت کہاں جو تمہارے غم میں ہلکان ہو۔ اب پوری دنیا سے لوگ ترس کھاتے ہوئے تمہیں کھانوں اور کپڑوں کی بھیک تو دینے آئیں گے مگر کوئی تمہیں تمہارا حق دلانے نہیں آئے گا کیونکہ اس سطح پر بات کرتے ہوئے صاحبِ اختیار واقتدار حکمرانوں کے پر جلتے ہیں۔ اس لیے اپنے حق کے لیے خود اٹھنا سیکھو،قانونِ فطرت ہے کہ جو کمزور ہوتا ہے وہ کچلا جاتا ہے اس لیے اپنی روش بدلو، بہادر اور مضبوط بن کر اپنی قسمت بدل ڈالو!

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.