تازہ ترین فکری مغالطہ - اسماعیل احمد

کسی بھی معاشرے کے لیے معاشی اور سیاسی بحرانوں سے زیادہ فکری بحران خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ فکری بحران کا شکا ر قومیں زمینی حقائق سے نگاہیں چراتی ہیں۔ نظریے کی بجائے شخصیت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو قوم کے اندر خوفناک مایوسی کی لہر دوڑا دیتی ہے۔

وطنِ عزیزکو جو تازہ ترین فکری بحران درپیش ہے اور جس کا آغاز پاکستان کے اہلِ فکر و دانش کہلائے جانے والے طبقے کی جانب سے ہواوہ پرو اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی پرانی بحث کے ایک نئے ورژن کی شکل میں ہے۔بحران کا امکان اس باعث پیدا ہوا کہ تمام دانشوروں کی سوچ میاں صاحب کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد بس ایک سوئی پر اٹک گئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کام دکھا دیا۔ ایک بار پھرجمہوریت کو سرِبازار رسوا کیاگیا۔ایسے دانشوروں کی حد سے بڑھی نواز شریف کی وکالت کو بعض انہی کے طبقے سے تعلق رکھنے والے دیگر صحافی اور دانشور "چمک" سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر ہم حسن ِظن سے کام لیتے ہوئے ایسا نہیں کریں گے اور یہی سمجھیں گے کہ ایسا ان کی فکری نشونما میں کسی تعطل کے باعث ہو رہا ہے۔ کیونکہ اگر جمہوریت کی بقا کا سوال ہوتو پاکستانی سیاسی تاریخ کا معمولی شعور رکھنے والا انسان بھی کم از کم نواز شریف کو جمہوریت کا استعارہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بریگیڈ کا "سپہ سالارِ اعظم "قرار نہیں دے سکتا۔

نوازشریف کی سیاسی زندگی کا آغاز پاکستان کے فوجی آمر جنرل محمد ضیاءالحق کے زیر سایہ ہوا۔ ضیاء دور میں وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ آمریت ہی کے زیرِ سایہ 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں مياں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبليوں کی سيٹوں پر بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔1985ء میں انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلیٰ کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 1988ء میں جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کردیا تاہم مياں نواز شريف کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔یہ امر نوازشریف کے جنرل ضیاء سے قریبی مراسم کی نشاندہی کرتا ہے۔ جنرل ضیاء نے ایک بار نوازشریف کو اپنی عمر لگ جانے کی بھی دعا دی۔1988 میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے جب جنرل جیلانی نے خفیہ فنڈ استعمال کیا اور رقوم تقسیم کیں تو نواز شریف صاحب نے بھی اس سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے جنرل جیلانی کے ایما اور فراہم کردہ سرمائے سے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم لیگ ن اور پاناما فیصلے کے آفٹر شاکس - اسماعیل احمد

اس کھلی دھاندلی کے ذریعے نواز شریف 1988ء کے انتخابات ميں دوبارہ وزيرِاعلیٰ منتخِب ہوئے۔اسلامی جمہوری اتحاد کا مقصد جزوی طور پر حاصل کر لیا گیا یعنی پیپلز پارٹی کو پنجاب حاصل نہ کرنے دیا گیا۔ 1990ء کے عام انتخابات میں بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں سے نواز شریف ایوانِ وزیرا عظم کے مکین بنے جو آج کل تقریروں میں ان کا سب سے بڑا دردِسر نظر آتی ہے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی حکومت غیر جمہوری راستوں سے ہٹائی تو یہی اصول ان پر بھی لاگو ہوا اور موصوف نےمدتِ حکومت پوری کرنے سے قبل ہی گھر کی راہ لی۔ لیکن 1996 کے انتخابات میں ایک بار پھرغیر جمہوری قوتوں کے تعاون اور محنت ِشاقہ کے باعث پورے پاکستان سے محیّر العقول کامیابی سمیٹی اور اقتدار کی رسہ کشی میں کامیاب ٹھہرے۔

12 اکتوبر 1999ء کو فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد آپ سعودی عرب تشریف لے گئے۔ جہاں میاں صاحب اور ان کے بچوں نے نہایت کامیابی سے میاں محمد شریف کے کاروبار کے تسلسل کو کامیاب بنایا۔2013 کے انتخابات سے قبل بھی ایک حاضر سروس جرنیل کے ساتھ میاں صاحب کے برادرِاصغر شہباز شریف اور دست ِ راست چوہدری نثار کی خفیہ ملاقاتوں کے چرچے ہوتے رہے اور ان کا نتیجہ 11 مئی 2013 کے انتخابات میں نکل آیا۔ جب میاں صاحب نے "سادہ نہیں، دو تہائی اکثریت "کی فرمائش کی اور صدقے جائیے کہ یہ فرمائش بھی پوری کر دی گئی۔ یہ سب ماضی تھا جس کی بابت میاں صاحب کے پرستار لکھاریوں کا موقف ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی بحث میں ماضی کے حوالےنہ دیے جائیں کیونکہ انسان بدل بھی تو جایا کرتا ہے لہٰذا ماضی کا حوالہ بے محل ہے۔تاریخ کے ابواب سے یہ شگوفے بھی چن کر لائے جاتے ہیں کہ مسلم شناخت کے حامی قائداعظم سے ماضی میں ہندو مسلم اتحاد کا حامی ہونے کا سوال ہو ا تو آپ نے فرمایا"کل تو میں پرائمری سکول میں بھی پڑھتا تھا" جبکہ جوش نے اسی طرح کے سوال کا یہ جواب دیا تھا کہ"کل تو میں ایک قمیض میں پھرا کرتا تھا۔"

یہ بھی پڑھیں:   "اِس اشتہار کے تمام کردار فرضی تھے" - اسماعیل احمد

اب سوال یہ ہے کہ کیا وقتِ موجود میاں صاحب بدل گئے ہیں؟ وہ اب سویلین بالادستی کے پرجوش حامی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اور ماضی کی طرح کوئی آلہ کارٹائپ سیاستدان نہیں رہے؟بدقسمتی سے اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ شواہد یہ بتا تے ہیں کہ اپنی پارٹی میں موجود جن شخصیات کے ذریعے میاں نواز شریف فوجی انٹیلی جینشیا المعروف اسٹیبلشمنٹ سے رسم و راہ رکھتے ہیں، وہ شخصیات پوری گرمجوشی کے ساتھ سیاست میں فعال ہیں اور نہ صرف فعال ہیں بلکہ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کے زیرِسایہ اپنا حصہ بقدر ِ جثہ وصول کرنے کی حامی ہیں۔نواز شریف صاحب جس پارٹی کے سربراہ ہیں اس کا تمام تنظیمی ڈھانچہ بھی انہی دو شخصیات کے گرد گھومتا ہے۔ ان میں سے ایک شخصیت پنجاب میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے ضامن سمجھے جانے والے شہباز شریف اور دوسرے چودھری نثار ہیں جو انتخابات کے دنوں میں ن لیگ کی سیاسی حکمت ِ عملی کے کرتا دھرتا سمجھے جاتے ہیں۔ان دونوں شخصیات کی موجودگی اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب جھکاو ہر صورت میاں صاحب کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ "مجھے کیوں نکالا؟" کی تکرار ثابت کرتی ہے کہ میاں صاحب کے لیے سویلین بالادستی سے زیادہ بس وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کا درد اہم ہے جو انہیں ہر کروٹ بدلتے یاد آتی ہے اور یہ کرسی کی طلب ایک بار پھر انہیں کسی نئے این آر او، معاہدہ عمرانی یا کسی اور ایسے ہی نام کی بدولت اس دروازے تک لے جائے گی جو دروازہ پاکستانی اقتدار کی راہداری ہے۔اور میاں صاحب ایسا کریں بھی کیوں نا؟ کہ آپ کے بچوں نےبیرونِ ملک "جائز" اور"حلال" جائیدادیں بھی بنانی ہیں۔ ابھی پکچر باقی ہے میرے دوست!

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!