آگے راستہ خطرناک ہے - عبیداللہ کیہر

صوبہ پنجاب سے صوبہ سندھ میں دو شاہراہوں کے ذریعے داخل ہوا جاسکتا ہے۔ یہ نیشنل ہائی وے اور انڈس ہائی وے ہیں۔ نیشنل ہائی وے دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر صادق آباد سے آتے ہوئے گھوٹکی کے مقام پر سندھ میں داخل ہوتی ہے، جبکہ انڈس ہائی وے دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر راجن پور سے آتے ہوئے کشمور کے مقام پر سندھ میں داخل ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے ان دونوں علاقوں میں امن و امان کی حالت انتہائی مخدوش ہے۔

خصوصاً رات کے وقت ان مقامات سے سندھ میں داخل ہونا بےحد خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ لٹیرے سڑک پر وار دات کرکے اندھیرے میں غائب ہو جاتے ہیں اور ان کے گرفتار ہونے کی کوئی اطلاع شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ یہ علاقے خطرناک ڈاکوؤں، رہزنوں اور اغواء برائے تاوان کے مجرموں کے حوالے سے مشہور ہیں۔ مسافر بسوں، حتیٰ کہ ٹرینوں کو بھی روک کر لوٹنے کے واقعات اکثر پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔

صادق آباد سے آنے والی نیشنل ہائی وے ’’اوباوڑو‘‘ کے مقام پر سندھ میں داخل ہوتی ہے اور پھر ڈہرکی، گھوٹکی، میرپور ماتھیلواور پنو عاقل سے ہوتی ہوئی خیر پور آجاتی ہے۔ اکتوبر2007ء کا مہینہ تھا۔ میں اپنے دوست مسعود کے ساتھ اپنی گاڑی پر اسلام آباد سے کراچی آ رہا تھا۔ سفر کے پہلے مرحلے میں ہم اسلام آباد سے ڈائریکٹ ملتان آگئے تھے۔ رات ہم نے ملتان ہی میں ایک دوست طارق خاکوانی کے ہاں گزاری۔ اگلے دن ہمارا پروگرام صبح سویرے ہی آگے نکلنے کا تھا، تاکہ خیر پور تک کا فاصلہ دن دن ہی میں طے کرلیا جائے۔

احتیاط کا تقاضا بھی یہی تھا کہ ہم سندھ میں دن کی روشنی ہی میں داخل ہو جائیں اور مذکورہ بالا خطرناک علاقوں سے دن ہی دن میں گزر کر خیریت سے خیر پورپہنچ جائیں۔ خیر پور میں اپنے عزیزوں کے ہاں رات گزار کر اگلے دن کراچی روانہ ہونے کا ارادہ تھا۔ لیکن صبح جلدی نکل جانے کی خواہش کے باوجودہمیں ملتان میں خاصی دیر ہوگئی۔

طارق خاکوانی صاحب کی دلچسپ اور باتونی شخصیت، پر تکلف ناشتے، ملتانی سوہن حلوے کی سب سے اچھی دوکان کی تلاش اور گاڑی کی وہیل بیلنسنگ وغیرہ میں ہمیں ملتان میں ہی دوپہر ہوگئی۔ جب ہم خاکوانی صاحب سے رخصت ہوکر شہر سے باہر نکلے تودوپہر کے بارہ بج رہے تھے اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ لودھراں، بہاولپور، احمد پور شرقیہ اور صادق آباد سے گزر کر جب ہم صوبہ سندھ میں داخل ہونے لگے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ جیسے ہی ہم پنجاب پولیس کی سرحدی چیک پوسٹ کے سامنے سے گزرے، ہمیں فوراً روک لیا گیا اور تفتیش شروع کر دی گئی۔ کہاں سے آ رہے ہو، کہاں جا رہے ہو، کاغذات، لائسنس، وہیکل ٹیکس ٹوکن، روڈ انشورنس، شناختی کارڈ وغیرہ وغیرہ۔ بڑی مشکل سے پنجاب پولیس سے چھٹکارا پا کر چند ہی قدم آگے بڑھے تو سندھ پولیس نے روک لیا۔

تفتیش کا سلسلہ پھر سختی کے ساتھ شروع ہوگیا اور ہمارا قصور شاید صرف یہی تھا کہ ہم اس روڈ پر سفر کیوں کر رہے ہیں۔ اللہ اللہ کرکے پولیس والوں سے جان چھڑائی کے ہم سندھ میں داخل ہوئے تو رات کا اندھیرا ماحول کو پوری طرح گرفت میں لے چکا تھا۔ سڑک پر ٹریفک بہت کم تھا، بلکہ کارتو صرف ہماری ہی تھی باقی اکا دکا، بڑے بڑے ٹرک تھے۔ ہم نے آیت الکرسی پڑھ کر سفر شروع کیا اور میں گاڑی کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھانے لگا، مگر ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ ٹول پلازہ آگیا۔ ٹول ٹیکس کے دس روپے دے کر میں نے گاڑی جیسے ہی آگے بڑھانی چاہی تو اس کا اگلا حصہ لڑکھڑانے لگا۔ گاڑی روک کر باہر آیا۔ جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ اگلا بایاں ٹائر پنکچر ہو چکا ہے۔ میں اورمسعود دونوں مل کر جلدی جلدی ٹائر تبدیل کر رہے تھے کہ موٹروے پولیس کی گاڑی ہمارے قریب آکر رکی۔ ایک اہل کار اتر کر آیا اورہم سے رکنے کا سبب پوچھا۔ میں نے بتایا کہ ٹائر پنکچر ہو گیا ہے۔
’’اور تو کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’جی۔ ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ ‘‘ میں نے کہا تو وہ چونکا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’جی رات کا وقت ہے۔ آگے راستہ خطرناک ہے۔ کیا پنکچر والے تک آپ ہمارے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟‘‘ میں نے اپنا مسئلہ بتایا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (13) – احسان کوہاٹی

’’نہیں۔ ہم آپ کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ کیونکہ ہمارے گشت کی حدصرف اس ٹول پلازہ تک ہے۔ ‘‘ وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔ ’’لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔ یہاں سے صرف ایک کلو میٹر دور ایک پیٹرول پمپ ہے۔ وہاں پنکچر لگانے والا بھی ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی گاڑی کی طرف چلاگیا۔ ٹائر تبدیل ہونے کے بعد میں نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔ ایک ڈیڑھ کلو میٹر چلے ہوں گے کہ دائیں ہاتھ پر پیٹرول پمپ اور ٹرک ہوٹل پر مشتمل ایک کمپلیکس آگیا۔ ہم پنکچر شاپ کے سامنے رک گئے۔ پنکچر لگنا شروع ہوگیا۔ ہم اس دوران ہوٹل سے دودھ پتی چائے پیتے ہوئے تھکن اور خوف کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ تھوڑی دیر میں پنکچر لگ گیا۔ ٹائر گاڑی میں رکھ کر ہم دوبارہ سڑک پرچڑھ گئے۔ یہاں سے خیر پور تک تقریباً تین گھنٹے کا فاصلہ تھا اور اُس وقت سات بج رہے تھے۔ رات کے اندھیرے میں صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ ہی اس خطرناک مقام سے بہ خیریت گزر کر منزل تک پہنچنے کی ضمانت تھا۔ پندرہ بیس منٹ بہ مشکل چلے ہوں گے کہ گاڑی پھر لہرانے لگی۔ میں نے اسے سائیڈ میں کیا۔ باہر نکل کر دیکھا اور سر پکڑ لیا۔ اب پچھلا ٹائر پنکچر تھا۔ یا وحشت۔ یہ عجب ماجرا تھا۔ کراچی سے اسلام آباد جاتے وقت کہیں ایک دفعہ بھی پنکچر نہیں ہواتھا، لیکن اب واپسی میں اُس علاقے سے، جہاں سے ہم جلد از جلد نکل جانا چاہتے تھے، پنکچر پر پنکچر ہو رہا تھا۔ خیر جلدی جلدی پھر ٹائر تبدیل کیا اور اس دعا کے ساتھ روانہ ہوئے کہ پنکچر شاپ آنے سے پہلے دوبارہ پنکچر نہ ہو جائے ورنہ آج تو مارے گئے۔ سڑک کے اطراف میں کھڑے درختوں کے کالے کالے سائے اندھیرے میں جن بھوت لگ رہے تھے اور روڈ پر کوئی سائیکل والا بھی نظر آتا تو ہم چونک اٹھتے۔

تھوڑی دیر بعد ایک اور پیٹرول پمپ آگیا جس کے ساتھ پنکچر شاپ بھی تھی۔ ٹائر کھولا گیا تو پتہ چلا کہ ٹیوب ٹکڑے ٹکڑے ہوچکی ہے۔ پنکچر والے کے پاس دوسری ٹیوب بھی نہیں تھی۔

’’اب کیا ہوگا؟‘‘مسعود پریشان ہو گیا۔
’’اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ میرے لہجے میں مایوسی تھی۔ ’’بہتر ہوگا کہ ہم اسپیئر وہیل کے بغیر سفر کرنے کا رسک نہ لیں اور رات یہیں گزار کر صبح اپنا سفر شروع کریں۔ ‘‘
پنکچر والا ہماری گفتگو سن رہا تھا۔ ’’ٹھہرو سائیں میں ایک دفعہ اور دیکھ لیتا ہوں۔ شاید کوئی پرانی ٹیوب پڑی مل جائے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ دکان کے اندر چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی بہ ترکی، احوالِ سفر ترکی - حافظ ساجد اقبال

تھوڑی دیر بعد باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک خستہ سی ٹیوب تھی جس میں کئی پنکچر لگے ہوئے تھے۔ ’’سائیں یہ آپ کے ٹائر میں صحیح فٹ ہو جائے گی۔ گزارے لائق ہے۔ ‘‘ وہ بولا۔ تھوڑی دیر میں اس نے یہ ٹیوب ہمارے ٹائر میں فٹ کر دی۔ ایک سو بیس روپے اس کا معاوضہ دے کر ہم آیت الکرسی پڑھتے ہوئے دوبارہ عازم سفر ہوئے۔ پنوعاقل کے قریب پہنچے ہوں گے کہ سامنے روڈ پر رکاوٹی شہتیر نظر آیا۔ یہ ایک اور پولیس چیک پوسٹ تھی۔ میں نے گاڑی روک دی۔ ایک پولیس والا میری طرف آیا۔

’’جی۔ کدھر سے آرہے ہو؟‘‘ وہ تحکمانہ لہجے میں بولا۔
’’ملتان سے۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’جانا کدھر ہے؟‘‘
’’خیر پور ‘‘
’’رہتے کدھر ہو؟‘‘
’’کراچی‘‘
’’اصل میں کدھر کے رہنے والے ہو؟‘‘
’’جیکب آباد کے۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔ جیکب آباد پر وہ چونکا۔
’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ اب وہ سندھی میں بولا۔
’’عبید اللہ کیہر۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔ وہ کچھ ڈھیلا پڑگیا۔
’’سائیں آپ اچھے آدمی لگتے ہو۔ بس ہماری چوکی کےلیے کچھ خرچہ پانی دے کر جاؤ۔ ‘‘
اس نے میرے سامنے ہاتھ پھیلادیا۔ میں نے مسعود کو اشارہ کیا۔ اس نے دس دس روپے کے دونوٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ بیس روپے دیکھ کر وہ چڑگیا۔ ’’سائیں کیا فقیر سمجھ رکھا ہے۔ ‘‘
وہ ناراضگی سے بولا۔ مسعود نے بیس روپے اٹھا کر پچاس کا نوٹ رکھ دیا۔
’’سائیں سو روپے کا نوٹ دو گے تو آگے جانے دوں گا۔ ‘‘ وہ ضد سے بولا۔

ہم جو اس منحوس راستے، رات کے اندھیرے، دن بھر ڈرائیونگ کی تھکاوٹ اور جلد منزل تک پہنچنے کی شدید خواہش میں مبتلا تھے، اس سے بحث کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ میں نے مسعود کو اشارہ کیا۔ اس نے بڑ بڑاتے ہوئے سو روپیہ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

شہتیر سڑک سے اٹھالیا گیا اور ہم آگے نکل آئے۔ تھوڑا ہی آگے چلے ہوں گے کہ پنو عاقل چھاؤنی کی روشنیاں قریب آگئیں۔ اس رونق کو دیکھ کر اوسان کچھ بحال ہوئے۔ پنو عاقل سے خیر پور تک گھنٹہ بھر کا راستہ رہ جاتا ہے۔ گاڑی جب ہماری منزل ’’اوبڑی‘‘ پہنچی تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میرے عزیز عبدالستار اور عبدالفتاح دونوں گھر سے باہر کھڑے بے چینی اور تشویش کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں بہ خوبی اندازہ تھا کہ گھوٹکی سے خیر پور تک رات میں سفر کیسا ہوتا ہے۔

سوتے وقت مسعود اور میں رائے زنی کرنے لگے کہ اگر ہم ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے راستے بذریعہ انڈس ہائی وے کشمور کے مقام پر سندھ میں داخل ہوتے تو شاید پولیس والے اتنا تنگ نہ کرتے۔ صبح اٹھ کر اخبار پڑھا تو ایک خبر نے چونکا دیا۔ گزشتہ رات کشمور میں انڈس ہائی وے پر مسلح افراد ایک مسافر بس میں سے 9 مسافروں کو اغواء کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے تھے۔ میں نے اورمسعود نے ٹھنڈا سانس لیا اور آئندہ ہمیشہ راضی بہ رضارہنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دن خیر پور سے کراچی تک کے سفر میں کوئی پنکچر نہیں ہوا۔

Comments

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں ۔ مؤقر قومی اخبارات اور رسائل میں بھی لکھتے رہے ہیں ۔ اردو کی پہلی ڈیجیٹل کتاب “دریا دریا وادی وادی” کے مصنف ہیں۔ اس کےعلاوہ 7 کتابیں مزید لکھ چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں