بدحالی سے خوشحالی تک کا ناقابلِ یقین سفر (3)

دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی کی دلچسپ آپ بیتی

ترجمہ و تلخیص: عبدالستارہاشمی


پچھلی قسط یہاں پڑھیں

1973ء میں اپنے کیریئر کے آغاز کے لیے میں انگلینڈ پہنچا تو نئے خوابوں کی تعبیر سے سرشار تھا۔ سارے راستے خواب بُنتا گیا اور یہی خیال تھا کہ انگریزوں کی سرزمین سے اپنا آغاز رنز کے ڈھیر سے کروں گا، لیکن ایئرپورٹ پر اُترا تو ایک ڈراؤنے خواب نے میرا استقبال کیا۔ کسٹم اینڈ ایکسائز والوں نے گھیر لیا اور چند گھنٹوں کے بعد مجھے لگا جیسے مجھے یہاں سے ہی پہلی دستیاب فلائیٹ سے واپس بھجوا دیا جائے گا۔

میرا سپانسر لن کریڈ انگلینڈ کی معروف شخصیت تھی۔ لوگ اسے کرکٹ سے بے پناہ لگاؤ کی وجہ سے جانتے اور عزت دیتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ائیرپورٹ پر رسمی کارروائی کے بعد مجھے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے گی لیکن امیگریشن آفیسر نے پاسپورٹ تھامتے ہی سوال داغ دیا کہ آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں؟ میں نے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ میں یہاں کرکٹ کھیلنے آیا ہوں۔ یہ تو ممکن نہیں تھا کہ امیگریشن آفیسر کرکٹ کے بارے میں نہ جانتا ہو، لیکن اس نے جو پہلا تاثر چھوڑا وہ یہی تھا کہ میری بلا سے کرکٹ کھیلو یا فٹ بال، مجھے تو اپنے فرائض سے غرض ہے۔

میرا جواب سن کر اس نے دستاویزات مانگیں اورساتھ ہی ورک پرمٹ دکھانے کو کہا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں باتھ کی ایک ٹیم جسے لیزڈارن کہتے ہیں، کی طرف سے کھیلنے یہاں پہنچا ہوں، لیکن میں انہیں یہ سمجھانے میں ناکام ر ہا کہ انہوں نے مجھے معاوضے میں کیا دیا اور اس رقم کی ترسیل کیسے ہوئی؟ غالباً اس پر وہ لوگ شک میں پڑگئے اور ذہنی طور پر فیصلہ کرلیا کہ مجھے ڈی پورٹ کر دیا جائے۔

میں ایک بنچ پر بیٹھا تھا۔ پریشانی کے عالم میں میں نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگا۔ میری اس پوزیشن نے مجھے اور بھی مشکوک بنا دیا۔ وہاں سے گزرنے والے مسافر بھی میری پریشانی محسوس کرنے لگے اور بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھتے گئے، جبکہ میں ان کی پروا کیے بغیر یہ سوچ رہا تھا کہ اس طرح واپس جانے سے میری بہت تضحیک ہوگی۔ لوگ کیا سوچیں گے کہ مجھے انگریزوں کے دیس میں داخلے کی اجازت ہی نہ ملی؟ اسی اثنا میں مجھے دوبارہ طلب کیا گیا اور پوچھا گیا کہ جس شخص نے مجھے اسپانسر کیا اور یہاں آنے کی دعوت دی، اس کا نام کیا تھا؟ میری گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے تسلی دی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور جیسے ہی ان کا شک دور ہوگیا، وہ خود مجھے باتھ کی ٹیم کے حوالے کرکے آئیں گے۔ امیگریشن والوں نے لن کریڈ سے رابطہ کر رکھا تھا اور اگلے ہی لمحہ وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ طویل بحث کے بعد مجھے جانے کی اجازت دی گئی لیکن ساتھ ہی تنبیہ کی گئی کہ میں یہاں صرف تین ہفتے قیام کرسکتا ہوں۔ اس سے ایک دن بھی تاخیر قانوناً جرم ہوگی اور پھر بچنا مشکل ہو جائے گا۔

کریڈ کی کار میں سوار ہوتے ہی میں نے پوچھاکہ اس نے یہ مسئلہ کیسے حل کیا اور اس مشکل سے نکلنے کے لیے کیا تدبیر کی تو کریڈ نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’میں نے چیف آفیسر امیگریشن سے کہا تھا کہ آپ مستقبل کے ایک اسٹار کرکٹر کو روک کر اچھا نہیں کر رہے۔ یہ جب جب ریکارڈ بنائے گا، آپ کے اس رویّے کی شکایت ضرور کرے گا۔ آپ اسے واپس بھجوا دیں لیکن ایک دن آپ خوداس سے آٹوگراف لینے کے لیے لائن میں کھڑے ہوں گے۔‘‘ اس پر اس نے ہمیں جانے کی اجازت دے دی۔

یہاں صرف مالی مشکلات کا ہی سامنا نہ تھا۔ یقین کریں میرے پاس تو ڈھنگ کا لباس بھی نہ تھا۔ کھلے گریبان کی شرٹ اور شارٹس تھے جنہیں کم از کم میدان سے باہر تو نہیں پہنا جاسکتا تھا۔

میرے پاس ورک پرمٹ نہ تھا اور سمر سیٹ بھی مجھے یہ دستاویز دینا نہیں چاہتی تھی۔ وہ لوگ دراصل نئے بلّے بازوں پر بھروسہ ہی نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے تو مجھے اخراجات اور معاوضہ دینے سے بھی انکار کردیا۔ یہ تو سمرسیٹ کے وائس چیئرمین کریڈ تھے جنہوں نے مجھے اسپانسر کیا اور میرے اخراجات برداشت کیے۔ ان میں جہاز کا ٹکٹ اور رہائش گاہ کے لیے رقم شامل تھی۔

میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے۔ میں مکمل طور پر گھبرایا ہوا تھا اور میری پریشانی کو ہر کوئی محسوس کر سکتا تھا۔ سمر سیٹ والوں سے تو کوئی امید نہ تھی جبکہ میرے لیے کاؤنٹی کھیلنا ایک خواب تھا۔ میں تو اپنے بلے سمیت لارڈز کے میدان میں داخل ہونا چاہتا تھا تا کہ وہاں کی کرسیوں پر بیٹھے تماشائیوں کی داد سمیٹ سکوں۔ یہاں صرف مالی مشکلات کا ہی سامنا نہ تھا۔ یقین کریں میرے پاس تو ڈھنگ کا لباس بھی نہ تھا۔ کھلے گریبان کی شرٹ اور شارٹس تھے جنہیں کم از کم میدان سے باہر تو نہیں پہنا جاسکتا تھا۔ خوش قسمتی سے انگلینڈ میں میرا ایک دوست قانون کی تعلیم پڑھنے آیا ہوا تھا۔ میں اس سے ملنے گیا تو اس نے اپنا ایک پرانا اوور کوٹ مجھے پہننے کے لیے دے دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس کی تو جیبیں بھی نہ تھیں۔ میں نے یہاں سے ہی ہیٹ پہننا شروع کیا۔ ان دنوں میرے پاؤں کی انگلیوں میں شدید درد ہوتا تھا اور ڈاکٹرکے پاس جانے کے پیسے نہ تھے لہٰذا میں نے ان کا علاج صرف اور صرف چولہے پر ان کو سینک کر کیا۔ میرے پاس جو پیسے ہوتے، انہیں کئی بار گن کر تسلی کیا کرتا تھا کہ ابھی مشکل وقت نہیں آیا۔ صبح منہ اندھیرے آنکھ کھل جاتی تو کروٹ لے کر پھر سو جاتا اور اکثر پریکٹس سیشن کے لیے دیر ہوجاتی۔ سمر سیٹ والے کچھ زیادہ سخت نہیں بولتے تھے، بس تلقین کردی جاتی کہ وقت کی پابندی ضروری ہے۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ کون سا مجھے ادائیگی کرتے تھے۔ بہرحال سمرسیٹ کی طرف سے پہلا میچ کھیلنے کا موقع آہی گیا۔ 26 اپریل 1973ء کو میرا پہلا میچ تھا۔ مخالف ٹیم کو 100 سے کم رنز پر آؤٹ کیا گیا اور میں نے اپنا آغاز شاندار ففٹی سے کیا جس میں دو بڑے چھکے بھی شامل تھے۔

مشکلات تو ہر جگہ ہی ہوتی ہیں لیکن آپ کا ارادہ مصمّم ہو تو پھر یہ مصیبتیں چھوٹی دکھائی دیتی ہیں اور آہستہ آہستہ وقت کی دھول کی نذر ہو جاتی ہیں۔ لیزا ڈارن کلب میں مجھے شاباش دینے والوں میں شینڈی پیرا بھی تھے جن کا تعلق سری لنکا سے تھا اور انہوں نے مجھے انگلش وکٹوں کے بارے میں گراں قدر معلومات دیں اور کئی نصیحتوں سے نوازا۔ پیرا کی اس مہربانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں کچھ ہی دنوں میں رنز کے ڈھیر لگانے لگا۔ انہی دنوں میں ٹاؤن برج کی ٹیم کے خلاف 76 منٹوں میں شاندار سنچری جڑ دی۔ میرے 146 رنز تھے جس میں سات گیندوں پر میں نے چھکے مارے۔ میں سمرسیٹ کی انڈر 25 ٹیم کے لیے جگہ بنانا چاہتا تھا۔ پھر وہ موقع آیا جب سمر سیٹ کا نمائندہ میرے سامنے بیٹھا معاہدے کی شرائط پر بات کر رہا تھا۔ وہ لوگ میرے ساتھ معاہدہ کرنا چاہ رہے تھے اور اس بڑی کامیابی کے پیچھے میری بیٹنگ تھی جو میں نے روایتی حریف گلوسٹر شائر کے خلاف کی تھی۔

میں سوچ رہا تھا کہ لیزا ڈارن کے لیے اسسٹنٹ گراؤنڈ مین کی حیثیت سے معاوضہ فی دن ایک پاؤنڈ تھا اور دو برس بعد ’’گراؤنڈ مین‘‘ کے عہدے پرفائز کرتے ہوئے مجھے 2000 پاؤنڈ معاوضہ کی پیش کش کی گئی تھی۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ میرے ذہن میں معاوضہ اور اجرت تو تھی ہی نہیں۔ سمرسیٹ میں میرا استقبال بھی شاندار رہا۔ میرے ساتھی کھلاڑیوں نے دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا۔

سمرسیٹ سے معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد میں اینٹیگا پہنچا۔ کچھ دن گزار کر واپس پلٹا تو میری رہائش گاہ کا بندوبست گراؤنڈ کے قریب ہی کر دیا گیا تاکہ وقت کی بچت ہو۔ یہاں مجھے جو کمرہ دیا گیا اس میں ڈینس بریک ویل اور ایک نوجوان آل راؤنڈر این بوتھم تھے۔ میں اور این بوتھم نے اسی کمرے میں رہتے ہوئے انڈر 25 ٹیم لیزا ڈاران کے لیے بہت سے میچ کھیلے۔ بوتھم ایک ابھرتا ہوا ہونہار آل راؤنڈر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ گلیمورگن کے خلاف میں نے صفر اسکورکیا اور بوتھم کی سنچری تھی لیکن میں نے آف اسپن باؤلنگ سے 25 رنز کے عوض 5 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ اس پر بوتھم نے کہا، چلو آج سے میں بیٹنگ اور آپ باؤلنگ کیا کریں گے۔ یہاں سے ہی ایئن بوتھم اور میری بے مثال دوستی کی عمارت کی پہلی اینٹ رکھی گئی اور وہ آج تک میرا بہترین دوست ہے۔ ان ابتدائی دنوں میں ٹیم میں سلیکشن کے وقت وہ میرا وکیل ہوتا تھا۔ برائن کلوز جو کہ ہمارا کپتان تھا، کو سمجھانا کوئی آسان کام تھوڑی تھا۔ ان دنوں بوتھم میرا وکیل تھا۔ اس کی وکالت کا نتیجہ یہ نکلا کہ برائن مجھ پر مہربان ہونے لگا۔ وہ مجھے مختلف کاؤنٹی میچز کے لیے لے جانے لگا۔ اگر ہم لوگ یارکشائر ہوتے تو برائن مجھے اپنے گھر لے جاتا اور سارا خاندان میری موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتا۔ کئی مرتبہ دن کھانا کھانے کے بعد میرے لیے سونے کا بندوبست بھی برائن کے گھر ہوتا تھا۔ بوتھم تو دوست تھا لیکن برائن نے ایمانداری سے میری صلاحیتوں کو نکھارنے میں کردار ادا کیا۔ وہ مجھے میرے ٹیلنٹ کے بارے میں بتاتا۔

کرکٹ کے زیادہ تر کپتان بلے باز ہی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کھیل میں بلے بازی کو کچھ فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ حالانکہ گیند بازی کرنا بھی بہت مشکل کام ہے، جس میں سخت محنت کرنی پڑتی ہے لیکن اس میں گلیمر کم ہوتا ہے۔ کرکٹ کے کھیل میں آسٹریلیا کے رکی بینو اور کپل دیو جیسے عظیم گیند باز کپتانوں کا نام ذہن میں آتا ہے۔ (ایئن بوتھم یا عمران خان مختلف زمرے میں آتے ہیں) لیکن اگر سلیکٹر زیادہ تر بلے بازوں کو ترجیح دیتے ہیں تو اس کا ایک سبب ہے اور وہ سبب یہ ہے کہ طویل میچ کی مکمل انتظامیہ میں ایک بلے باز کو بہتر طریقے سے میچ کے پہلے پوائنٹ میں دونوں طرف کے تین یا مساوی پوائنٹ ہونے پر جیتنے کے اعتبار سے بہتر سمجھا جاتا ہے جبکہ کپتان کو محض پانچ روزہ میچ کے دوران اچھی طرح سے پرکھا جاتا ہے۔ 20 مختلف اووروں میں ایک کپتان اسی طرح سے مفید ثابت ہوتا ہے جس طرح سے فٹبال ٹیم کا ایک کپتان ہوتا ہے جو کہ مفید اور موزوں تو ہوتا ہے، لیکن لازمی طور پر نہیں ہوتا ہے۔ جہاں تک ایک روزہ میچ کا سوال ہے تو اس کے لیے ہم ایک اچھی صورت نکال سکتے ہیں کہ ایک کپتان کو ترجیحی طور پر ایک آل راؤنڈر ہونا چاہیے۔

کاؤنٹی کرکٹ میں سب سے یادگار واقعہ یہ تھا کہ ہماری ٹیم نے ناک آؤٹ کیا تو فتح کا جو جشن منایا وہ بہت ہی دل کش اوریاد رکھنے والا تھا۔ پوری ٹیم ڈبل ڈیکر بس کی چھت پر سوار تھی اور وہاں کی گلیاں لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔ کہیں کہیں ہم پر پھول بھی برسائے گئے۔ میں حیران تھا کہ کاؤنٹی کرکٹ سے لوگوں کی دلچسپی اس قدر ہوسکتی ہے؟ ہم لوگ ٹاؤن ہال گئے اور پیٹر نے باقاعدہ سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے جن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا،وہ قابلِ فخر تھا۔ میں نے اس تقریب میں کاؤنٹی اور ٹاؤن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں شکر گزار ہوں یہاں کی دھرتی اور لوگوں کا، جہاں میری پہلی انٹری پر رکاوٹ پڑی۔ ایک پاؤنڈ دیہاڑی سے کام شروع کرنے والے اس مزدور کو اس وقت 15000 پاؤنڈ مل رہے ہیں اور ایسی محبت کہ جس پر فخر کرتا رہوں گا۔

کاؤنٹی کرکٹ میں سفر، میوزک اور کتابیں پڑھنے جیسے مشاغل آپ کو بوریت سے بچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی بات کہ آپ کو دنیا بھر سے اُبھرتے ٹیلنٹ کی صحبت میسر ہوتی ہے۔بعدازاں یہ نوجوان اپنے اپنے ملکوں کا فخر بنتے ہیں۔ میری خوش قسمتی ہے کہ کاؤنٹی کلب میں میری ملاقاتیں عمران خان، ماجد خان، مشتاق محمد، صادق محمد، انتخاب عالم، روہن کہنائی، گلین کرنر، رچرڈ ہیڈلی جیسے بڑے کھلاڑیوں سے ہوئی۔ یہ ملاقاتیں ذاتی حوالے سے بھی ہوئیں اور مختلف میچز میں بطور حریف کھلاڑیوں کی حیثیت سے بھی ٹاکرا رہا۔ ان کھلاڑیوں کی موجودگی میں انگلش کاؤنٹی چیمپیئن شپ جیتنا آپ کو ہواؤں میں لے جاتا ہے اور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ لوگ بھی جیت کی خوشی سے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ کاؤنٹی کرکٹ اسپانسر شپ پر چلتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کھلاڑیوں کو پُرکشش مراعات دی جاتی ہیں۔ ان دنوں ساب ٹربو کار دی جاتی تھی تا کہ پلیئرز انہیں چلاکر مزے اڑائیں۔ ایئن بوتھم کو بھی اسی کار سے نوازا گیا اور اس کار کے حصول کے لیے مقابلے کی فضا بنی اور اس کے بعد میچ اور بھی کانٹے دار ہونے لگے۔ ساب ٹربو کار چلانے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں یہ گاڑی خرید کر اینٹیگا لے جاؤں گا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میں اپنے پیسوں سے گاڑی خرید رہا ہوں اور اس کی قیمت خرید میں کوئی بھی ایسا ٹیکس شامل نہ تھا جو برطانوی حکومت وصول کرتی ہے۔ لیکن حکومت نے اعلان کیا کہ ایسی ٹیکس فری گاڑیاں شہر کی سڑکوں پر نہیں بھگائی جاسکتیں۔ جس نے خریدنی ہے، خریدے اور اپنے ملک میں جا کر چلائے۔ اس پر لوگوں نے مختلف حربے استعمال کرکے اس کو ڈرائیو کرنے کے مزے اٹھانا شروع کیے۔ یہ لوگ نمبر پلیٹیں بدل کر حکام کو دھوکا دینے لگے۔ اس پر میرے جیسے ذمہ دار لوگ حسد کا شکار ہونے لگے۔

ایک روز میں اپنے کمرے میں ہی تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ تھا۔ میں نے دیکھا کہ دو لوگ مخصوص یونیفارم زیبِ تن کیے ڈور بیل دے رہے تھے۔ میں نے بغلی کھڑکی سے جھانکا اور پہلی نظر میں مجھے لگا جیسے کچھ لوگ بھیس بدل کر لوٹنے آئے ہیں۔ پہلے تو میں نے بیس بال کا بلا پکڑ کر ان کی پٹائی کرنے کا سوچا لیکن اگلے ہی لمحے دروازہ کھول کر ان کی آمد کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹیکسیشن کے ملازم ہیں اور ان کے نوٹس میں آیا ہے کہ میں ویوین رچرڈز ایک ایسی گاڑی لے کر گھوم رہا ہوں جو برطانوی سڑکوں پر ٹیکس فری چلانا خلاف قانون ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آپ کی گاڑی ضبط کرلی گئی ہے اور پھر چند کاغذات دے کر چلتے بنے۔ ساتھ میں ٹیلی فون بھی دے دیا کہ مزید معلومات کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ میں نے وکیل کو فون کیا لیکن اس نے ہاتھ اٹھا دیے اور کہا کہ آپ نے قانون توڑا، لہٰذا سزا تو بھگتی ہی پڑے گی۔ یہ سچ بھی تھا۔ مجھے 4 ہزار پاؤنڈ جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ یہ ایک مہنگا سبق تھا جو میں نے پڑھا اور سیکھا۔ چلیں، بچت یہ ہوئی کہ جرمانہ دے کر کار واپس کر دی گئی۔

انہی دنوں سمرسیٹ میں مختلف افواہیں گردش کرتی نظر آئیں۔ میں نے سنا کہ انتظامیہ میری بجائے کسی اور بڑے کھلاڑی کے ساتھ معاہدہ کرنے میں دلچسپی دکھا رہی ہے۔ مجھے یہ سب اچھا نہ لگا۔ اصول کی بات تھی کہ انتظامیہ میرے اور جوئیل گارنر کے پاس آتی، مذاکرات کرتی اور جو بھی کرنا تھا ڈھنگ سے نمٹاتی لیکن ایسا نہ ہوا۔ پہلے تو میں انہیں افواہیں سمجھا لیکن بالآخر یہ سچ ثابت ہوا۔ وہ لوگ مارٹن کرو کو لانا چاہتے تھے۔ مارٹن ایک نفیس انسان تھا۔ مجھے اس کی آمد پر اعتراض نہ تھا لیکن کاؤنٹی کی انتظامیہ کے رویّے پر افسوس تھا۔ ایک دن بعد جوئیل گارنر کمرے میں آیا اور کہنے لگا مجھے تو انہوں نے فارغ کر دیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے، آپ کو گراؤنڈ میں بلایا جارہا ہے۔ میں گراؤنڈ پہنچا تو سب سے پہلی فرمائش یہ کی گئی کہ میں ایک کاغذ پر یہ لکھ کر دستخط کر دوں کہ میں ویوین رچرڈز اپنی مرضی سے کاؤنٹی سے معاہدہ منسوخ کر کے جا رہا ہوں۔ میرا تو دماغ گھوم گیا۔ اس پر میں نے انہیں بتایا کہ میں ایسی کسی دستاویز پر دستخط نہیں کروں گا جو میرا اپنا بیان نہیں۔ ویسے مجھے اس بُرے رویے پر اتنا دکھ نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ دن پہلے جب افواہیں پورے جوبن پر تھیں، میں میدان میں کھیل رہا تھا کہ مارٹن کرو گراؤنڈ میں آئے تو چھٹی حس نے کہہ دیا تھا کہ اب یہاں سے دانہ پانی اٹھ گیا ہے، یہ وقت گزر گیا۔ 1999ء کے ورلڈ کپ کے موقع پر میری خدمات بی بی سی نے مستعار لی ہوئی تھیں۔ ان کے ایک پروگرام میں مجھ سے سوال کیا گیا کہ آپ کو سمرسیٹ نے بلوایا، کیا آپ ان سے کوئی معاہدہ سائن کرنا چاہیں گے؟ جس پر میرا جواب تھا کہ جس مقام اور 'کاز' کے لیے آپ نے خون پسینہ ایک کیا ہو، وہاں سے آپ کو شرمندہ کرکے نکال دیا جائے، میں ایسی جگہ پر جانا پسند نہیں کروں گا۔‘‘

یہ بیان دیتے ہی ان دنوں کا دکھ کھل کر سامنے آیا اور میں ایک بار پھر دکھی ہوگیا۔ لیکن اب وقت گزر چکا ہے اور آج میں کھلاڑیوں کو نصیحت کروں گا کہ پروفیشنل ازم ہی سب سے بڑی خوبی ہے۔ میں نے سمرسیٹ میں اچھا وقت گزارا۔ اس کی فتوحات آج بھی مجھے سرشار کردیتی ہیں اور مجھے اس ضمن میں کوئی شکایت بھی نہیں۔ بلاشبہ یہاں مجھے بہترین دوستوں کا تحفہ ملا ہے۔ ہم لوگ عوام اور تماشائیوں کے لیے ہیرو ہوتے ہیں اور کرکٹ پروفیشن کے طور پر کھیلتے ہیں۔ جو بھی کرنا ہے سب کو ایمانداری سے کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)