گاڈ فادر (5)

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ 'دلیل' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے شکریے کے ساتھ آپ روزانہ اس ناول کو قسط وار ملاحظہ کرسکیں‌گے۔


پچھلی قسط یہاں پڑھیں


آج تمہاری بہن کی شادی ہے، آج بھی لوگ تمہارے والد کے پاس کسی نہ کسی کام سے آئے ہوئے ہیں۔‘‘ کے بولی۔

’’آج تو وہ خاص طور پر آئے ہیں۔ آج کا دن ان کے خیال میں عام دنوں سے زیادہ اچھا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ کوئی بھی روایت پسند اطالوی اپنی بیٹی کی شادی کے دن کسی کی درخواست رد نہیں کرسکتا۔ اور کوئی بھی اطالوی اپنا کام نکالنے کا ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔‘‘ مائیکل نے مسکراتے ہوئے کہا۔

اس دوران ہی لوسی واپس آگئی۔ اس کا چہرہ تمتمایا ہوا تھا۔ وہ دُلہن کے قریب آبیٹھی۔

’’کہاں چلی گئی تھیں تم؟‘‘ کونی نے سرگوشی میں پوچھا۔

’’میں ذرا باتھ روم گئی تھی۔‘‘ لوسی نے عذرلنگ پیش کیا۔ کونی نے گویا حقیقت کا اندازہ کرلینے کے باوجود اس کے عذر کو قبول کرلیا اور نیچی آواز میں بولی: ’’اب کہیں مت جانا۔۔۔ میرے پاس ہی بیٹھی رہنا۔‘‘

’’بس تھوڑی دیر کی بات ہے۔۔۔ پھر تو تمہیں اپنے دُلہا کے سوا کسی کا بھی اپنے پاس بیٹھنا بہت ناگوار گزرے گا۔‘‘ لوسی نے شریر لہجے میں کہا اور دُلہا نے مسکراکر اس کی طرف دیکھا۔

اس دوران بوناسیرا ہیگن کے ساتھ اس کے کمرے میں داخل ہوچکا تھا۔ اس نے ڈان کارلیون کو ایک بڑی سی میز کے عقب میں بیٹھے پایا۔ سنی کھڑکی کے قریب کھڑا باہر دیکھ رہا تھا۔ آج کے دن بوناسیرا وہ پہلا فرد تھا جس کے استقبال کے سلسلے میں ڈان نے خاصی سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ اس نے بوناسیرا سے مصافحہ کیا او رنہ ہی اس کے گلے ملنے کے لیے اپنی جگہ سے اُٹھا۔ بوناسیرا کے لیے اس کے دل میں کوئی خاص دوستانہ جذبات نہیں تھے۔ اسے شادی کی تقریب میں صرف اس لیے مدعو کیا گیا تھا کہ اس کی بیوی سے ڈان کی بیوی کی خاصی دوستی تھی۔

’’میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے اور میری فیملی کو اس تقریب میں بلاکر عزت بخشی اور معذرت خواہ ہوں کہ میری بیوی اور بیٹی تقریب میں نہیں آسکیں۔ میری بیٹی ابھی تک ہسپتال میں ہے۔۔۔‘‘ بونا سیرا نے ہوشیاری سے گفتگو کا آغاز کیا۔

’’تمہاری بیٹی جس المیے کا شکار ہوئی، ہم سب اس کے بارے میں جانتے ہیں۔‘‘ ڈان نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

’’اگر تمہیں اس سلسلے میں کسی مدد کی ضرورت ہے تو کہہ ڈالو، تمہیں مایوسی نہیں ہوگی۔‘‘

بوناسیرا نے سنی اور ہیگن کی طرف دیکھا، پھر ہونٹوں پر زبان پھیرکر بولا: ’’کیا میں آپ سے تخلیے میں بات کرسکتا ہوں؟‘‘

’’نہیں۔۔۔!‘‘ ڈان نے بلاتامل گھمبیر لہجے میں کہا۔ ’’یہ دونوں میرے بازوؤں کی طرح ہیں۔ میری کوئی بات۔۔۔ میرا کوئی معاملہ ان سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ میں انہیں باہر بھیج کر ان کی توہین نہیں کرسکتا۔‘‘

بوناسیرا نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کرلیں، پھر گہری سانس لے کر گویا کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے بولا:

’’میں امریکا میں رچ بس گیا تھا اور اس ملک کو پسند بھی کرتا تھا۔ یہاں مجھے سکون سے زندگی گزارنے کا موقع ملا اور میں نے پیسہ بھی کمایا۔ میں نے اپنی بیٹی کی پرورش امریکی انداز میں کی تھی اور اسے آزادی دے رکھی تھی، تاہم اس نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا، جس سے میرا سر شرم سے جھک جاتا، تاہم اس کا ایک بوائے فرینڈ ضرور تھا، جس کے ساتھ وہ باہر گھومنے پھرنے جاتی تھی۔ وہ لڑکا رشتہ مانگے کبھی ہمارے گھر نہیں آیا۔۔۔‘‘

وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، پھر گویا گفتگو کے نازک موڑ کی طرف آتے ہوئے بولا:

’’ایک روز وہ اس لڑکے کے ساتھ ڈرائیو پر گئی۔ راستے میں لڑکے نے اپنے ایک دوست کو بھی ساتھ لے لیا۔ انہوں نے کسی طرح میری بیٹی کو شراب پینے پر بھی مجبور کردیا اور پھر ویرانے میں اس کی عزت لوٹنے کی کوشش کی۔۔۔ اس نے شدید مزاحمت کی تو انہوں نے مار مارکر اس کا برا حال کردیا۔ اس کا جبڑا بھی توڑڈالا۔۔۔ ناک بھی توڑڈالی۔ اس کے چہرے اور جسم پر نیل پڑگئے۔۔۔ وہ تکلیف سے روتی تھی تو میرا دل بھی خون کے آنسو روتا تھا۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی۔ پھر وہ دھیرے دھیرے رونے لگا۔

ڈان نے گویا بادل نخواستہ ہمدردی اور تاسف سے سر ہلایا۔ اس سے حوصلہ پاکر بوناسیرا شکستہ لہجے میں مزید بولا:

’’میری بیٹی میری آنکھوں کا تارہ تھی۔۔۔ بہت خوبصورت تھی۔۔۔ مگر اب وہ شاید زندگی بھر کے لیے بدصورت ہوجائے۔ انسانوں پر اس کا اعتماد شاید ہمیشہ کے لیے اُٹھ چکا ہے۔ میں ایک اچھے امریکی کی طرح پولیس کے پاس گیا۔ دونوں لڑکے گرفتار بھی ہوئے۔ مقدمہ بھی چلا۔ ان کے خلاف شہادتیں مضبوط تھیں۔ انہوں نے اپنا جرم تسلیم بھی کرلیا۔ جج نے انہیں تین سال کی سزائے قید بھی سنائی، مگر اس پر عملدرآمد معطل رکھا۔ دونوں لڑکے اسی دن رہا بھی ہوگئے اور میں احمقوں کی طرح عدالت میں کھڑا رہ گیا۔ وہ سب فاتحانہ انداز میں میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے رُخصت ہوگئے۔ تب میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ انصاف کے لیے ہم ڈان کارلیون کے پاس جائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (12)

ڈان کا سر گویا بوناسیرا کے دُکھ کے احترام میں جھکا ہوا تھا۔ وہ خاموش ہوا تو ڈان نے سر اُٹھایا اور سرد لہجے میں بولا:

’’تم پولیس کے پاس کیوں گئے؟ اگر تمہیں انصاف چاہیے تھا تو تم پولیس کے پاس جانے کے بجائے میرے پاس کیوں نہیں آگئے؟‘‘

بوناسیرا نے مجرمانہ انداز میں سر جھکالیا۔ ڈان گویا خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے بولا:

’’اتنے برسوں میں تم نے کبھی مجھ سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔۔۔ حالانکہ میری بیوی تمہاری بیوی کی دوست تھی۔ گویا تمہاری بچی کی ’’گاڈ مدر‘‘ تھی، لیکن تم کبھی اس بچی کو ہمارے گھر میں نہیں لائے۔ ہم ایک دوسرے کے بہت پرانے جاننے والے تھے، لیکن تم نے کبھی مجھے چائے کافی پر بھی اپنے گھر مدعو نہیں کیا۔ شاید تمہیں خوف تھا کہ مجھ سے تعلق رکھ کر تم کسی مصیبت میں نہ پھنس جاؤ۔ تم سمجھتے تھے کہ امریکا ایک جنت ہے جہاں تمہاری طرح شرافت سے زندگی گزارنے والوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔۔۔ تمہیں مجھ جیسے دوستوں کی ضرورت نہیں تھی۔ تمہارا خیال تھا کہ ضرورت پڑنے پر انصاف اور تحفظ دلانے کے لیے امریکا کی پولیس اور عدالتیں کافی ہیں۔۔۔ لیکن جب تمہیں وہاں کی منہ کھانا پڑی تو تم میرے پاس آگئے۔ اتنے برسوں بعد تمہیں ڈان کارلیون یاد آگیا۔۔۔ اور اس کے پاس بھی تم دل میں عزت اور احترام کے جذبات لے کر نہیں آئے۔ مجھے پتا چلا ہے کہ تم نے اپنی بیوی سے کہا تھا اگر میں تمہاری مرضی کے مطابق ان لڑکوں کے بارے میں ایسی انتقامی کارروائی کروں جس سے تمہارے دل میں ٹھنڈک پڑجائے تو اس کے لیے تم بھاری رقم بھی خرچ کرنے کو تیار ہو۔ تم ان لڑکوں کو مروانا چاہتے ہو۔ کیا تم مجھے کرائے کا قاتل سمجھتے ہو؟ کیا میں تمہاری نظر میں اتنا چھوٹا آدمی ہوں؟‘‘

’’مم۔۔۔ میں معافی چاہتا ہوں گاڈ فادر!‘‘ بونا سیرا شرمندگی اور گھبراہٹ سے ہکلایا۔

ڈان چند لمحے خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر قدرے نرم لہجے میں بولا: ’’اب مجھ سے کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’میں انصاف چاہتا ہوں۔۔۔ میری بیٹی نے جتنی تکلیف اُٹھائی ہے، کم ازکم اتنی تکلیف تو ان لڑکوں اور ان کے والدین کو بھی پہنچنی چاہیے۔‘‘ بونا سیرا لجاجت سے بولا۔ اس کا چہرہ زرد تھا۔

’’اگر تم انصاف کے لیے پہلے ہی میرے پاس آجاتے تو تمہیں اتنا خوار نہ ہونا پڑتا اور لوگوں کی نظر میں تماشا نہ بننا پڑتا۔ تم انصاف کے لیے ان وکیلوں کے پاس دھکے کھاتے رہے اور ان ججوں کے سامنے گڑگڑاتے رہے جو بکاؤ مال ہیں۔۔۔ اسی طرح تم کاروبار چلانے کے لیے بھی شروع شروع میں ان بینکوں میں بھکاریوں کی طرح چکر لگاتے رہے، جنہوں نے تمہاری ہر چیز کی اچھی طرح چھان پھٹک کرنے کے بعد تمہیں بھاری سود پر قرضہ دیا۔ اگر اس وقت بھی تم نے مجھے اپنایا خود کو میرا دوست سمجھا ہوتا تو میں منہ مانگی رقم تمہارے ہاتھ پر رکھ دیتا۔‘‘ اس نے گہری سانس لی اور بولا:

’’بہرحال! میری بیوی تمہاری بیٹی کی گاڈ مدر ہے۔۔۔ اب جاؤ۔۔۔ تمہیں انصاف مل جائے گا۔‘‘

جب بوناسیرا چلا گیا اور دروازہ اس کے عقب میں بند ہوگیا تو ڈان نے ہیگن کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:

’’یہ معاملہ مینزا کے سپرد کردو۔ اس سے کہنا کہ بھروسے کے آدمیوں سے کام لے جو لہو کی بوُ سونگھ کر زیادہ مستی میں نہ آجائیں اور بہت آگے نہ بڑھ جائیں۔ ہم بہرحال کرائے کے قاتل نہیں ہیں۔‘‘

سنی جو اس دوران کھڑکی سے باہر، باغ کی طرف دیکھ رہا تھا، مڑتے ہوئے بولا: ’’جونی بھی شادی میں شرکت کے لیے آن پہنچا ہے۔ میں نے آپ سے کہا تھا نا۔۔۔ کہ وہ ضرور آئے گا۔‘‘ باہر سے مہمانوں کا شور بھی سنائی دینے لگا تھا۔ شاید کچھ لوگ بہت جوش وخروش سے جونی کا استقبال کررہے تھے۔

ہیگن نے بھی آگے بڑھ کر کھڑکی سے دیکھا، پھر ڈان کی طرف مڑتے ہوئے بولا: ’’واقعی۔۔۔ آپ کا گاڈسن جونی آیا ہے۔۔۔ کیا میں اسے یہاں لے آؤں؟‘‘

’’نہیں۔۔۔‘‘ ڈان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ابھی ذرا لوگوں کو اس سے مل کر خوش ہولینے دو۔ وہ مشہور آدمی ہے۔ لوگ اس سے ملنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔۔۔ وہ بہرحال ایک اچھا ’’گاڈ سن‘‘ بھی ہے، اس موقع پر وہ میرے پاس آنا نہیں بھولا۔۔۔‘‘

ہیگن ذرا چبھتے ہوئے سے لہجے میں بولا:

’’ضروری نہیں کہ وہ خاص طور پر آپ سے ملنے یا شادی میں شرکت کرنے کے لیے آیا ہو۔ دو سال سے اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اب وہ پھر کسی مشکل میں نہ پھنس گیا ہو جس کی وجہ سے اسے آپ کے پاس آنا پڑا ہو۔‘‘

’’ظاہر ہے۔۔۔ مشکل یا مصیبت میں وہ مدد کے لیے اپنے گاڈ فادر کے پاس نہیں آئے گا تو کس کے پاس جائے گا؟‘‘ ڈان نے خوش دلی سے کہا۔


جونی پر سب سے پہلے کونی کی نظر پڑی تھی اور وہ اپنے دُلہن والے تکلفات بالائے طاق رکھتے ہوئے گلا پھاڑکر چلا اُٹھی تھی: ’’جونی۔۔۔!‘‘

جونی سیدھا اس کی طرف آیا۔۔۔ دونوں بے تکلفی سے گلے ملے۔ دُلہا سے بھی اس کا تعارف ہوا۔ چند لمحوں میں جونی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اسی دوران بینڈ اسٹیڈ کی طرف سے آواز آئی: ’’جونی! آج تو ہم سب کو ایک گانا سنادو۔‘‘

اس شناسا آواز پر جونی نے گھوم کر دیکھا۔ وہ اس کا لڑکپن کا ساتھی نینو تھا جو چند لمحے پہلے تک مینڈولین کی دھن پر کوئی نغمہ سنارہا تھا۔ کسی زمانے میں جونی او نینو ہر وقت ساتھ رہتے تھے۔ وہ اکٹھے گاتے تھے۔ اکٹھے محفلوں میں شرکت کرتے تھے۔ لڑکیوں سے ملنے اکٹھے جاتے تھے، لیکن پھر دھیرے دھیرے جونی زندگی کی دوڑ میں، شہرت کے راستوں پر آگے نکل گیا اور نینو پیچھے رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (13)

جونی نے پہلے ریڈیو کے لیے گانا شروع کیا اور جب وہ خاصا مشہور ہوگیا تو اسے گلوکاری کے لیے ہالی ووڈ سے بلاوا آگیا، وہ فلموں کے لیے گانے لگا اور بڑی کمپنیاں اس کے البم بھی تیار کرنے لگیں۔ اس نے ہالی ووڈ سے دو تین مرتبہ نینو کو فون کیا اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ اسے بھی کسی اچھے کلب میں سنگر کے طو رپر کام دلانے کی کوشش کرے گا، یہ وعدہ کبھی پورا نہیں ہوسکا۔

تاہم آج نینو نظر آیا تو جونی اس سے لڑکپن کے اسی پرانے انداز میں گرمجوشی سے ملا۔ اس نے نینو سے مینڈولین لے کر پاؤں زور زور سے چوبی فرش پر مارتے ہوئے دُلہن کے اعزاز میں ایک گانا شروع کردیا۔ نینو اور دیگر بہت سے مہمان اس کا ساتھ دینے لگے۔ مہمان جونی پر فخر محسوس کررہے تھے، وہ گویا ان کا اپنا آدمی تھا جس نے شوبز کی دُنیا میں اتنا نام بنایا تھا۔ وہ صرف گلوکاری کے میدان میں ہی نہیں، اداکاری کے میدان میں بھی اسٹار بن گیا تھا لیکن گاڈ فادر کے احترام میں وہ بھی تین ہزار میل سفر کرکے اس کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے آن پہنچا تھا اور آتے ہی اس نے سماں باندھ دیا تھا۔ فضا کو جوش وخروش، مستی اور موسیقی سے بھردیا تھا۔

آخر کار وہ گاڈ فادر سے ملنے اندر جاپہنچا، ڈان کارلیون نے اسے سینے سے لگاکر اس کا استقبال کیا۔ جونی بولا: ’’جب مجھے شادی کا دعوت نامہ ملا تو اس احساس سے میرا دل باغ باغ ہوگیا کہ میرا گاڈ فادر مجھ سے اب ناراض نہیں ہے۔ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد میں نے پانچ مرتبہ آپ کو فون کیا لیکن ہیگن نے ہر بار مجھے یہی بتایا کہ آپ کہیں گئے ہوئے ہیں، مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں۔‘‘

’’اب میں نے ساری ناراضی بھلادی ہے۔‘‘ ڈان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’اگر اب میں تمہارے لیے کچھ کرسکتا ہوں تو بتادو، ابھی تم اتنے مشہور اور بڑے آدمی نہیں بنے ہو کہ تمہارے لیے کچھ نہ کرسکوں!‘‘

’’میں اب اتنا مشہور اور کامیاب آدمی نہیں رہا، میں بہت تیزی سے نیچے جارہا ہوں۔‘‘ جونی مشروب کا گلاس خالی کرتے ہوئے بولا۔

’’آپ نے ٹھیک کہا تھا کہ مجھے اپنی پہلی بیوی اور بچوں کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، آپ اس بات پر مجھ سے ناراض ہوئے تھے تو ٹھیک ہی ناراض تھے۔ ہالی ووڈ کی جس سپر اسٹار سے میں نے شادی کی وہ کال گرل سے بھی بدتر ثابت ہوئی۔ اس کی صورت فرشتوں جیسی لیکن حرکتیں شیطان کو شرمانے والی ہیں۔ اگر اس کی کوئی فلم کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ اس فلم کے ڈائریکٹر، پرڈیوسر سے لے کر لائٹ مین تک کو اپنے حسن سے فیض یاب ہونے کا موقع دے دیتی ہے اور۔۔۔!‘‘

’’تمہاری سابق بیوی اور بچے کیسے ہیں؟‘‘ ڈان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔

’’میں نے اچھے طریقے سے ان سے علیحدگی اختیار کی تھی۔‘‘ جونی نے جواب دیا۔

’’طلاق کے بعد میں نے انہیں اس سے کہیں زیادہ رقم اور دوسری چیزیں دی تھیں جتنی عدالت نے کہی تھیں۔ ہفتے میں ایک مرتبہ ان سے ملنے بھی جاتا ہوں، لیکن اب مجھے زندگی میں ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔‘‘

اس نے ہیگن سے اپنے لیے مشروب کا ایک اور گلاس بھروایا، ایک گھونٹ بھرنے اور سگریٹ کا ایک کش لینے کے بعد وہ بولا:

’’میری دوسری بیوی مجھ پر ہنستی ہے اور میں اس کی اس بدچلنی پر ناراض ہوتا ہوں تو وہ مجھے قدامت پرست قرار دے کر میرا مذاق اُڑاتی ہے۔ وہ میرے گانوں کا بھی مذاق اُڑاتی ہے۔ ویسے بھی آج کل گلوکاری کے میدان میں بھی مجھے ناکامیوں ہی کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے قسمت کے ساتھ ساتھ آواز بھی مجھ پر مہربان نہیں رہی۔ اب مجھ سے گایا بھی نہیں جاتا۔ میری آواز میرا ساتھ چھوڑگئی ہے۔ آنے سے پہلے بھی بیوی سے میرا جھگڑا ہوا۔ میں نے اس کی پٹائی کی، لیکن اس کے چہرے پر نہیں مارا، کیونکہ ابھی اس کی فلم کی شوٹنگ چل رہی ہے۔‘‘ اس نے ایک آہ بھری اور دردناک لہجے میں بولا: ’’لگتا ہے اب تو زندگی میں کوئی کشش۔۔۔ کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی۔‘‘

’’بھئی۔۔۔! ان معاملات میں تو میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘ ڈان نے ملائمت سے کہا۔

’’جس اسٹوڈیو کی فلموں میں، میں نے کام کیا تھا اب وہ بھی مجھے کاسٹ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسٹوڈیو کا مالک شروع ہی سے مجھ سے جلتا تھا، اب گویا اسے مجھ سے انتقام لینے کا بہترین موقع مل گیا ہے، وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے۔‘‘

’’کیوں؟۔۔۔‘‘ ڈان نے دریافت کیا۔

’’میں نے اس کی ایک خاص محبوبہ کو اس سے چھین لیا تھا، حالانکہ ہمیشہ کے لیے نہیں، صرف چند دنوں کی بات تھی اور وہ خود ہی میرے پیچھے آئی تھی، اب میں بھلا کیا کرتا؟ ایسا لگتا ہے کہ اب تو کوئی بھی مجھے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔ گاڈفادر! میں کیا کروں؟‘‘

’’اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم ازکم مرد تو بنو۔‘‘ ڈان نے سخت ناگواری سے کہا۔

’’یہ عورتوں کی طرح رونا دھونا اور فریاد کرنا تو بند کرو۔‘‘

جونی نے اس کی ڈانٹ کا برا نہیں منایا اور ہنسنے لگا۔ ڈان کو اس کی یہ عادت اچھی لگتی تھی، اس کی اپنی اولاد بھی اس کی ڈانٹ پھٹکار پر کوئی نہ کوئی ناخوشگوار ردِعمل ظاہر کرتی تھی، لیکن جونی ہنس دیتا تھا اور ڈان کی ڈانٹ پھٹکار کو اپنے حق میں بہتر سمجھتا تھا۔

(جاری ہے)