اصل اوجز لذت ایجاد نیست - پروفیسر جمیل چودھری

مغرب نے گزشتہ کئی صدیوں سے محیّر العقول کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں ناقابل یقین ترقی ہوچکی ہے۔ فزکس، کیمسٹری، ریاضی، ارضیات، خلائی اور کائناتی سائنس میں لائبریریاں بھر دی گئی ہیں۔ اسی علم کی بنا پر وہ نئی سے نئی اشیاء تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مختلف شعبہ جات زندگی میں وہ نئے طریقے اور اشیاء بنانے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے دانائے راز نے یہ بتایا ہے کہ نئی اشیاء لذت ایجاد کا نتیجہ ہیں۔

حکمت اشیاء فرنگی زاد نیست
اصل اوجز لذت ایجاد نیست

نئی ایجادات کا تعلق صرف فرنگ سے نہیں ہے بلکہ جو قوم بھی ایجاد کی لذت محسوس کرنے لگ جائے وہ نئی سے نئی اشیاء بناتی چلی جاتی ہے۔ انسان نے گزشتہ 4 صدیوں میں بہت کچھ بنایا ہے۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کام تمام کا تمام مغرب میں ہوا۔ پہلا سادہ سا انجن، سٹیم انجن اور اب آسمانوں میں گرجتے ہوئے ہوائی جہاز اور اس سے بھی آگے دوسرے سیاروں پر اترتی ہوئی گاڑیاں۔ سمندروں کا سینہ چیرتا ہوا انسان میلوں گہرائی تک جا پہنچا۔ کمپیوٹر اور نیٹ کے ذریعے تمام علم انسان کے سامنے پڑی ہوئی چھوٹی سی سکرین پر مرتکز ہوگیا ہے۔ معلومات اتنی اور Up-to-dateکہ کوئی بھی شخص اپنے چھوٹے سے شعبے کے بارے ازبر نہیں کرسکتا۔ چند سالوں بعد انسان کے قدم مریخ کو چھولیں گے۔ انسان کا بنایا ہوا سیارچہ اب ہمارے سولر سسٹم کا فاصلہ طے کرکے آگے کی کائنات میں چلاگیا ہے۔ وہاں سے سگنلز موصول ہورہے ہیں۔ کچھ عرصے بعد ایک خلائی گاڑی دمدار ستارے پر اترے گی اورستارے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی ہوگی۔ دوسری گاڑی دمدار ستارے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی ہوگی۔ یوں انسان دمدار ستاروں کے بارے بہت کچھ معلوم کرے گا۔ توہمات ختم ہوجائیں گے۔ زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور رسل ورسائل کے شعبوں میں ہم ہر وقت نئی سے نئی اشیاء دیکھ رہے ہیں۔

ان باتوں کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام کچھ انسان نے اپنی محنت اورعقل سے کیا ہے۔ اگر کسی بھی قوم میں کچھ نیا کرنے کا شوق پیدا ہو جائے، تخلیقی کام کی طرف توجہ ہوجائے۔ سائنس دان اور دانشور اپنی زندگیوں کو ایسے کاموں کے لیے وقف کردیں تو پھر نئی سے نئی اشیاء بنتی چلی جاتی ہیں۔ نئی ایجادات کا زیادہ ترکام دورجدید میں برطانیہ میں ہوا اور پھر یہ یورپ کے بہت سے ممالک میں پھیل گیا۔ یہیں سے یہ روایت امریکہ پہنچی۔ اوراب یہ نئی دنیا امریکہ، باقی ماندہ دنیا کو حیران کیے ہوئے ہے۔ خلاء کا سفر سب سے پہلے روس سے شروع ہوا اور اب اس دوڑ میں اور بھی ممالک شریک ہوچکے ہیں۔ جاپان تو بہت عرصہ پہلے سے مغرب سے سیکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ جاپانی مصنوعات مغرب پر بازی لے گئی ہیں۔ اب چین بھی اس دوڑ میں بھر پور طریقے سے شامل ہوگیا ہے۔ چین سائنسی تحقیقات پر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف کر رہا ہے۔ اور اب سالانہ Patents کی رجسٹریشن میں وہ برطانیہ، فرانس، روس اور جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ نئی ایجادات میں اب صرف امریکہ اس سے آگے ہے۔

چین میں1995ء کے بعد ریسرچ پیپرز میں21 گنا اضافہ ہوا ہے۔ شعبہ جاتی انجینیئرز کی پیداوار میں اب وہ باقی ماندہ دنیا میں سب سے آگے ہے۔ اقبال کے کہنے کے مطابق نئی اشیاء اور ایجادات بنانا فرنگی الاصل نہیں ہے، جوقوم بھی اس طرف توجہ کرے گی۔ سائنسدان، انجینیئرز اور ماہرین کائنات کے اسرار معلوم کرنا شروع کردیں گے اور انہیں اس کام میں لذت محسوس ہونا شروع ہو جائے گی۔ تو نئی نئی ایجادات شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ کوئی فرنگیوں(یورپ)کا خاصہ نہیں ہے۔ ایسی بات نہیں کہ اشیاء بنانے کا علم صرف انہیں تک محدود ہو، یہ تو ایجاد کی لذت ہے۔ جو قوم بھی یہ لذت Enjoy کرنا شروع کردے گی، اس کے حالات بدلنا شروع ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قابل ِ فخر پاکستانی سائنسدان - فضل ہادی حسن

ایجادات کاکام قدیم چینی تہذیب میں بھی ہوتارہا ہے۔ کاغذ کی ایجاد اور ابتدائی پرنٹنگ پریس یہیں بنے تھے۔ بابلی اور سمیری تہذیبوں میں بھی ٹیکنالوجی آگے بڑھتی رہی۔ قدیم مصر کی تہذیب میں بھی ہمیں بہت سی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی اشیاء ملتی ہیں۔ بات یونان اور روم سے ہوتی ہوئی مسلمانوں تک پہنچی۔ مسلمانوں نے بھی صدیوں تک علوم وفنون میں کارنامے سرانجام دیے۔ سپین، عراق اور تونس کے تعلیمی اداروں کی اس وقت وہی حیثیت تھی جو آجکل برطانیہ اور امریکی یونیورسٹیوں کی ہے۔ مغربی دانشور ہمارے اس علم وفنون کے کام کو تسلیم کرتے ہیں۔ مسلمانوں سے یہ روایت یورپ پہنچی۔ یورپ میں ـ ـ"نشاۃ ثانیہ ـ ـ"کابھی وہی دور تھا۔ یورپ والوں نے اس علمی روایت کوبہت ہی مضبوطی سے پکڑا اور اب تک وہ اسے پکڑے ہوئے ہیں۔ یورپ کی کوششوں سے انسان اندھیروں سے نکلا اور علم کی روشنی میں آگیا۔ اسی علم سے اس نے نہ جانے اب تک کیا کچھ بنا ڈالا ہے۔ پوری دنیا میں اشیاء و ایجادات یورپ سے ہی پہنچی۔

امریکہ یورپ کی توسیع شدہ شکل ہے۔ کرۂ ارض کو تو یورپ اور امریکہ نے مکمل طورپر مسخر کرلیا ہے۔ زندگی کے تمام شعبہ جات میں تفصیلی مطالعہ جات ہوچکے ہیں۔ مادّی علوم کے ساتھ سماجی علوم میں بھی امریکہ اور یورپ نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔ "لذت ایجاد ـ"اور جاننے کا شوق انہیں بہت ہی آگے لے گیا ہے۔ سرخ سیارے یعنی مریخ پر پہنچنا اب اس کی اگلی منزل ہے۔ کائنات کی تسخیر کے شوق میں اب یورپ اور ایشیاء کے بعد اور بھی ممالک شریک ہوچکے ہیں۔ بے شمار نئی نئی اشیاء اب جاپان، جنوبی کوریا اور چین میں تیار کی جارہی ہیں۔ اقبال کی کہی بات درست ثابت ہورہی ہے کہ اشیاء کی حکمت فرنگی الاصل نہیں ہے۔ جو قوم بھی غورحوض، تدبر وتفکر، تحقیق وجستجو میں لگ جائے، وہ نئے سے نئے طریقے اور اشیاء تیار کرتی رہتی ہے۔ جاپان نے بہت عرصہ پہلے جب انگریزوں سے سیکھنا شروع کیا تو وہ بھی یورپ کے برابر آگیا۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہی وہ بہت سی اشیاء تیار کرکے دنیا کو بھیج رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی برآمدات سے امریکی تک پریشان ہوگئے تھے۔ چین اور ایشیاء کے اور بھی ممالک اب ایجادات اور اشیاء سازی میں یورپ کے برابر آگئے ہیں۔

اگر یہ کام کہیں پر بڑے پیمانے پر نہیں ہورہا تو وہ مسلم ممالک ہیں۔ تعداد میں56، کہاجاتا ہے کہ کل آبادی اب1.5ارب سے بھی زیادہ افراد پر مشتمل ہے، معدنی وسائل کی کوئی کمی نہیں لیکن اب تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کا حصہ سائنسی تحقیقات وایجادات میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلمان صدیوں سے سوئے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی بڑی اور اہم شے مسلمان ایجاد نہیں کررہے۔ مسلمانوں میں یہ رواج ہے کہ تیار شدہ اشیاء یورپ، امریکہ، جاپان اور چین سے خریدی جائیں اور کام چلالیا جائے۔ سائنسی تخلیقات کا کچھ کام ترکی اور ایران میں ہوا ہے۔ ملائیشیا نے اپنی چھوٹی بڑی صنعتوں کو جدید بنالیا ہے، برآمدات بڑھا لی ہیں۔ پاکستان نے بھی دفاعی اشیاء میں کچھ کام کیا ہے لیکن جیسے یورپ امریکہ اور جاپان کے لوگ ایجادات کی لذت محسوس کرکے کام میں لگے رہتے ہیں، مسلمان ملکوں میں یہ کلچر نہیں بن سکا۔ وہ ولولہ جو یورپ اور امریکہ کے سائنس دانوں میں ہے، وہ مسلم ممالک کے دانشوروں اور سائنس دانوں میں ناپید ہے۔ کرۂ ارض کے وسط میں واقع یہ ممالک زیادہ تر درآمدات پرہی گزارا کررہے ہیں۔ جاپان جیسے صنعتی ملک مسلم ممالک کے لیے قیمتی صرفی اشیاء کے خصوصی ماڈل بناتے ہیں۔ مالدار لوگ یہ اشیاء دھڑا دھڑخریدتے ہیں اور اپنے کو بڑا محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ذہنی رجحان کی اہمیت - پروفیسر جمیل چودھری

کیا مسلمانوں کے لیے یہی کام رہ گیا ہے کہ ہم دوسروں کی بنائی ہوئی استعمال کرکے فخر محسوس کریں؟ ہم جو آمدنی پیدا کرتے ہیں وہ ایسی اشیاء کی خریداری کے لیے صرف کردیتے ہیں۔ یوں مسلم ممالک کی آمدنی کا رخ امریکہ، یورپ، جاپان اور چین کی طرف ہی رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مسلم ممالک کے لوگوں کے ذہنوں پر "مولوی"چھایا ہوا ہے۔ مولوی نے دماغوں کو جکڑ رکھا ہے۔ عقل و حکمت سے سوچنے کا مجموعی ماحول ان ممالک میں نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں میں بھی سنجیدہ اور آزادانہ غورو خوض کا ماحول نہیں بن پایا۔ ان ملکوں میں ماحول جذباتی اور تصوراتی سا ہے۔ اس بات میں کچھ حقیقت بھی ہے اور زیادہ تر مبالغہ ہے۔ یہ صرف ایکExcuse ہے۔ تخلیقات اور ایجادات کوئی بھی منع نہیں کرتا۔ یہ کام حکومتوں اور پرائیویٹ اداروں کی توجہ سے ہوتا ہے۔ مغرب میں ریاستوں اور معاشرے نے اس کام کی اہمیت کو بہت عرصہ پہلے سمجھ لیا تھا۔ وہاں کے لوگ صدیوں سے اس کام میں جتے ہوئے ہیں۔ مسلمان ممالک میں وسائل کی کمی نہیں ہے۔ انسانی اور مادی وسائل کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ذہین نوجوانوں کو اس کام میں لگانے کی ضرورت ہے۔ اگران میں لذت ایجادپیدا ہوجائے تو یہ بھی کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ منصوبہ بندی سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔ اب قوت نئی ٹیکنالوجیز اور ایجادات میں ہے۔ اب تو ہر شعبہ زندگی میںRobotsنہایت ہی پیچیدہ کام کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومتوں کو تعلیم اور خاص طورپر اعلیٰ تعلیم پر اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ خرچ کرنا چاہیے۔ یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور ورکشاپس میں کام کرنے والے نوجوانوں کو گھریلو اور دوسرے اخراجات کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی لائبریریاں اور لیبارٹریز بھی شاندار ہوں۔ نوجوان یہاں دن رات کام کریں۔ اپنے میں تخلیق کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اور اس میں لذت محسوس کریں۔ کسی نئی شے کی تخلیق میں بعض اوقات زندگی کا بڑا حصہ صرف کرنا پڑتا ہے۔ کچھ دے کر ہی کچھ حاصل ہوتا ہے۔ یہ کام ہر قوم کرسکتی ہے۔ اقبال کی کہی بات کو پھر دہرا لیتے ہیں۔

حکمت اشیاء فرنگی زادنیست
اصل اوجز لذت ایجاد نیست