"مشورے" کا گورکھ دھندا - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

پچھلے دنوں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا. اس میں ایک نام کچھ نیا، بلکہ اجنبی سا لگا. تفصیلات سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ موصوف چیف سلیکٹر انضمام الحق صاحب کے بھانجے بھتیجے ہیں اور قومی ٹیم میں اظہر علی کی جگہ اوپنر کی پوزیشن پر کھیلیں گے.

اس اطلاع پر کچھ صحافیوں کا ماتھا ٹھنکا اور انہوں نے اس بارے میں چیف سلیکٹر صاحب سے براہ راست سوال کر لیا. جواب میں انضمام الحق صاحب نے جو تفصیلات بتائیں ان سے خاصی حد تک یہ اندازہ ہو گیا کہ برخوردار کی کارکردگی کا اصل میدان رشتہ داری ہے کیونکہ جو اعدادوشمار ان کی سلیکشن کی بنیاد بتائے گئے اس سے کہیں بہتر ریکارڈ والے جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں. انضمام الحق نے مزید بتایا کہ اس پر کپتان اور کوچ سے طویل مشورہ ہوا اور بالآخر وہ بھی مان گئے. گویا چیف سلیکٹر کے سامنے کپتان کوئی اور مشورہ بھی دے سکتا تھا. مشورے کا یہ روپ بھی ایک الگ ہی شے ہے، جنرل ضیاء مرحوم کے ریفرنڈم کی طرح. جنرل صاحب کے مشیروں نے ریفرنڈم کا مرکزی سوال ہی کچھ ایسا رکھا کہ کسی بھی مسلم معاشرے میں اس کا جواب یا تو "ہاں" ہو سکتا تھا اور یا پھر "ہُوں"، "نہ" کی اس میں کوئی گنجائش نہیں تھی. اب ایک ریفرنڈم کی خاطر کون اپنے ایمان کو داؤ پر لگاتا. یہی حال چیف سلامت اور کپتان کے مشورے کا ہوگا.

کبھی تو دل چاہتا ہے کہ آفرین جائیں ان فرنگیوں کے جنہوں نے رضاکارانہ اپنے اقتدار اور اختیار کی قربانی دی تاکہ ان کی اقوام سربلند رہنے کا راز پا جائیں. بڑی بات یہ کہ انہوں نے ایسا ان ادوار میں کیا جب کوئی میڈیا، سوشل میڈیا یا احتساب ان کی ٹوہ میں نہیں تھا. ایک ہم ہیں کہ اقرباء پروری کے لیے بلاجھجک گپ لگا دیتے ہیں، جبکہ مقابل ہر قسم کا ریکارڈ اور معلومات ایک لحظہ میں انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتا ہے. انضمام الحق جس جماعت سے وابستہ ہیں، وہاں "مشورے" کا بہت اہتمام کیا جاتا ہے ۔ امید ہے یہ بھی سیکھ ہی جائیں گے کہ مشورہ کیا ہوتا ہے اور اہم ذمہ داری پر مقرر شخص کو کیسے اپنے "حق" کی قربانی دینا ہوتی ہے چہ جائیکہ امام الحق جیسے مشورے کی ضرورت پڑ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی تو مہنگائی کی نذر ہوگئی - عابد محمود عزام

مشاورت تو ایک اور بھی ہوئی، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر جناب خورشید شاہ صاحب کے مابین۔ معاملہ تھا چئیرمین نیب کی تعیناتی کا۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا نام فائنل ہو گیا۔ جب محترم شاہ صاحب چہرے پر بناسپتی قسم کی بردباری سجائے صحافیوں کو جسٹس صاحب کے محاسن گنوا رہے تھے تو صحافیوں کے چہرے کچھ اور ہی کہانی سا رہے تھے۔ ایک دوست نے کہا کہ یہ محاسن خورشید شاہ صاحب کو اس لیے نظر آئے کیونکہ وہ خود بھی اسی میرٹ پر اپوزیشن لیڈر ہیں۔ میں نے پوچھا "وہ کیا میرٹ ہے؟'' فرمانے لگے بس یہ کہ بندہ "اعزاز" کے بجائے صرف "اعزازیہ" پر نظر رکھے اور باقی سب اللہ اللہ خیر سلا۔ پھر ہنس کر کہنے لگے... دوسرا کام یہ ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے بطور چیئرمین نیب اب کوئی ہما شما نہیں بلکہ ایک برادر جج ہے۔ برادر بزرگ جج !!! اسے اس طرح نہیں کھینچا جا سکتا جو سابقہ چئیرمین حضرات کا مقدر رہا۔ اس پر ساتھ بیٹھے ایک اور دوست نے لقمہ دیا کہ آپ لوگ تو ہیں ہی ناشکرے۔ اس انتخاب میں دیدہ بینا والوں کے لیے شکر کا بھی مارجن رکھا ہے مشورہ کرنے والوں نے۔ پوچھا گیا وہ کیا؟ کہنے لگے اس سے ملتا جلتا میرٹ رکھنے والے جسٹس فقیر کھوکھر بھی موجود تھے خورشید شاہ صاحب کی لسٹ میں۔ ان کی تقرری بھی ہو سکتی تھی۔ یقین جانیے اس پر واقعی سبھی نے بہت سا شکر ادا کیا۔

تفنن برطرف، ہم ایک عجیب مخمصے میں پھنس چکے ہیں، بلکہ یہ کہیے کہ دھنس چکے ہیں جہاں تقرریاں محض شطرنج کی چال بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ بھی کیا کام ہوا کہ تمام امور چھوڑ کر ہر وقت ٹانگوں پر لگانے کو گریس ہی ڈھونڈتے رہیں تاکہ ٹانگیں کھینچنے والوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل باجوہ کے اگلے تین سال - سید طلعت حسین

اب مریم نواز شریف کی سنیے، کہتی ہیں یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔ اس نقطہ کو آہستہ آہستہ ن لیگ نے اپنا انتخابی منشور بنا لیا ہے۔ سیاست دان کے لیے اس قسم کی صورتحال اللہ دے اور بندہ لے کے مترادف ہوتی ہے جہاں اسے جوابدہی سے خلاصی مل جائے اور وہ سوالی بن کر عوام کے سامنے دہائی دیتا رہے۔ دیکھ لیجیے اب حکومتی پرفارمنس کا سوال کہاں باقی رہا؟ اگر کارکردگی کی بات ہوگی بھی تو اضافی طور پر، اصل مسئلہ اب یہ مقدمات بنتے جا رہے ہیں۔ عمران خان سے زیادہ میڈیا اسپیس اس وقت نواز شریف اور ان کے خاندان کے پاس ہے۔

خان صاحب کو کافی محنت کرنا پڑتی ہے چند منٹ کی پروجیکشن کے لیے۔ اب سے چھ ماہ پہلے یہ بات نہیں تھی۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو خدشہ ہے 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان چراغ رخ زیبا لے کر اس کو ڈھونڈا کریں گے جس نے انہیں پانامہ پر ہنگامہ کا مشورہ دیا !

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.